دسمبرمیں پٹرول 35ڈالرکاہوگا؟ 

 دسمبرمیں پٹرول 35ڈالرکاہوگا؟ 
 دسمبرمیں پٹرول 35ڈالرکاہوگا؟ 

  

 عالمی سطح پر پٹرول کی ہوشربا قیمتوں نے پاکستانیوں کے کانوں سے دھواں نکال دیا ہے، اس وقت 120ڈالر فی بیرل کے حساب سے دنیا بھر میں پٹرول کی تجارت ہورہی ہے جو دسمبر تک گھٹ کر 35ڈالر فی بیرل ہو سکتی ہے۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب سی لگتی ہے مگر اس کے پیچھے موجود سازشی تھیوری بھی بڑی عجیب ہے۔ یہ تھیوری پیش کرنے والے کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ آئل کے سٹاک اور ریزرو  امریکہ کے پاس ہیں جس نے بڑی  ہوشیاری سے روس کو یوکرین سے بھڑواکر دنیا میں تیل کی قیمتوں کوآگ لگادی ہے۔ اس صورت حال کا امریکہ کو بہت فائدہ ہو رہا ہے کیونکہ اس کے تیل کے ذخیرے دھڑا دھڑ بک رہے ہیں جو اس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے سٹاک کئے ہوئے تھے۔ یہ سازشی تھیوری پیش کرنے والوں کا اصرار ہے کہ آنے والے دسمبر تک تیل کی قیمتیں 35ڈالر فی بیرل تک آسکتی ہیں کیونکہ امریکہ کامنصوبہ یہ ہے کہ اپنے دستیاب سٹاک مہنگے داموں فروخت کرکے تیل کی مارکیٹ کو دوبارہ سے گرادے اور جب قیمتیں انتہائی نچلی سطح پر آجائیں تو دوبارہ سے اپنے سٹاک بنالے۔ ان حلقوں کا اصرار ہے کہ اس وقت یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ اگلے چار پانچ ماہ میں تیل کی قیمتیں دھڑام سے نیچے آگریں گی مگر لوگ ان کی بات پر تب یقین کریں گے جب دسمبر آجائے گا۔

انہی حلقوں نے یہ انکشاف بھی کیاہے کہ پاکستان کے اندر بھی اس وقت بڑی انوسٹمنٹ تیل کے کاروبار میں ہی ہورہی ہے اور کئی ایک پرائیویٹ پارٹیوں نے تیل کے سٹاک کے انبا ر لگائے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں خبر تھی کہ امریکہ تیل کی قیمتوں کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ چنانچہ اس وقت ملک بھر میں بڑے بڑے اسٹاکسٹوں نے تیل کے بڑے بڑے اسٹاک جمع کئے ہوئے ہیں اور ہر روز ان کے منافع میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے نئے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہناہے کہ پاکستان میں 2ارب لیٹر ماہانہ پٹرول استعمال ہوتا ہے، اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں پٹرول کی کھپت کس قدر بڑھ چکی ہے اور اس کاروبار سے منسلک افراد کی خوب چاندی ہو رہی ہے۔ 

اس ضمن میں ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان میں بلوچستان کے راستے ایران سے پٹرول کی سمگلنگ ہو رہی تھی تاہم بعد میں امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کیں توحکومت پاکستان پر بھی زور دیا کہ وہ ایران سے پاکستان اسمگل ہونے والے پٹرول کی روک تھام کو یقینی بنائے، چنانچہ سختی کی گئی تو یہ ترسیل رک گئی جس کے بعد اوگرا کے ہوش ٹھکانے آگئے کیونکہ اس بندش کے بعد پاکستان میں تیل کی درآمد میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔یوں کہہ لیجئے کہ پہلے سے ڈبل کی ڈیمانڈ اس وقت مارکیٹ میں موجود ہے کیونکہ اب پاکستان میں ایران سے پٹرول سمگل نہیں ہو رہا ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر امریکی پابندیاں ختم ہو جائیں تو پاکستان کے لئے اس سے آئیڈیل سچویشن کوئی نہیں ہو سکتی  کہ ایک تو اس کے درآمدی اخراجات نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے اور دوسرا اسے کوالٹی پٹرول بھی دستیاب ہوگا تاہم یہ بات دیوانے کا خواب ہی دکھائی دیتی ہے کیونکہ امریکہ کسی بھی صورت ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کے حق میں نظر نہیں آرہا ہے۔

اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر شہر کے باہرتیل کے ڈپوبنے ہوئے ہیں جہاں سے اندرون شہر قائم پٹرول پمپوں کوتیل کی ترسیل کی جاتی ہے، بتایا جاتا ہے کہ ان ڈپوؤں سے جس پٹرول پمپ کا جتنا کم فاصلہ ہوتا ہے وہاں پر ان پٹرول پمپوں کے مقابلے میں تیل سستا دستیاب ہوتا ہے جو ان ڈپوؤں سے زیادہ فاصلے پر واقع ہیں۔ اس کی مثال یوں دی جاتی ہے کہ شاہدرہ کے پٹرول پمپوں پر پٹرول کی قیمت مال روڈ کے پٹرول پمپوں سے کم اور مال روڈ کے پٹرول پمپوں پر پٹرول کی قیمت بحریہ ٹاؤن کے پٹرول پمپوں سے کم ہوتی ہے۔ ان قیمتوں کا واضح فرق تب محسوس ہوتا ہے جب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا کی ویب سائٹ پر جا کر دیکھا جائے جہاں پاکستان بھر کے پٹرول پمپوں پر دستیاب پٹرول کی تازہ ترین قیمتیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ اگرچہ مختلف پٹرول پمپوں پر تیل ڈپو سے فاصلے کی بنیاد پر قیمتوں کا فرق چند پیسوں میں ہوتا ہے مگر جب کل کو جمع کرلیا جائے تو ماہانہ کے حساب سے اربوں روپے کا فرق بنتا ہے۔ چنانچہ ایسانہیں ہے کہ ہر پٹرول پمپ پرایک سی قیمت وصول کی جاتی ہے بلکہ یہ قیمت چاہے دس پیسے کے فرق سے کم یازیادہ ہو، ہوتی ضرور ہے۔ 

عالمی منڈی سے تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں 6فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے اور نئی قیمتیں 120ڈالر سے گھٹ کر 108ڈالر فی بیرل کے قریب آگئی ہیں۔ اگر یہ کمی اسی طرح بتدریج وقوع پذیر ہوتی رہی تو یقینی طور پردسمبر تک 35ڈالر فی بیرل تک آہی جائے گی اس لئے پاکستانیوں کو امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے اور اس مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہنا چاہئے تاکہ گزشتہ چار برسوں میں پی ٹی آئی حکومت کی نااہلیوں کی وجہ سے جو صورت حال پیدا ہوئی اس سے گلوخلاصی ہو سکے اور 2023کا سورج پاکستانیوں کے لئے خوشیوں بھراپیغام لے کر ابھرے!

ہماری ایک بھتیجی جو میڈیکل کی طالبہ ہے اور پی ٹی آئی کی حامی ہے،حیرانی سے پوچھتی ہے کہ اب لوگ اس طرح کا واویلا کیوں نہیں کرتے جس طرح پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران پٹرول مہنگا ہونے پر مچاتے تھے۔ ہمارا جواب تھا کہ ایسا اس لئے ہے کہ لوگوں کی اکثریت پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں تھی اس لئے انہیں اس کے فیصلے ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے جب کہ ننھی منی سی پی ٹی آئی کے حامیوں کونون لیگ اور اتحادیوں کی حکومت سانس سانس دُکھتی ہے مگر چونکہ ان کی مقدار آٹے میں نمک کے برابر ہے اس لئے یہ فرق محسوس ہوتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -