انڈیا میں چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کا نقصان کس کو ہوگا؟ بھارتی تجزیہ کار نے حیران کن دعویٰ کردیا

انڈیا میں چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کا نقصان کس کو ہوگا؟ بھارتی تجزیہ ...
انڈیا میں چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کا نقصان کس کو ہوگا؟ بھارتی تجزیہ کار نے حیران کن دعویٰ کردیا

  

نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پیر کے روز مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپ میں چینی فوج کے ہاتھوں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور 76 کے زخمی ہونے کے بعد سے انڈیا میں چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے، بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اس مہم سے خود انڈیا کو ہی نقصان ہوگا۔

بھارتی تجزیہ کار شکیل اختر نے بی بی سی کیلئے لکھے گئے اپنے آرٹیکل میں کہا ہے کہ  چین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور دونوں ملکوں کی باہمی تجارت 90 ارب ڈالر ہے۔ انڈیا میں اس وقت چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے جس کا مقصد مذاکرات کے میدان میں چین پر دباؤ  بنانے کی کوشش کرنا ہے۔

شکیل اختر کے مطابق " چین اس کے لیے پہلے سے ہی تیار ہے اور وہ پہلے ہی اپنی کمپنیوں کو انڈیا میں نئی سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں متنبہ کر چکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چین کے اقتصادی بائیکاٹ سے چین سے زیادہ خود انڈیا کو نقصان ہوگا۔"

شکیل اختر  کے مطابق طاقت کے زور پر چینی فوج کو پیچھے دھکیلنا یا سرحد کے کسی دیگر علاقے میں چین کے علاقے پر قبضہ کرنا ایک خطرناک کھیل ہوگا۔ چین سے یہ ٹکراؤ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب انڈیا کرونا کے چیلنج سے گزر رہا ہے۔ ملک کی معیشت کورونا کے آنے سے پہلے ہی نیچے جا چکی تھی اور کورونا کے بعد تباہ کن سطح پر پہنچ چکی ہے۔چین کے ساتھ انڈیا کا سرحدی بحران مودی حکومت کے سامنے ایک ایسا چیلنج ہے جو صرف ان کی قیادت پر ہی نہیں ملک کی سخت گیر قوم پرست سیاست پر بھی بری طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -