زہے نصیب...!

زہے نصیب...!
زہے نصیب...!

  

پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کے" حسن و جمال" کا چرچا ہے...کوئی اسے ایشیا کا سب سے بڑا ایوان قرار دیکر تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے تو کوئی اس کے فن تعمیر کے گن گا رہا ہے...جناب چودھری پرویز الہی کی" وڈھیائی" ہورہی ہے کہ جب وہ وزیر اعلی پنجاب تھے تو اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور اب جبکہ وہ سپیکر ہیں تو اس پراجیکٹ کا افتتاح ہوا ...بلاشبہ یہ ان کا کریڈٹ ہے،انہیں خوب داد ملنی چاہئیے... !!!

چودھری صاحب کو ایک اور منفرد شرف نصیب ہوا ہے...انہوں نے  ایوان کو عقیدہ ختم نبوتﷺ سے متعلق حدیث مبارکہ سے" مزین" کرکے  وہ کچھ پالیا جو بڑے ہی خوش نصیبوں کو ملتا ہے.... چودھری برادران خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ اور سید نفیس شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں میں بیٹھے ہوئے لوگ ہیں ...فیض کیسے نہیں ملے گا...؟؟؟؟شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ اللہ والوں کی جوتیوں میں وہ موتی ملتے ہیں جو بادشاہوں کے تاجوں میں نہیں ملتے...

 سپیکر روسٹرم کے عین اوپر سنہری حروف میں منقش" انا خاتم النبیین لا نبی بعدی" کے الفاظ  کی مہک نے سب کے دل موہ لیے ہیں...بلا شبہ اللہ کے آخری رسول ﷺ کے یہ جوامع الکلم "آب زر" سے لکھنے کے قابل ہیں...جس جس نے یہ شاہکار دیکھا عش عش کر اٹھا کہ یہ ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے... چودھری پرویز الہی کو اس سعادت پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک ....زہے نصیب.....!!!!

پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت میں عقیدہ ختم نبوتﷺ کی گونج سے سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ بہت یاد آئے کہ اس سفید ریش بزرگ رکن پنجاب اسمبلی نے اس ایوان کے اندر نا جانے کتنی مرتبہ رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت کا نعرہ لگایا ہو گا...وہ ختم نبوتﷺ کا پیغام لیکر کس کس شہر اور کس کس ملک میں گھومے ہونگے؟؟؟مولانا چنیوٹیؒ ہی نہیں علمائے ختم نبوت کی ایک طویل فہرست ہے، جنہوں نے تبلیغی جماعت کے" چھ نمبروں" کی طرح خاتم النبیینﷺ کے "ایک نمبر" کی سال ہا سال صدا لگائی...یہ دو چار برس کی بات نہیں ،پاک و ہند ہی میں سوا صدی کا قصہ ہے...سید انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ ،سید عطا اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور مولانا حیات رحمتہ اللہ علیہ سے لیکر مولانا عبدالحفیظ مکی رحمتہ اللہ علیہ ،مولانا ضیا القاسمی رحمتہ اللہ علیہ اور ڈاکٹر علامہ خالد محمود  رحمتہ اللہ  علیہ تک کتنے ہی مشائخ یہ نعرہ مستانہ لگاتے دنیا سے چلے گئے...

فرما گئے یہ ہادی

لا نبی  بعدی

مولانا منظور چنیوٹی رحمتہ اللہ علیہ پھر یاد آئے کہ پنجاب اسمبلی کا یہی ایوان تھا ،جب 4فروری 1999کو  ان کی تحریک پر چناب کنارے شہر کا نام تبدیل کرکے چناب نگر رکھا گیا ......یہ ایک تاریخی کاوش تھی جس کا کریڈٹ بھی مولانا اور پنجاب اسمبلی کو جاتا ہے...

مجھے اردن کا شہری امجد سقلاوی نہیں بھولتا جو چند سال پہلے مولانا عبدالحفیظ مکیؒ کی لاہور خانقاہ پر آیا اور اسی وقت عزت مآب ڈاکٹر احمد علی سراج کو لیکر مولانا چنیوٹیؒ کی قبر پر فاتحہ کے لیے روانہ ہوگیا کہ یہ "بابا جی "میرے محسن ہیں....ان کی کتاب نہ ملتی تو مجھے عقیدہ ختم نبوتﷺ اور "مسیلمہ سکول آف تھاٹ" کی سمجھ نہ آتی اور میں گمراہی کی موت مرجاتا...

ابھی کچھ دن ہوئے کہ ظفروال کے قصبے اونچہ کلاں میں مولانا چنیوٹیؒ کو یاد کرتے ہوئے بزرگوارم مولانا افتخار اللہ شاکر کی آواز رندھ گئی اور آنکھیں چھلک پڑیں...کہنے لگے جس پسماندہ سے گاؤں میں لوگ رشتے کرنے سے کتراتے تھے مولانا چنیوٹیؒ فقیروں کی طرح مسلسل 19سال اس قصبے میں ختم نبوتﷺ کورس کے لیے تشریف لائے...میرا ذاتی تجربہ بھی یہی ہے...کالج کے دنوں کی بات ہے میں نے مولانا کو ایک سیمینار میں مدعو کیا..۔وہ اپنے سیکرٹری کی غلطی کی وجہ سے نہ آسکے...میں نے ایک سخت تنقیدی خط لکھ مارا...انہوں نے نا صرف جوابی مکتوب لکھا بلکہ معذرت چاہی اور کہا آئندہ جب اور جہاں چاہیں بندہ ختم نبوتﷺ کے لیے حاضر ہو گا...میں نے خط کو چوما اور ہمیشہ کے لیے اپنی فائل میں سجا لیا...سوچتا ہوں مفتی عزیز ایسے "مکروہ ویڈیو سیکنڈل" میں الجھے "چسکا دارلوگ "ایسے ہیرے علمائے کرام کی مثالیں کیوں نہیں دیتے؟؟بدبو کے بجائے خوشبو کی باتیں کیوں نہیں کرتے؟؟؟سیدھا سا اصول ہے کہ جو "کوڑا "ہے" کوڑا دان "میں جائے گا...مجاہد ختم نبوت جناب قاری محمد رفیق وجھوی کے ساتھ لاہور سے اونچہ کلاں کا مذکورہ سفر بھی سفر ختم نبوت بن گیا کہ اس روز وہاں ایک ایسی تقریب میں حاضری ہوئی جس میں صوبائی وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ کے قصبے کی ایک اعلی تعلیم یافتہ خاتون نے اس ایمان افروز انداز میں ختم نبوتﷺ کا نعرہ لگایا کہ لوگ رو دیے...درو دیوار ختم نبوتﷺ زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھے ...محترمہ عائشہ جبیں نے زندگی ختم نبوتﷺ کے لئے وقف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وہی باتیں کیں جو امجد سقلاوی نے کی تھیں کہ عقیدہ ختم نبوتﷺ میں" تحریف "کی ناپاک کوشش "گھمن گھیری" کے سوا کچھ بھی نہیں...جو پھنس گیا ڈوب گیا...انٹرنیشنل ختم نبوتﷺ موومنٹ کے امیر جناب ڈاکٹر سعید عنایت اللہ نے مکہ مکرمہ سے ٹیلیفونک خطاب میں بڑی نصیحت آموز گفتگو کی...اس سفر میں اونچہ کلاں جاتے پسرور میں استاد گرامی جناب ابن آدم پسروری کے ہاں "چائے کی پیالی" پینے کی سعادت بھی ملی... انہوں نے ختم نبوت پر خوب صورت گفتگو سے مختصر نشست کا مزہ دوبالا کر دیا...جناب ابن آدم پسروری نے اپنے والد گرامی کا ختم نبوتﷺ سے متعلق  واقعہ سنا کر بھی ایمان تازہ کردیا...

 اونچہ کلاں کی چھوٹی سی مسجد میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کاش یہ تقریب صوبائی وزیر اوقاف قبلہ شاہ صاحب کے "پیرخانے" پر ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا مگر یہ تو اللہ کریم کا انتخاب ہے کہ رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت کے لیے کسی وزیر کو چن لے یا ایک عام سے دیہاتی سکول ٹیچر کے سر سہرا سجا دے...یہ ختم نبوتﷺ کی برکت ہے کہ اونچہ کلاں کا شملہ ایک بار پھر اونچا ہوگیا...زہے نصیب...!!!

اسی اجتماع میں ظفروال شہر کے بہترین مدرس اور سٹوڈنٹ زمانے کے بہترین میزبان جناب قاری محمد ریاض سے جپھی سے دل کو ٹھنڈ پڑ گئی کہ وہ محبت کا سمندر ہیں...قاری ضیا الرحمان صدیقی ،قاری عتیق الرحمان،مفتی عبدالرشید عثمانی،مفتی شکیل اور مولانا امداد اللہ طیب بھی اس دن محفل کی رونق تھے...

اونچہ کلاں سے اقلیتوں کے حقوق کے" علم برداروں "کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ ڈئیر مت گھبرائیں! وطن عزیز میں اقلیتیوں کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں...اس گاؤں میں قیام پاکستان سے پہلے سے ہندو خاندان آباد ہیں...آج تک کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا...مولانا افتخار اللہ شاکر بتا رہے تھے کہ ہندو مسلم اپنے  دین اور دھرم کے مطابق خوشگوار زندگی گذار رہے ہیں...کہنے لگے ابھی میں نے کل ہی ایک" ہندو بابے" کی تیمار داری کی ہے...ایک دفعہ غیر مسلم فیملی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا تو پورا گاؤں ان کے شانہ بشانہ تھا...بات یہ ہے کہ اقلیت اور فتنے میں فرق سمجھ آجائے تو کئی الجھنیں حل ہو سکتی ہیں کہ فتنہ قتل سے بڑا جرم ہے...

اسی شام اونچہ کلاں سے ظفروال جاتے ہوئے شہر خاموشاں میں فاضل دیوبند مولانا عبدالحق رحمتہ اللہ علیہ کے مرقد پر فاتحہ کے بعد مسجد مولانا عبدالحقؒ کا ماحول دیکھا تو دل نے گواہی دی کہ علمائے حق مرتے نہیں ،امر ہوجاتے ہیں...

جناب چودھری پرویز الہی ہوں یا افتخار اللہ شاکر،پنجاب اسمبلی سے اونچہ کلاں تک،عقیدہ ختم نبوتﷺ کے لیے اپنے حصے کی شمع جلا کر روشنی بانٹنا بڑے مقدر کی بات ہے...بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں اللہ کے منتخب بندے... زہے نصیب ...زہے نصیب...!!!

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -