پاکستان کی ایک بڑی کامیابی

  پاکستان کی ایک بڑی کامیابی

  

جرمنی کے شہر برلن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹیف) کے اجلاس میں گرے لسٹ سے نکالنے کے لئے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں فیٹیف کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر نے اعلان کیا کہ پاکستان نے تمام شرائط پوری کر دی ہیں، دو سال میں پانچ  بار پاکستان کے انسداد دہشت گردی اقدامات کا جائزہ لیا گیا، 34 نکات پر عملدرآمد کرنے اور گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے پاکستان نے تمام اہداف کامیابی سے حاصل کر لئے تاہم فوری طور پر پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نہیں نکالا جا رہا، جلد ہی ایک ٹیم پاکستان کا دورہ کر کے شرائط پر عملدرآمد کا جائزہ لے گی۔ اس ضمن میں پاکستان کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، عملدرآمد رپورٹ کے بعد اکتوبر میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ پاکستان کے لئے یہ بہت اہم کامیابی کا دن ہے، اس کے لئے چار برس تک پاکستان نے بہت محنت کی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فیٹیف اہداف کے حصول میں پاکستان آرمی کا کلیدی کردار ہے،اِن اہداف کا وقت سے پہلے حصول پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کی بھارتی سازش ناکام ہو گئی ہے، حکومت اور قومی اداروں نے مل کر تمام نکات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا۔ جی ایچ کیو میں کورسیل نے شب و روز محنت کر کے منی لانڈرنگ، ٹیررفنانسنگ کو روکنے کے لئے موثر لائحہ عمل ترتیب دیا، اس کامیابی سے ملک کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے اور بھارت کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔ ماہرین معیشت کے مطابق گرے لسٹ سے نکل آنے کے بعد پاکستان کے لئے معاشی و مالی فوائد کے راستے کھل جائیں گے۔ ملک کی ساکھ بہتر ہو گی، منی لانڈرنگ کے حوالے سے پاکستان پر جو الزامات لگائے جاتے تھے اُن کا خاتمہ ہو جائے گا اور پاکستان میں مغربی سرمایہ کاری کے دروازے کھل جائیں گے۔ چار برسوں سے پاکستان کو فیٹیف نے گرے لسٹ میں ڈالا ہوا تھا اور بھارت کی پوری کوشش تھی کہ مختلف الزامات لگا کر پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نہ آنے دیا جائے تاکہ یورپ کے سرمایہ کاروں کا رخ پاکستان کی طرف نہ ہو اور اسے معاشی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑے۔ مغربی ممالک  فیٹیف کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ ان ممالک کے سرمایہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ملک فیٹیف  کی گرے لسٹ میں ہے تو کسی وقت بھی اس ملک کو بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے جس سے اُن کا سرمایہ ڈوب جائے گا،اس لئے وہ اس ملک میں سرمایہ کاری سے اجتناب کرتے ہیں۔ 2018ء میں جب پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا تو منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ سمیت متعدد الزامات لگائے گئے۔ پاکستان نے ان الزامات سے نکلنے کے لئے اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر ٹیررفنانسنگ کے دو ایکشن پلانز پر عملدرآمد کا آغاز کیا۔ حکومت پاکستان کی مشاورت سے چیف آف آرمی سٹاف نے 2019ء میں ڈی جی ایم او کی سربراہی میں جی ایچ کیو میں ایک سپیشل سیل قائم کیاجس نے جب کام شروع کیا تو سرکاری محکموں کے درمیان کوئی ہم آہنگی نہ تھی، اس سیل نے وزارتوں اور ایجنسیوں کے درمیان کو آرڈینیشن میکنزم بنایا، فیٹیف کی طرف سے دیئے گئے ہر پوائنٹ پر ایک ایکشن پلان ترتیب دیا اور اس پر عملدرآمد بھی کروایا۔ پاکستان نے اپنا 2021ء کا ایکشن پلان فیٹیف کی طرف سے مقرر کردہ ٹائم لائن جنوری 2023ء سے پہلے مکمل کر لیا جس کی وجہ سے برلن میں جاری چار روزہ حالیہ اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کو سراہا گیا۔یہ کامیابی محکموں کے درمیان مربوط تعاون کے ذریعے ممکن ہوئی۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران  اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر ٹیررسٹ فنانسنگ قوانین میں مسلسل بہتری کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ میں کمی آئی ہے۔ سخت اقدامات کی وجہ سے ہی مثبت نتائج سامنے آئے، ایف بی آر اور سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن نے  اہم کردار ادا کیا جبکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے بھی دہشت گردی کی مالی معاونت اور ٹارگٹڈ فنانشل پابندیوں کی بدولت ہی  فیٹیف کے 34 نکات پر عملدرآمد ممکن ہوا۔ یہ بہت دشوار کام تھا،چار سال پہلے تک ہمارے ہاں منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ بڑے پیمانے پر جاری تھے کیونکہ ان شعبوں میں کبھی کوئی کام نہیں ہوا تھا اور نہ ہی ہمارے پاس ایسا کوئی مربوط نظام تھا جسے دکھا کر ہم فیٹیف کو مطمئن کر سکتے۔2018ء سے گرے لسٹ میں آنے کے بعد پاکستان نے خود کو بلیک لسٹ ہونے سے بچانے کے لیئے جو اقدامات کئے اُن سیبالآخر فیٹیف کو تسلیم کرنا پڑ گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کی تمام شرائط پوری کر چکا ہے۔ ان چار برسوں میں بھارت نے پورا زور لگایا کہ کسی طرح پاکستان کو بلیک لسٹ کرا سکے اور اسی وجہ سے فیٹیف پاکستان کو ہر سال گرے لسٹ میں برقرار رکھتا رہا مگر اآخر کار وہ موقع آ ہی گیا کہ جب پاکستان نے فییٹف کی تمام شرائط پوری کر دیں اور خود فیٹف کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر کو تسلیم کرنا پڑا ہے کہ پاکستان نے فیٹیف کو مطمئن کر دیا ہے۔ اُمید ہے ستمبر میں جب فیٹیف کی ٹیم عملدرآمد رپورٹ کا جائزہ لینے پاکستان آئے گی تو گرے لسٹ سے نکلنے کا باقاعدہ اعلان بھی ہو جائے گا۔ یہ پوری قوم کی کامیابی ہے اور اس کا کریڈٹ سبھی کو جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ چار برسوں میں زیادہ تر حکومت تحریک انصاف کی رہی ہے اوراس دوران مسلسل فیٹیف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں تاہم جیسے کہا گیا ہے کہ اس مقصد کے لئے جی ایچ کیو میں سپیشل سیل قائم کیا گیاجسے ملک کے تمام اداروں کا تعاون حاصل تھا اور اس کی مسلسل کوششوں اورایک مربوط ٹیم ورک کیساتھ ساتھ حکومت کی مکمل سپورٹ کے ذریعے ہی ہم اس منزل پر پہنچے ہیں۔اس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے اس پر اطمینان کا اظہار کیا جانا چاہئے کہ پاکستان ایک بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔ پچھلے چار برسوں کی روداد پر نظر ڈالیں تو ہر بار یہی لگتا تھا کہ شاید پاکستان فیٹیف کو کبھی مطمئن نہ کر سکے گا۔ یہ تک کہا جانے لگا تھا کہ فیٹیف میں پاکستان مخالف لابی موجود ہے جو ہماری ہر کوشش کو ناکام بنا دیتی ہے  تاہم جیسا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے اس ضمن میں مستقل مزاجی اور سول و عسکری محکموں کے درمیان مربوط رابطہ کاری کے ذریعے اہداف کو حاصل کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی سطح پر کریڈٹ لینے کی جو لایعنی بحث شروع ہو چکی ہے اس سے اجتناب کی ضرورت ہے، بنیادی حقیقت یہ ہے کہ گرے لسٹ سے نکلنا ہمارا قومی مسئلہ ہے اور جس کی جہاں ذمہ داری تھی اس نے پوری کی، اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ہم منزل کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے لئے جناب عمران خان،پاک فوج، تمام قومی ادارے اور موجودہ حکومت سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -