پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد1لاکھ 60ہزار مگروائرس کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کی تعداد کتنی ہے؟

پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد1لاکھ 60ہزار مگروائرس کا علاج کرنے والے ...
پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد1لاکھ 60ہزار مگروائرس کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کی تعداد کتنی ہے؟

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں سارک کی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر،  کامن ویلتھ میڈیکل ٹرسٹ ہیلتھ انیشییٹیو پاکستان کے ڈائریکٹر اور صحت عامہ کے اہم عہدیدار ڈاکٹر عمر ایوب کہتے ہیں کہ پاکستان میں رجسٹرڈ ڈاکٹر ایک لاکھ پچاس ہزار ہیں مگر ایسے ڈاکٹرز جو کورونا کا علاج کرسکیں ان کی تعداد بیس ہزار ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  سندھ میں کلسٹر سیمپلنگ کے ذریعے جو اعداد و شمار سامنے آئے ان کی بنیاد پر ایک روز پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ اب لاک ڈاؤن کے سوا چارہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر عمر ایوب نے کہا کہ لوگ لاک ڈاؤن کی پرواہ نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 17 جون تک ملک میں مریضوں کی کل تعداد ایک لاکھ 56 ہزار سے زیادہ تھی اور ابھی اور مریض آ رہے ہیں۔ اس لئے لاک ڈاؤن کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔

ڈاکٹر عمر ایوب کہتے ہیں کہ اس وقت جو پالیسی چل رہی ہے اس کے تحت پانچ روز تک شام سات بجے تک کام کرنے، سوشل ڈسٹنسنگ اور ماسک پہننے کی بات کی گئی ہے مگر مریضوں کی تعداد اگر ایک لاکھ ساٹھ ہزار تک پہنچ رہی ہے تو اتنی تو ہماری اہلیت ہی نہیں ہے، ہمارے پاس اتنے ڈاکٹر ہی نہیں ہیں۔ پاکستان میں ایک لاکھ پچاس ہزار رجسٹرڈ ڈاکٹرز ہیں بھی تو سب کرونا کے مریضوں کا علاج کرنے کی تربیت نہیں رکھتے۔ ان کی تعداد صرف بیس ہزار کے قریب ہے۔ اور ان میں بھی انٹینسیو کیئر ڈاکٹر چار پانچ ہزار بھی نہیں ہیں تو ہم تیزی سے اس جانب جا رہے ہیں جو اٹلی کی صورتِ حال تھی۔

مزید :

قومی -کورونا وائرس -