گھر لوٹ آئے۔ ضرورت تو قومی اتفاق رائے کی ہے! 

 گھر لوٹ آئے۔ ضرورت تو قومی اتفاق رائے کی ہے! 
 گھر لوٹ آئے۔ ضرورت تو قومی اتفاق رائے کی ہے! 

  

یہ درست ہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری محنت کر رہے ہیں اور انہوں نے چین کے علاوہ امریکہ کا بھی دورہ کیا اس سے پاکستان کے ساتھ ان ممالک کے تعلقات میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے مان لینے ہیں کہ انہوں نے اپنے حالیہ بیرونی دوروں کے دوران فیٹیف کے حوالے سے بھی پاکستان کے موقف کو دہرایا، کشمیر پر ریاستی بیانیئے اور عزم کے حوالے سے بات کی اس کوشش کا اعتراف ریاستی اور سفارتی حلقے بھی کر رہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اب گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ کی طرف سفر میں صرف ایک سٹیپ رہ گیا تو سارا کریڈٹ بھی یہ دو ماہ کی حکومت لے اس دعوے کو ”ان فیر“ کہا جا رہا ہے۔ شہر اقتدار کے کوریڈور میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اگر اس عمل کا کریڈٹ سابق حکومت کو بھی دیا جاتاتا تو یہ ایک بہتر عمل ہوتا کہ جس نے جو کیا ہو اس کا کریڈٹ بھی اسے ملنا چاہئے۔ اگر آپ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے دور کے منصوبوں پر تختیاں لگائی گئیں اور پیش رفت کوئی نہیں ہوئی تو یہ بھی مان لینا ہوگا کہ فیٹیف سے نکلنے کے لئے سابقہ دور میں بھی بہت کام ہوا ایسے معاملات میں اچھی روایت قائم ہو تو محاذ آرائی کی شدت بھی کم ہو جاتی ہے اور یہ فرض ہر فریق کا ہے کہ دوسرے کی خدمات کا بھی اعتراف کرے۔

شہر اقتدار میں تین چار روز گزارنے کے بعد لوٹ کر گھر آ گئے ہیں اور پہلا ہی صدمہ یہ ہوا کہ پری مون سون کی موسلا دھار بارش نے اسلام آباد کے چرند پرند کو تو خوش کر دیا اور پہلے سے صاف ستھری سڑکیں دھل کر اور صاف ہو گئیں تاہم میرے پیارے لاہور میں برساتی پانی کے نکاس کے باوجود اکثر سڑکوں کے کنارے اور نشیبی حصوں پر پانی موجود ہے جبکہ لاہور والوں نے بجلی کے بریک ڈاؤن کا بھی بہت مزہ چکھا کئی علاقوں میں تو بجلی 20 سے 22 گھنٹے تک بند رہی خود میرے گھر والا فیڈر قریباً بارہ گھنٹے تک بجلی مہیا نہ کر سکااور بچوں نے رات جاگ کر گزاری کہ یو پی ایس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ صفائی کے حوالے سے بھی کوئی زیادہ بہتری نظر نہیں آئی۔

اپنے موضوع کی طرف پھر آتے ہیں وہ یہ کہ ڈالر کی اڑان اور مہنگائی کے باعث تشویش اور افواہوں کا سلسلہ جاری ہے میں نے جو گفتگو کی اور بات سنی اس کے مطابق موجودہ حکومت سرتوڑ کوشش کر رہی ہے کہ مشکل حالات سے نکلا جائے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزرا کرام کا اپنا رویہ تشویش کا سبب بن رہا ہے۔ یہ حضرات قومی اسمبلی اور سینٹ کے جاری اجلاسوں میں تو نظر نہیں آتے لیکن یہ بھی نہیں کرتے کہ پارلیمینٹ میں اپنے چیمبروں کو رونق بخشیں یہ درست کہ یہ ماضی ہی کی روایت رہی لیکن موجودہ وزرا کرام پر تو بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عوام کے اندر پٹرولیم، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے اور رعایت کی واپسی نے عوام کو بات کرنے پر مجبور کر دیا ہے بلکہ حلیف بھی ذکر کر رہے ہیں۔ میں نے محترم میاں رضا ربانی کا ردعمل ٹی وی پر دیکھا اور خبروں میں پڑھا وہ سنجیدہ فکر شخصیت ہیں۔ سید خورشید شاہ کے بعد ان کی طرف سے وزراء  کی غیر حاضری پر تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی زیادہ سنجیدہ ہے کہ اگر یہ کانٹوں بھرا ہار گلے میں ڈالا ہے تو کانٹوں کو پھول بھی بنانا ہوگا کہ لوگ یہ کہتے ہیں سارے کھیل کے پیچھے آصف علی زرداری ہیں اور وہ محنت بھی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں تنازعہ پیدا ہونے سے بچا رہے وہ یہاں کے بحران کو ختم کرنے کے لئے بھی کوشاں ہیں۔

اپنے چند پرانے صحافی ساتھیوں سے ملاقات ہوئی تو ان کی زبان سے وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب کی بڑی تعریف سنی سابقہ دور میں جب وہ وزیر تھیں تو میری بھی ان کے ساتھ ملاقاتیں اور باتیں ہوئی تھیں تب ہمارے دوست مرزا سلیم بیگ پی آئی او تھے اب بھی ان کا رویہ بہت مثبت ہے اور اگر وہ ترجمانی کے فرائض نبھاتی ہیں تو متعلقہ لوگوں سے بھی ملتی رہتی ہیں وہ میڈیا والوں کے مسائل حل کرنے کی بھی کوشش کرتی ہیں۔ تاہم میڈیا کے حوالے سے پالیسی پر ان کو مکمل اختیار نہیں بعض مصلحتیں بھی ہیں تاہم ان کے تعلقات خوشگوار ہیں۔

یہ احوال تو شہر اقتدار کا ہے اب ذرا تھوڑی بات اپنے صوبے کی بھی کر لیں یہاں بجٹ بھی غیر روائتی طریقے سے آئینی راستہ نکال کر پیش کیا گیا افسوس تو یہ ہے کہ سپیکر چودھری پرویز الٰہی اپنے عمل کو نہیں دیکھتے اور تنقید ہی نہیں دھمکیاں بھی دیئے چلے جا رہے ہیں۔ اگر وہ بجٹ پیش ہو جانے دیتے تو گورنر کو یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی جہاں تک چیف سیکریٹری اور آئی جی کے خلاف رنج کا تعلق ہے تو چودھری پرویز الٰہی اپنی شکست کا ذمہ دار ان کو قرار دے کر استحقاق کا معاملہ اٹھانے کا پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ ان کو بلا کر تین ماہ کی سزا دیں گے ایسے بیانات اور تحریک انصاف کے ساتھ مکمل پارٹی بن کر اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے ان کو اپنے منصب کا بھی خیال نہیں آیا وہ سپیکر ہیں اور سپیکر کو معنوی اعتبار سے غیر جانبدار ہونا چاہئے چہ جائیکہ وہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کی صدارت کریں۔ معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ انہوں نے مداخلت کے الزام میں چیف سیکریٹری اور آئی جی کے خلاف تحریک استحقاق تو منظور کرالی ہے تو پھر وہ یہ ہمت بھی کر لیں کہ سابق گورنر سرفراز چیمہ کے چیلنج کے مطابق ان فاضل جج صاحب کو بھی طلب کر لیں جن کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے اعلان کئے گئے تھے۔ ان کو خوب علم ہے کہ جو کچھ ہوا وہ عدلیہ کے حکم کے تحت آئین، قانون اور قواعد کی روشنی میں ہوا تھا اب اگر وہ نمبر پورے نہ کر سکے تو اس میں انتظامی کردار والے حضرات کا کیا قصور ہے؟

یقین جانیئے یوں تو ہر روز ہی تکلیف اور پریشانی میں گزرتا ہے تاہم حالیہ چار پانچ روز میں جو دکھ اور تکلیف پہنچی اس کا اندازہ درد مند حضرات ہی کو ہی ہو سکتا ہے۔ ضرورت قومی یکجہتی اور قومی مسائل پر مکمل اتفاق رائے کی ہے لیکن یہاں محاذ آرائی حتمی بن چکی ہے۔ آج (اتوار) کے لئے عمران خان نے احتجاج کی کال دی ان کی طرف سے پورے ملک میں احتجاج ہوگا اور وہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے۔ وہ اپنے موقف یا ضد پر قائم ہیں۔ اللہ خیر کرے۔

مزید :

رائے -کالم -