دل اور شوگر کے مرض میں مبتلا سینئر صحافی سہیل وڑائچ کورونا سے صحت یاب لیکن کیا علامات ظاہر ہوئیں اور قرنطینہ کیسا رہا ؟ویڈیو پیغام جاری کر دیا

دل اور شوگر کے مرض میں مبتلا سینئر صحافی سہیل وڑائچ کورونا سے صحت یاب لیکن ...
دل اور شوگر کے مرض میں مبتلا سینئر صحافی سہیل وڑائچ کورونا سے صحت یاب لیکن کیا علامات ظاہر ہوئیں اور قرنطینہ کیسا رہا ؟ویڈیو پیغام جاری کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی سہیل وڑائچ کورونا وائرس سے صحت یاب ہوگئے ہیں اور ان کا ٹیسٹ بھی منفی آ گیاہے تاہم انہوں نے قرنطینہ کے دوران ظاہر ہونے والی علامات اور وقت گزاری کیلئے کیے جانے والے عمل پر مشتمل ویڈیو پیغام جاری کر دیاہے جو کہ وائرس میں مبتلا افراد کی حوصلہ افزائی میں مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ وبا پھوٹی تو ہر شخص کی طرح میں نے بھی چہرے پر ماسک لگانا شروع کر دیا اور گھر سے باہر جاتے ہوئے دستانوں کا ستعمال شروع کر دیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کوشش کی کہ سوشل ڈسٹنسنگ رکھی جائے ، کم لوگوں سے ملا جائے اور کم ہجوم والی جگہوں پر جایا جائے ۔

ان کا کہناتھا کہ لیکن عید کے دنوں میں کچھ لوگ گھر پر ملاقات کیلئے آئے اور وہیں پر ممکنہ طور پر کوئی بے احتیاطی ہو گئی ، ان سے ملاقات کرتے ہوئے شائد مجھے بھی کورونا ہو گیا ، پہلے تو پتا نہیں چلا کیونکہ مجھے ہر روز صبح کے وقت زکام ہوتاہے لیکن وہ دس سے پندرہ منٹ کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ لیکن عید کے چوتھے یا غالباً پانچویں دن جو زکام ہوا وہ ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور پھر وہ زکام ’فلو‘ میں تبدیل ہو گیا مجھے چھینکیں آنا شروع ہو گئیں ، زکام اتنا زیادہ تھا کہ ہر وقت ناک بہتا رہتا تھا ، میں اس سے بھی پریشان نہیں ہوا اور سمجھا کہ شائد روٹین والا نزلہ ہے پھر اچانک میرے گلے میں دردشروع ہوا تو مجھے لگا کہ یہ تو کورونا کی نشانی ہے پھر دو دن گزرنے پر مجھے تو باقاعدہ بخار ہونا شروع ہو گیا ۔

سہیل وڑائچ نے بتایا کہ اوائل میں مجھے 99 ، پھر 98 اور پھر بخار100 تک جا پہنچا ، جب بخار ہوا تو مجھے یوں لگا کہ لازمی طور پر مجھے کورونا وائرس ہو گیاہے اور اسی دن میں نے ٹیسٹ کروایا جو کہ مثبت آ گیا تاہم بخار تین سے چار دن بعد اتر گیا ۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی مجھے تصدیق ہوئی کہ کورونا ہے تو میں فوری ” آکسی میٹر “ لے آیا اور روزانہ اس سے اپنی آکسیجن کی مقدار جانچتا تھا ، بہر حال میری سانس تو خراب نہیں ہوئی اور جو علامات تھیں وہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہو گئیں ، ابھی جب میں نے پانچ دن قبل جو ٹیسٹ کروایا وہ منفی آ گیاہے ۔

سینئر صحافی نے بتایا کہ میں قرنطینہ کے دوران کتابیں پڑھتا رہا جو کہ میں بہت عرصہ پہلے لے کر آیا تھا لیکن انہیں پڑھنے کا وقت نہ مل پایا ، میں نے اپنا زیادہ وقت لکھنے اور پڑھنے میں گزارا اور مکمل آرام کیا ، قرنطینہ کے دوران گھروں والوں سے سماجی فاصلہ بھی برقرار رکھا تاہم مناسب فاصلہ رکھ کر گپ شپ ہوجایا کرتی تھی جبکہ رات کا کھانا ہم باہر لان میں کھایا کرتے تھے ۔

سہیل وڑائچ نے اپنی گفتگو کے اختتام پر بتایا کہ شروع میں تو مجھے بہت خوف آیا لیکن آہستہ آہستہ اس پر فتح حاصل ہونا شروع ہو گئی ، مجھے دل کی تکلیف بھی ہے اور شوگر بھی ہے تو یوں میں کورونا کیلئے اچھا شکار تھا لیکن صحت یابی ہوئی اور مجھے یقین ہے کہ انشاءاللہ میرے جیسے بہت سے لوگ کورونا کو شکست دیں گے ۔

مزید :

قومی -