سڑک سے نیچے سبز، دبیز اور گیلی گھاس پر جھا ڑیوں، جنگلی پو دوں کے خیمے تھے اور ان پو دوں اور گھاس کے بیچ پو شیدہ اور کھُلے بہتے پانی کی مدھم سرگم تھی

 سڑک سے نیچے سبز، دبیز اور گیلی گھاس پر جھا ڑیوں، جنگلی پو دوں کے خیمے تھے اور ...
 سڑک سے نیچے سبز، دبیز اور گیلی گھاس پر جھا ڑیوں، جنگلی پو دوں کے خیمے تھے اور ان پو دوں اور گھاس کے بیچ پو شیدہ اور کھُلے بہتے پانی کی مدھم سرگم تھی

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:106

 گرم چشمہ اور ملنگو ٹی گلیشئیر:

 راہ کی پاؤڈر جیسی مہین مٹی سے ہمارے سر مونھ ایک ہو چکے تھے۔ خشک ہوا اور دھوپ کے با عث گلا سوکھ چکا تھا اورمجھے پیاس لگ رہی تھی۔ میں نے نذیر سے کہا تو اس نے جواب دیا ”تھو ڑا آ گے میٹھے پانی کا چشمہ آئے گا ادھر سے پینا۔“

کچھ ہی دیر بعد ہم ایک ایسی کھلی جگہ پہنچے جہاں ہوا خنک تھی، گھاس اور جھا ڑیوں پر مشتمل سبزہ کافی دور تک پھیلا ہوا تھاجس میں چشموں کا پانی جا بجا بہہ رہا تھا۔ نذیر نے راستے سے ہٹ کر جیپ روکی اور جلدی سے اتر کر، جیپ کو لڑھکنے سے بچانے کے لیے ، ٹائر کے آ گے ایک مناسب حجم کا پتھر لگا دیا اور کہا۔

”اترو صا حب، یہ گرم چشمہ ہے۔“

یہ ایک خوش گوار جگہ تھی۔یہاں ہریاول زیادہ تھی۔ گھاس تازہ ، نرم اور بہتات میں تھی۔ راہ گزر کے ارد گرد اور بیچ میں بھی سبز فرش بچھا تھا۔ دائیں ہاتھ سڑک سے نیچے سبز، دبیز اور گیلی گھاس پر جھا ڑیوں، جنگلی پو دوں کے خیمے تھے اور ان پو دوں اور گھاس کے بیچ پو شیدہ اور کھُلے بہتے پانی کی مدھم سرگم تھی جس کی لے پر ان پودوں کی شاخوں پر اور گھاس کے ٹھنڈے، نرم اور ہرے کچور پنڈے پر جامنی، گلابی رنگوں کے پھول مسکراتے تھے۔ اتنی بنجر اور کٹھن مسافت کے بعدیہ ایک ایسی جگہ تھی جس سے مسافر کو پہلی نظر میں محبت ہو جاتی ہے۔ پانی میں ترلمبی لمبی چکنی گھاس کا دبیز غا لیچہ کچھ دور تک چلا گیا تھا۔ ہم احتیاط کے ساتھ سڑک سے نیچے اترے کیوں کہ زمین دلدلی تھی اورگیلی گھاس پر پاؤں پھسلتے تھے۔ پا نی کا نم اور میٹھا بو سہ پاؤں سے چھوا تو تھکن سے بوجھل اور راہ کے جھٹکوں سے تڑخے ہوئے جسم کو سکون کا احساس ہوا۔ یہ اس طرح کا گرم چشمہ نہیں تھا جو چترال یا تاتُو وغیرہ میں ہے۔ یہ عام سا پا نی تھا، نہ ٹھنڈا یخ نہ ابلتا ہوا گرم، ہاں اسے کم ٹھنڈا کہا جا سکتا تھا۔ ہم نے مو نھ ہاتھ دھو ئے اور چشمے کے پانی میں کچھ لمحے پاؤں ڈبو کر بیٹھے رہے۔ کہیں کہیں گھاس اتنی اونچی تھی کہ گھٹنوں تک آ تی تھی۔اسے گرم چشمہ کیوں کہتے ہیں؟ اس کا جواب تھو ڑے فا صلے پر سو ئے ایک سیاہ ہاتھی کے پاس تھا۔

گھاس کے چھو ٹے سے میدان سے آ گے ایک سیاہ پہا ڑ تھا۔ اتنا سیاہ کہ اس پر کو ئلے کی چٹان کا گمان ہو تا تھا۔ اوپر پہا ڑوں سے آنے والا گرم پانی کاچشمہ سڑک عبور کر کے اسی کی طرف بہتا تھا۔ یہ ملنگو ٹی گلیشئیر تھا۔ ارد گرد کے زرد پہا ڑوں میں گھِرا بر فیلا سیاہ وجود ایک خوابیدہ دیو ہیکل ہاتھی کی طرح لگتا تھا۔ اس ہاتھی کے پس منظر میں ہنزہ کی سب سے اونچی اور برف پوش چو ٹی دست گیلسر (7885m) کا نظارہ تھا اور پیش منظر میں چند پست قا مت درخت نما¿ جھاڑیاں اور پو دے۔ دست گیلسر سے ذرا ہٹ کر وہ چو ٹی تھی جسے شمشال کا سفید سینگ (Shimshal Whitehorn) کہتے ہیں۔

 ملنگو ٹی کا سیاہ رنگ در اصل مٹی اور پتھروں کی اس مو ٹی تہ کی وجہ سے تھا جو چاندنی ایسی برفوں پر کمبل کی طرح پڑ ی تھی۔ پہاڑوں میں مرزے یار کی طرح دیوانہ وار گھومتی ہوا دنیا جہان کی مٹی لاکر گلیشئیر وں کے اجلے چہرے پر ملتی رہتی ہے، جو اپنے اندرون کو آلودہ کیے بغیر خامو شی اور عاجزی سے یہ خاک اپنے سر میں ڈلواتے رہتے ہیں۔ جو کو ئی سٹے رُوڑا کُوڑا، اوس نوں جی جی کر یے ہُو۔ سارے گلیشئیر ملامتی صو فیوں کے گروہ سے تعلق رکھنے والے ہو تے ہیں۔ اوپر سے میلے، کالے اور اندر سے چٹّے دودھ۔ 

باہروں دِسن میلے کالے اندر آب حیا تی

 ہو نٹ سُکے ترہا یاں وانگر جان ندی وچ نھا تی 

     (میاں محمد بخش)

 تو طے یہ ہوا کہ کسی بھی گلیشئیر کی قر بت میں بہتا گنگنے پانی کاچشمہ اگر یخ بستہ نہیں ہو گا توگرم ہی کہلا ئے گا۔ یہ ایک جادو کی جگہ تھی۔اگر پھسو سے صرف ملنگو ٹی گلیشئیر تک کا سفر بھی مقصد ہو تا تو بقول شخصے پیسے پو رے ہو جاتے لیکن ہماری منزل ابھی دور تھی اور وقت پر لگا کر اڑ رہا تھا۔۔۔ 

But I have promises to keep,             

And miles to go before I sleep.            

 نذیر نے کُوچ کا آوازہ لگا یا تو ہم آ گے چل پڑے۔ پہاڑ ویسے ہی سر بہ فلک اور چپ کا روزہ رکھے ہو ئے تھے۔دریائے شمشال اب ہمارے بائیں ہاتھ بہتا تھا۔اس کا گدلا پن اور رفتار پہلے سے زیادہ ہو چکے تھے۔کا فی دیر اس پر پیچ و تاب راستے پر سفر جاری رہا۔ ڈر اور حیرت نے ہماری زبانیں گنگ کر رکھی تھیں اور صرف جیپ کی آواز ہمیں حصار میں لیے ساتھ چل رہی تھی۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -