جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ ، سینئر صحافی حامد میر حکومتی وکیل ” فروغ نسیم “ پر برس پڑے ، سیدھے ہو گئے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ ، سینئر صحافی حامد میر حکومتی وکیل ” فروغ ...
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ ، سینئر صحافی حامد میر حکومتی وکیل ” فروغ نسیم “ پر برس پڑے ، سیدھے ہو گئے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیدیا ہے جس کے بعد ٹویٹر پر پیغامات کی بھرمار ہو گئی ، صحافیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی صارفین بھی کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر اس وقت ” جسٹس قاضی فائز عیسیٰ “ ٹاپ ٹرینڈ بن گیاہے تاہم فیصلہ آنے پر سینئر صحافی حامد میر نے کھل کر گفتگو کرنا شروع کر دی ہے او ر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے حکومتی وکیل فروغ نسیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔

سینئر صھافی حامد میر کا اپنے ٹویٹ میں کہناتھا کہ ”سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیدیا 46 سماعتوں کے بعد آخری فتح آئین و قانون کی ہوئی، فروغ نسیم پہلے پرویز مشرف کا وکیل تھا پھر عمران خان کا وزیر بن گیا اور غلط مشورے دیکر تبدیلی کے علمبردار کا نام خراب کیا۔“

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس مسترد کر دیا ہے,جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی کارروائی روکنے کی استدعا منظور کرلی گئی جبکہ جسٹس قاضی فائز کیخلاف شوکازنوٹس بھی واپس لے لیا گیا,جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دینا کا فیصلہ 10 ججز کاہے تاہم دیگر 3 جج صاحبان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کوقابل سماعت قراردیاہے۔

عدالت نے مختصر حکم نامے میں ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ وہ سات روز کے اندر فاضل جسٹس کی اہلیہ کو نوٹس جاری کریں، ایف بی آر کے نوٹس جج کی سرکاری رہائش گاہ پر ارسال کیے جائیں، عدالت انکم ٹیکس کمشنر فریقین کو موقع دے، تاکہ وہ جواب دے سکیں اور فائنڈنگز جمع کرائی جائیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ ایف بی آر حکام فیصلہ کرکے رجسٹرار سپریم کورٹ کو آگاہ کریں،ہر پراپرٹی کا الگ سے نوٹس جاری کیا جائے،انکم ٹیکس 60 روز میں اس کا فیصلہ کرے، عدالت اگر قانون کے مطابق کارروائی بنتی ہو تو جوڈیشل کونسل کارروائی کی مجاز ہوگی، چیئرمین ایف بی آر خود رپورٹ پر دستخط کرکے رجسٹرار کو جمع کرائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق مقبول باقر منصور علی شاہ آفریدی نے اضافی نوٹ لکھا جبکہ یحیٰ آفریدی نے جسٹس قاضی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دی۔ دس رکنی بینچ میں سے سات ججوں نے اکثریتی فیصلہ دیا۔

مزید :

قومی -