"کورونا کی علامت ظاہر ہونے پر ہسپتالوں میں آنے کی بجائے اپنے آپ کو گھروں میں آئیسولیٹ کر لیں" طبی ماہرین یہ مشورہ دینے پر کیوں مجبور ہوئے؟ پریشان کن خبر

"کورونا کی علامت ظاہر ہونے پر ہسپتالوں میں آنے کی بجائے اپنے آپ کو گھروں میں ...

  

لاہور(لیاقت کھرل) کورونا کے پھیلاؤ میں مزید سنگینی آنا شروع ہو گئی ہے جس پرکورونا کے مریضوں کی تعداد میں 200 فیصد تک اضافہ ہو کر رہ گیا ہے اور ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہونے پر پاکستانی طبی ماہرین نے کورونا کے مریضوں کو مشورہ دیا کہ وہ کورونا کی علامت ظاہر ہونے پر ہسپتالوں میں آنے کی بجائے اپنے آپ کو گھروں میں آئیسولیٹ کر لیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیچنگ ہسپتالوں سمیت پرائیویٹ ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہو کر رہ گئی ہے اور آئی سی یو سمیت ہائی پینڈینسی یونٹس کے بستر بھی بھر گئے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب کے ہسپتالوں میں 540وینٹی لیٹرز مخصوص۔کیے گئے تھے اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریش سنٹر کی جانب سے وینٹی لیٹر مزید مل چکے ہیں لیکن اس کے باوجودپنجاب کے ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہو کر رہ گئی ہے اور اس وقت 93فیصد وینٹی لیٹرز پر مریض ہیں۔لاہور میں گزشتہ 94روز کے دوران 419 اموات ،ہو چکی ہیں جبکہ کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 30،ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔واپڈا ۔ لیسکو۔ریلوے۔سوئی گیس کمپنی۔محکمہ لیبر سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ ۔ محکمہ پولیس اور محکمہ صحت سمیت کوئی بھی ادارہ نہیں بچ سکا ہے جہاں اس جان لیوا وبائی مرض نے حملہ نہ کیا یو۔ کوارٹر میں کورونا پہنچ گیا۔۔واپڈا ہاؤس اور لیسکو ہیڈ کوارٹر 21جون تک بند کیا گیا ہے۔

ریلوے کے وزیر شیخ محمد رشیدم ریلوے کے پارلیمانی سیکرٹری فرخ حبیب سمیت 100کے قریب ریلوے کے افسران اور اہلکاروں میں کورونا کی تصدیق پائی گئی ہے جبکہ ریلوے کے دو افسران سمیت پانچ ملازمین کورو نا کے باعث جابحق ہو چکے ہیں۔لاہور کے ہسپتالوں کوٹ خواجہ سعید ہسپتال۔جناح ہسپتال۔سروسز ہسپتال میں 93فیصد بیڈ اکوپاہیڈ۔ ہیں۔۔771مریض لاہور کے ہسپتالوں میں داخل ہیں۔141وینٹی لیٹرز پر ہیں۔200سے زائد مریض ہسپتالوں کےآئی سی یو میں داخل ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ میں مزید سنگینی آنا شروع ہو گئی ہے۔جس کی بنیادی وجہ ماسک کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔جبکہ مارکیٹوں اور بازاروں میں سماجی فاصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومتی ایس او پیز کی مکمل طورپر خلاف ورزی کی جاری ہے۔جس پر حکومت نے مجبور ہو کر لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں مخصوص علاقوں کو سیل کررکھا ہے۔اس سے گزشتہ تین چار روز میں کورونا میں مبتلا ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کی بجائے کمی واقع ہونا شروع ہو گئی ہے۔

طبی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اب ہسپتالوں میں چونکہ گنجائش بھی کم ہے اس لئے شہریوں کو چاہئے کہ وہ کورونا کی علامت ظاہر ہونے پر ہسپتالوں کا رخ نہ کریں اور ہسپتالوں میں آنے کی بجائے اپنے گھروں میں ہی اپنے آپ کو قرنطینہ کر لیں اور اس میں احتیاط کریں صرف ایک ہفتہ سے دس بارہ روز تک گھروں میں اپنے آپ کو مکمل طورپر محفوظ رکھنے سے کورونا جیسی موذی مرض کو شکست دی جاسکتی ہے۔جبکہ طبی ماہرین کے اس۔مشورے پر شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ کر رہ گئی ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ڈاکٹرز ہی کہتے تھے کہ کورونا کی تصدیق ہونے پر ہسپتالوں میں داخل ہو جائیں اب کہتے ہیں کہ ہسپتالوں میں گنجائش نہیں ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ طبی ماہرین کا مشورہ مانیں یا کہ کسی اور کی تجویز پر عمل کریں حکومت نے تو عجیب سے مسئلہ سے دو چار کر کے رکھ دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف کورونا۔کے وار میں تیزی آرہی ہے تو دوسری جانب حکومت نے کورونا سے متاثرہ افراد کے ہ لیۓسرکاری ہسپتالوں میں گنجائش کا بہانہ بنا کر داخلہ بند کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جوکہ زیادتی ہے اس سے۔پرائیویٹ ہسپتالوں میں لوٹ مار کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اس پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کو نوٹس لینا چاہیے۔ اور ہسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش بڑھانے کے لیے اقدامات کرنےکا حکم دینا چاہیے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -کورونا وائرس -