سابق صوبائی وزیر کا پولیس موجودگی میں پراپرٹی پرمبینہ قبضہ

سابق صوبائی وزیر کا پولیس موجودگی میں پراپرٹی پرمبینہ قبضہ

  

ملتان(وقائع نگار)سابق صوبائی وزیر جیل خانہ جات ملک وحید آرائیں نے پولیس اور قبضہ مافیا کے ہمراہ وہاڑی چوک کے قر یب دھاوا بول کر  ڈیڑھ کروڑ روپے (بقیہ نمبر29صفحہ6پر)

مالیت کی پراپرٹی پرمبینہ قبضہ کر لیا،دو سال قبل مسجد کے لئے اراضی خریدنے والوں کو جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا۔ذرائع کے مطابق شیخ آصف وغیرہ نے وہاڑی چوک پر واقع میاں نعیم سے ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی بارہ مرلہ اراضی خریدی اس اراضی کی باقاعدہ رجسڑی کرائی گئی جس پر اراضی موقع کا نقشہ بھی موجود ہے لیکن میاں نعیم کے بھائی نے میاں واحد اور کلیم اللہ نے نئے خریدار کو اراضی خریدنے سے روکا۔شیخ محمد آصف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اراضی کا قبضہ حاصل کر لیا تھا لیکن میاں آصف اور میاں کلیم نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرلیا جو کہ ختم ہوچکا ہے انھوں نے کہا جمعرات کے روز اراضی مالک نے خود موقع پر ہمیں قبضہ دیا جس کے بعد ہم نے یہ اراضی مسجد کے لئے وقف کر دی انھوں نے الزام عائد کیا گزشتہ روز جب مسجد کی تعمیر کا کام جاری تھا ملک وحید آرائیں اپنے کارندوں کے ساتھ موقع پر پہنچ گیا۔ قبضہ گروپ نے آتے ہی تعمیر ات گرا دیں اس موقع پر پولیس صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی پولیس موجودگی میں ہی ہمیں ہماری اراضی سے نکال دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سابق صوبائی وزیر جیل خانہ جات کے قبضے کی کاروائی کے بعد ایس ایچ او تھانہ مخدوم رشید ممتاز قریشی ملک وحید آرائیں کو رام کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ملک وحید آرائیں انکی موجودگی میں ہی اراضی مالکان کو دھمکیاں دیتے رہے جس کی وجہ سے اہل علاقہ میں خوف کی فضا پیدا ہوگئی ذرائع کے مطابق سی پی او ملتان خرم شہزاد نے ملک وحید آرائیں کو راضی کرنے کے لیے پولیس کا قبضہ گروپ کی مدد کرنے کی ہدایت دیں پولیس کے پہنچنے پر اراضی مالک شیخ آصف اور انکے بھائیوں کو فوری علاقے چھوڑنا پڑا جبکہ پولیس نے شیخ آصف کی فیکٹری کے اردر گرد نفری لگا کر خوف وہراس پیدا کر رکھا اراضی مالک شیخ آصف ودیگر نے آئی جی پنجاب سے انصاف کی اپیل کی ہے اور قبضہ گروپ کے معاونت کرنے پر سی پی او ملتان کے خلاف انکوائری کی درخواست کی ہے  اس حوالے سے جب وحید آرائیں نے انکا موقف لینے کیلئے موبائل فون پر رابط کیا گیاتو انہوں نے کال اٹینڈ نہیں کی اور نہ ہی مسیج کا جواب دیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -