چین میں دوبارہ کورونا کیسزلیکن اس بار وائرس کہاں سے آیا؟ خبرآگئی

چین میں دوبارہ کورونا کیسزلیکن اس بار وائرس کہاں سے آیا؟ خبرآگئی
چین میں دوبارہ کورونا کیسزلیکن اس بار وائرس کہاں سے آیا؟ خبرآگئی

  

بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن) چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کورونا وائرس کی تازہ ترین لہر نے دنیا بھرمیں تشویش پیدا کی ہے تاہم چینی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس بار یہ وائرس یورپ سے آیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق چینی حکام نے بیجنگ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ڈیٹا جاری کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی یورپ میں پھیلنے والے وائرس سے مماثلت پائی جاتی ہے۔

دباؤ کے نتیجے میں چین نے یہ ڈیٹا عالمی ادارہ صحت کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

کئی ماہ بعد چین نے اپنے دارالحکومت بیجنگ میں کورونا وائرس کے 200 متاثرین کی تصدیق کی ہے اور اس وائرس سے متعلق ڈیٹا بھی شیئر کیا ہے۔

اس وائرس کی لہرکے بعد لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔ چینی حکام کے مطابق وائرس کی یہ لہر ایک تھوک مارکیٹ سے آئی۔

سائنسدان اس وائرس سے متعلق کوئی نتیجہ نکالنے سے متعلق بہت محتاط ہیں۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی کے شعبہ پبلک ہیلتھ کے پروفیسر بین کولنگ نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ یہ وائرس ووہان سے یورپ اور پھر وہاں سے واپس بیجنگ آیا۔

خیال رہے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کورونا کی دوسری لہر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وہاں مارکیٹ اور دیگر علاقوں کو عارضی طور پر سیل کر دیا گیا ہے جہاں سے وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے جبکل دوسری جانب یورپ میں بڑے پیمانے پر سماجی پابندیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے جبکہ آسٹریلیا کے لاک ڈاؤن میں بھی مزید نرمی لائی گئی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -