جمہوریت، اشرافیہ کے لئے سونے کی چڑیا 

جمہوریت، اشرافیہ کے لئے سونے کی چڑیا 
جمہوریت، اشرافیہ کے لئے سونے کی چڑیا 

  

 اس وقت مرکز اور پنجاب کی حکومتیں اللہ توکل چل رہی ہیں ابھی کل ہی سینٹ کے اجلاس میں خود حکومت اور اپوزیشن کے سینئرز نے یہ دہائی دی کہ سو سے زائد وزراء ہونے کے باوجود ایک وزیر بھی ایوان میں موجود نہیں، جب ملک میں اقتصادی بحران کا یہ حال ہو کہ رکشہ والے اپنے رکشے جلا رہے ہوں، لوگوں کے پاس کھانے کو روٹی نہ ہو، غربت نے انہیں زندہ درگور کر دیا ہو، تو یہ وزراء جن پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، کس طرح عیاشی کر رہے ہیں، کیا ان میں غیرت نام کی کوئی شے نہیں جو انہیں یاد دلائے کہ انہیں ٹی اے ڈی اے بھی ملتا ہے، پٹرول کا ٹوکن بھی اور بھاری مشاہرہ بھی پھر وہ ایوان میں کیوں نہیں آتے، اپنی وزارتوں کی کارکردگی کیوں نہیں بتاتے، ارکان کے سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ یہ موجودہ حکومت ایک عجیب چوں چوں کا مربہ ہے کسی کی عوام کے ساتھ کمٹ منٹ نہیں مخلوط حکومت کا تجربہ پاکستان میں کبھی بھی کامیاب نہیں رہا یہ تو عجیب مخلوط حکومت ہے جس میں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والی جماعتیں صرف بغض عمران خان میں اکٹھی ہو گئی ہیں۔ یوں لگتا ہے ان میں سے ہر جماعت کا وزیر مال بنانے کی فکر میں مبتلا ہے، اسے اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے، اسے کیسے نکالنا ہے جب دو دو ارکان والی جماعتیں دو وزارتیں مانگتی ہوں اور غیر منتخب مشیروں اور معاونین خصوصی کا کوٹہ بھی طلب کرتی ہوں تو کارکردگی کے بارے میں کون پوچھ سکتا ہے۔ سب کو معلوم ہے وفاقی ہو یا پنجاب حکومتیں ان کے سہارے کھڑی ہیں، شہباز شریف یا حمزہ شہباز کی جرأت نہیں کہ انہیں کچھ کہہ سکے ایسے میں جب یہ خبر آتی ہے کہ وزراء کی کارکردگی پر وزیر اعظم برہم تو ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔

آج کل سوشل میڈیا پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی ایک تصویر موجود ہے جس میں انہوں نے بجٹ کی کاپی الٹی پکڑی ہوئی ہے اور مطالعہ کر رہے ہیں جس اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض ہوں، جو اگلے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے امیدوار ہیں۔ وہاں اپوزیشن کیسے ہو سکتی ہے۔ بجٹ پر کسی زمانے میں بحث ہوتی تھی۔ اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دیتی تھی عوام کی آواز اپوزیشن کے ذریعے ایوان میں گونجتی تھی، مگر اب تو ہر طرف ہرا ہی ہرا ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت کے وزراء اسمبلی اور سینٹ میں آتے ہی نہیں آکر کریں بھی کیا، ہاں سینٹ کا معاملہ ذرا تنگ کرتا ہے، جہاں اب بھی تحریک انصاف کے ارکان موجود ہیں۔ وگرنہ قومی اسمبلی میں تو سب ”اپنے“ بیٹھے ہیں جنہوں نے بجٹ پر جھوٹی واہ واہ کے ڈونگرے برسانے ہیں۔ کہتے ہیں جمہوریت میں اپوزیشن اور حکومت گاڑی کے دو پہیئے ہوتے ہیں، تحریک انصاف قومی اسمبلی سے ایک پہیہ پنکچر کر کے نکل گئی ہے۔ اب ایک پہیئے پر چلنے والی لولی لنگڑی جمہوریت موجود ہے، جس کے ذمہ داروں کو عوام کے مسائل سے کوئی غرض نہیں ایک وفاقی وزیر کے بارے کہا جاتا ہے وہ اپنی وزارت سمیت ملک کو کئی کروڑ ماہانہ میں پڑتا ہے۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ ایک وزیر اس کے بدلے میں قوم کو دیتا کیا ہے۔ کئی وزیر ایسی وزارتوں پر بٹھا دیئے جاتے ہیں، جن کی انہیں الف ب بھی معلوم نہیں ہوتی۔ اس بار تو تماشہ یہ بھی ہوا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے بلیک میلنگ کا حربہ اختیار کر کے چن چن کے ایسی وزارتیں لی ہیں، جن میں فائدہ بہت ہے اب بھلا ایسے وزیر ایوان میں آکر وقت کیوں ضائع کریں جبکہ ان کے پاس وقت ہے بھی بہت کم۔ سو یہ واحد کابینہ ہے جو بھاری بھرکم تو ہے مگر ایوان میں آنا نہیں چاہتی، مفتاح اسماعیل بجٹ پیش کرنے کے بعد ایک دن بھی قومی اسمبلی یا سینٹ میں نہیں گئے۔ اب تو لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں جب بھی ٹی وی پر ان کی شکل نظر آتی ہے، لوگ پٹرول پمپوں کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

دوسری طرف آپ پنجاب کا حال ملاحظہ فرمائیں ایک آئینی بحران ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے بھی قسم کھا رکھی ہے کہ ایوان کو چلنے نہیں دینا مختلف حیلے بہانوں سے وہ پنجاب اسمبلی کو جام کئے ہوئے ہیں حتیٰ کہ انہوں نے پنجاب کا بجٹ تک اسمبلی میں پیش نہیں ہونے دیا۔ حالانکہ بجٹ ایک ایسی ضرورت ہے کہ جسے کسی صورت نہیں روکا جا سکتا۔ ان کی ضد بازی کا پنجاب حکومت نے حل یہ نکالا کہ گورنر کے ذریعے اسمبلی قوانین ہی تبدیل کر دیئے۔ سپیکر کو بڑی حد تک بے اختیار کر دیا گیا گورنر نے پنجاب کا بجٹ اجلاس ایوانِ اقبال میں طلب کر لیا اور چودھری پرویز الٰہی اسمبلی میں اپنی دھماچوکڑی جمائے بیٹھے ہیں ان کا کہنا ہے گورنر کے بلائے گئے اجلاس کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ پنجاب اسمبلی ان کے آرڈیننس کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ اُدھر پنجاب کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے ظاہر ہے اس پر بھی بحث نہیں ہو گی کیونکہ اپوزیشن تو پنجاب اسمبلی میں بیٹھی ہے یوں جمہوریت ایک پہیئے پر چل رہی ہے اور نت نئے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں طبقہئ اشرافیہ کو بات سے کوئی غرض نہیں کہ ایک عام پاکستانی پر کیا گزر رہی ہے سب حال مست اور مال مست میں مگن ہیں۔ جب کہنے کو کچھ نہ ہو تو احسن اقبال کی طرح چائے کم پینے کی تجاویز دیتے ہیں حالانکہ انہیں اجلاسوں میں منرل واٹر کی بوتلیں کم کرنی چاہئیں، اپنا پٹرول اور اعزازیہ ختم کرنا چاہئے۔ الیکشن کمیشن نے جتنے ارکانِ اسمبلی کے گوشوارے جاری کئے ہیں خیر سے سبھی کروڑ پتی سے ارب پتی تک کی منزلیں طے کر چکے ہیں۔ انہیں فی الوقت کسی سرکاری اعزازیئے کی ضرورت نہیں، پٹرول بھی اپنی جیب سے ڈلوا سکتے ہیں، لیکن نہیں صاحب ایسا کر کے حکمرانی کا مزا تھوڑی آتا ہے وچوں وچوں کھائی جا تے اتوں رولا پائی جا پچھلی حکومت پر نزلہ گرانے والے یہ نہیں بتاتے کہ خزانہ خالی ہونے کے باوجود خود کیا قیامت ڈھا رہے ہیں۔

تو صاحبو! ہماری جمہوریت مان جائیں کہ ایک ایسا ڈھکوسلا ہے، جس کے ذریعے عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ انہیں سبز باغ دکھائے جاتے ہیں یہ جمہوریت اشرافیہ کے ہاتھ میں آئی ہوئی ہے وہ سونے کی چڑیا ہے، جس کے ذریعے وہ ایک طرف عوام کو وعدوں کی چکا چوند میں مبتلا کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے مفادات کی گنگا بہاتے ہیں۔ اشرافیہ کی صرف شکلیں بدلتی ہیں وگرنہ عادتیں بدلتی ہیں اور نہ کرتوت ہی تبدیل ہوتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -