لڈن جعفری کی اصل کہانی کیا ہے؟ حقیقت جان کر آپ کبھی مذاق نہ اُڑائیں گے

لڈن جعفری کی اصل کہانی کیا ہے؟ حقیقت جان کر آپ کبھی مذاق نہ اُڑائیں گے
لڈن جعفری کی اصل کہانی کیا ہے؟ حقیقت جان کر آپ کبھی مذاق نہ اُڑائیں گے

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف عالم دین علامہ ضمیر اختر نقوی کی پہلی ویڈیو سے لے کر اب تک، ان کی بے شمار ویڈیوز آ چکی ہیں جن کی بنیاد پر انٹرنیٹ صارفین ان کا تمسخر اڑاتے ہیں اور انہیں بھانت بھانت کے ناموں سے پکارتے ہیں۔ ان کی پہلی جو ویڈیو وائرل ہوئی اس میں وہ بتاتے ہیں کہ نیپال کے جنگلوں میں لوگ جاتے اور خود کو قتل کر لیتے ہیں اور پھر شام کو وہ زندہ ہو کر واپس آ جاتے ہیں۔ اس ایک ویڈیو کے بعد ہی انٹرنٹ پر ان کا بہت مذاق اڑایا گیا۔ پھر انہوں نے ایک ویڈیو میں لڈن جعفری نامی شخص کی کہانی سنائی جو کربلا میں مر کر زندہ ہو گیا تھا۔ اب لوگ ان کی اس کہانی کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن لڈن جعفری کی اصل کہانی کیا ہے؟ جو شخص جان لے وہ کبھی بھی اس کا تمسخر اڑانے کی جرا¿ت نہ کرے۔

ویب سائٹ مینگوباز کے مطابق لڈن جعفری حقیقت میں ایک شخص تھا جس کا انتقال 2011ءمیں ہوا۔ آج جب انٹرنیٹ پر لوگ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں تو اس کے خاندان کے لوگوں کی انتہائی دل آزاری ہو رہی ہے۔ لڈن جعفری کے پوتے مرتضیٰ عباس جعفری نے کا کہنا ہے کہ لڈن جعفری کے متعلق لوگوں کے لطیفے اور مذاق ان کے دادا کی تشخص کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ لوگ جانتے ہی نہیں کہ وہ کون تھے اور ان کی کہانی کیا ہے؟ لڈن جعفری کا اصل نام سید غلام عباس جعفری تھا اور وہ 1920ءمیں بھارتی شہر امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین کے ہاں شادی کے کئی سال بعد تک اولاد نہ ہوئی تھی اور بڑی منتوں سے لڈن جعفری پیدا ہوئے۔ 1923ءمیں ان کی والدہ انہیں کربلا لے کر گئی تاکہ وہ وہاں جا کر اس کی درازی عمر کی دعا مانگ سکیں۔

کربلا میں ایک روز 3سالہ لڈن جعفری گر گئے اور ان کا ایک دانت ٹوٹ گیا۔ شاید اسی وجہ سے لڈن جعفری بے ہوش ہو گئے۔ کئی گھنٹے بے ہوش رہنے کے بعد رات کو وہ ہوش میں آ گئے اور بھلے چنگے چلنے پھرنے لگے۔ ان کے بے ہوش ہونے کے بعد ان کی والدہ اور وہاں موجود دیگر لوگ انہیں مردہ سمجھ کر رو دھو بیٹھے تھے اور جب وہ واپس ہوش میں آئے تو اکثر لوگ اسے معجزہ قرار دینے لگے اور کہنے لگے کہ لڈن جعفری مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوئے ہیں۔ ہمارا خاندان آج بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ واقعی کوئی معجزہ تھا یا وہ بے ہوش ہوئے تھے اور انہیں غلطی سے مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔ تاہم علامہ ضمیر اختر نے ہمارے دادا کی کہانی جس طرح لوگوں کو سنا کر دوبارہ زندہ کر دی ہے، وہ ہمیں بالکل بھی اچھا نہیں لگا۔ اس پر لوگ جس طرح کے لطیفے گھڑ رہے ہیں اور لڈن جعفری کا تمسخر اڑا رہے ہیں اس پر ہمارے دل بہت دکھی ہیں اور ہم اپنے بزرگ کا مذاق مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ ہمارے دادا نے زندگی میں دو جنگیں لڑیں۔ وہ بہت بہادر انسان تھے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ لوگ ان کی اصل کہانی سننے کے بعد ان کا تمسخر اڑانا اور ہمیں تکلیف پہنچانا بند کر دیں گے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -علاقائی -سندھ -کراچی -