ٹیپو سلطان کے بعد میسور پر کیا گزری ؟

ٹیپو سلطان کے بعد میسور پر کیا گزری ؟
ٹیپو سلطان کے بعد میسور پر کیا گزری ؟

  

مصنف : ای مارسڈن 

 پیچھے بیان ہو چکا ہے کہ جب 1799ءمیں ٹیپو سلطان مرا تو لارڈ ولزلی نے ایک چھوٹے لڑکے کرشن راجہ کو میسور کا راجہ بنا دیا جب کرشن راجہ 16برس کا ہوا تو وہ گدی پر بٹھایا گیا، لیکن یہ بڑا بدنظم نکلا۔ اس نے کل خزانہ اپنے عیش و آرام میں برباد کر دیا۔ بجائے اس کے لائق اور تجربہ کار اور کارگزار لوگوں کو بڑے بڑے عہدوں پر مشرف و ممتاز کرتا۔ اس نے عہدوں اور آسامیوں کو بیچنا شروع کیا۔ جس نے جس کسی عہدے کے لیے سب سے زیادہ دام لگائے۔ اسی کو وہ عہدہ مل گیا۔ یہ سپاہ کو تنخواہ نہیں دیتا تھا۔ رعایا مفلسی اور ناداری کے ہاتھوں تنگ آ گئی تھی۔ آخر کار 1830ءمیں میسور کی رعایا بہ مصداق تنگ آمد بہ جنگ آمد اپنے راجہ سے باغی ہو گئی۔ بنٹنگ نے انگریز فوج روانہ کی کہ فتنہ فرو اور امن قائم کرے۔ راجہ کی پنشن مقرر ہو گئی اور تب سے 50 برس تک انگریز افسروں کی معرفت میسور کا انتظام ہوتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملک خوشحال اور دولت سے مالا مال ہو گیا اور رعایا فارغ البال اور خوش و خرم نظر آنے لگی۔ راجہ کو اجازت مل گئی کہ کسی کو اپنا متبنیٰ کر لے۔ چنانچہ جب یہ متبنےٰ بڑا ہوا تو وہ میسور کا راجہ مقرر کیا گیا اور انگریزی انتظام کا سلسلہ بند ہوا۔

 1813ءتک انگریزی ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہند اور چین میں بلا شرکت غیرے تجارت کرنے کا اختیار اور حق حاصل تھا۔ 1813ءمیں لارڈ ہیسٹنگز کے عہد میں ہند کی تجارت عام کر دی گئی یعنی اعلان ہو گیا کہ جس کی طبیعت چاہے ہند میں خریدوفروخت کرے لیکن جیسا کہ بیان ہو چکا ہے ۔ اس اجازت سے کسی کو فائدہ نہ پہنچا کیونکہ قاعدہ تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی اجازت کے بغیر کوئی ہند میں آ کر آباد نہیں ہو سکتا تھا۔ 20 برس بعد یعنی 1833ءمیں انگلینڈ کی پارلیمنٹ نے کمپنی کو نیا فرمان تو عطا کر دیا مگر ساتھ ہی یہ شرط لگا دی کہ اب سے کمپنی ہند میں تجارت نہ کرے بلکہ حکومت کرے اور ملک کا انتظام رکھے۔ اس سے یہ بات پیدا ہو گئی کہ جس انگریز کی طبیعت چاہے ہند میں رہے، کسی سے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت مطلق نہ رہی۔ اس پر بہت سے انگریز تجارت کرنے اور ملک کو دیکھنے ہند میں چلے آئے۔ تجارت میں بڑی ترقی ہوئی اور اہل ہند کو بھی بہت فائدہ ہوا۔ انہی ایام میں چین کی تجارت بھی عام کر دی گئی اور وہاں بھی کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہ رہی۔

 وہ علاقہ جو 1801ءمیں نواب اودھ نے انگریزوں کی نذر کیا تھا اور وہ ملک جو سندھیا سے لے لیا گیا تھا۔ دونوں کو ملا کر ایک لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت ممالک مغربی شمال کا صوبہ بنایا گیا۔ جو اب صوبہ جات متحدہ آگرہ و اودھ کے نام سے مشہور ہے۔

 مغربی گھاٹ پر میسور کے مغرب میں کورگ کا چھوٹا سا پہاڑی ملک ہے۔ حیدر علی اور ٹیپو سلطان دونوں نے اس ملک کو فتح کیا مگر دونوں کے ہاتھ سے نکل گیا کیونکہ وہاں کی رعایا بار بار بغاوت کرتی رہتی تھی۔ ٹیپو سلطان کی وفات پر کورگ کا راجہ بے فکر ہو گیا۔ اس کے بعد جو 2 راجہ ہوئے ان کا انتظام خراب تھا۔ بنٹنگ کے عہد میں جو راجہ وہاں حکومت کرتا تھا وہ پچھلے سب راجاﺅں سے خراب تھا۔ اس نے سینکڑوں آدمیوں کو قتل کروا دیا اور خود اپنے بہن بھائیوں میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑا۔ کوئی بشر ایسا نہ تھا جسے اپنی جان کا خطرہ نہ ہو۔ جس سے ہو سکا ملک چھوڑ کر چلا گیا۔ گئی انگریز افسر اس کو متنبہ کرنے کے لیے بھیجے گئے، مگر اس نے ایک کی نہ سنی۔ آخر 1834ءمیں بنٹنگ نے کورگ میں انگریز فوج بھیج دی۔ راجہ کی سپاہ مردانگی کے ساتھ لڑی مگر وہ خود بھاگ کر جنگل میں جا چھپا اور پھر پکڑا گیا۔ گورنر جنرل نے کورگ کے سرداروں کو حکم دیا کہ وہ نیا راجہ پسند کریں۔ انہوں نے متفق ہو کر درخواست کی کہ راجہ کی ضرورت نہیں ہے۔ سرکار کمپنی کورگ کا انتظام کرے۔ گورنر جنرل نے یہ درخواست منظور کی اور کورگ انگریزی قلمرو میں شامل کر لیا گیا۔ اس وقت سے اجازت ہے کہ کورگ کے باشندے ہتھیار باندھا کریں اور اس امر کے لیے کسی خاص اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

 1835ءمیں ممالک مغربی و شمالی کا گورنر سرچارلس مٹکاف ایک سال تک بنٹنگ کی جگہ قائم مقام گورنر جنرل رہا۔ اس نے اجازت دے دی کہ اہل ہند اخبار نکالیں اور ایسی باتوں کے سوا جو دوسروں کے لیے باعث ہتک و زیان ہوں جو طبیعت چاہے آزادانہ اخباروں میں لکھیں۔ 1835ءمیں پہلے ملک بھر میں کل 6 مقامی اخبار تھے اب800 سے زیادہ ہیں۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -