صحت کارڈ سکیم کو بند کرنا قبائلی عوام کی قربانیوں کی توہین:محمود خان

  صحت کارڈ سکیم کو بند کرنا قبائلی عوام کی قربانیوں کی توہین:محمود خان

  

    پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے پیش نظر سرکاری محکموں کے پی او ایل اخراجات میں 35 فیصد کٹوتی کے بعد اپنی کفایت شعاری پالیسی کے تحت ایک اور اہم اقدام کے طور پر گاڑیوں کی دیکھ بال و مرمت، ٹی اے/ڈی اے اور دیگر سرکاری اخراجات میں بھی کمی کے لئے تمام سرکاری محکموں کو اضافی گائیڈ لائنز جاری کردیئے ہیں۔وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی منظوری کے بعد ان گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کے لئے وزیر اعلی سیکرٹریٹ نے چیف سیکرٹری اور محکموں کے انتظامی سربراہوں کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کردیا ہے۔ گائیڈ لائنز کے مطابق صوبائی سطح کے تمام اجلاسوں جن میں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی شرکت ضروری ہو، کو ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد کیا جائے گا۔ اسی طرح ڈویژنل سطح کے تمام اجلاسوں جن میں ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کی شرکت ضروری ہو، کو بھی ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں محکمانہ اجلاسوں میں بھی متعلقہ ضلعی محکموں کے سربراہان ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہونگے۔ تاہم آپریشنل ڈیوٹیز، ایمبولینس سروس، فیلڈ انسپکشنز، کورٹ کیسز اور دیگر ضروری معاملات پر ان گائیڈ لائنز کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ وزیر اعلی محمود خان کے احکامات کی روشنی میں صوبائی حکومت کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات میں کمی کے لئے پہلے ہی سے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے۔ان گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کے نتیجے میں پی او ایل اخراجات  کے ساتھ دیگر اخراجات کو بھی خاطر خواہ حد تک کم کیا جا سکے گا، ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاسوں میں شرکت سے ڈویڑنل اور ضلعی انتظامیہ افسران کی ہمہ وقت فیلڈز میں حاضری بھی یقینی ہوگی جس کے نتیجے میں پبلک سروس ڈیلیوری میں بھی خاطرخواہ بہتری آئے گی۔ سرکاری محکموں کے پی او ایل اخراجات میں 35 فیصد کٹوتی سے سرکاری خزانے کو ماہانہ ساڑھے بارہ کروڑ اور سالانہ ڈیڑھ ارب  روپے کی بچت ہو گی۔ اس سلسلے میں یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کو ذیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لئے پر عزم ہے، پیٹرولیم قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ سے سرکاری وسائل پر اضافی بوجھ بڑھ رہا ہے اور اس بوجھ کو کم کرنے کے لئے پی او ایل اخراجات میں کٹوتی سمیت دیگر ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ صوبائی حکومت شروع دن ہی سے کفایت شعاری کی پالیسی پر گامزن ہے اور حکومت کی بھر پور کوشش رہی ہے کہ سرکاری وسائل کا بہترین استعمال یقینی ہو اور عوامی وسائل کا زیادہ سے زیادہ حصہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو۔ وزیر اعلی نے تمام سرکاری محکموں کو اور خودمختار اداروں کو صوبائی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کرنے اور اس سلسلے میں مانیٹرنگ کا موثر نظام وضع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے وفاقی حکومت کی طرف سے قبائلی اضلاع کیلئے صحت کارڈ اسکیم کے لئے فنڈز کی بندش پرشدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے خیبر پختونخواہ اور قبائلی اضلاع کے ساتھ ناانصافیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے کہا ہے کہ قبائلی عوام نے پاکستان کی خاطر بیش بہا قربانیں دی ہیں، وفاقی حکومت کی طرف سے صحت کارڈ اسکیم کوبند کرنا قبائلی عوام کی قربانیوں کی توہین ہے اور امپورٹڈ حکومت کے اس طرح کے امتیازی اقدامات ملک دشمنی کے مترادف ہیں۔ محمود خان نے کہا ہے کہ چوروں کا ٹولہ قبائلی عوام کے حقوق بھی چوری کرنا چاہتی لیکن صوبائی حکومت کسی صورت لٹیروں کو قبائلی اضلاع کے عوام کے حقوق غصب کرنے نہیں دے گی اور قبائلی عوام کے حقوق کے لئے ہر حد تک جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف حکومت نے گزشتہ چار سالوں میں انتھک محنت سے قبائلی اضلاع کے انضمام کا سارا عمل مکمل کرکے جنگ زدہ علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے اور صوبائی حکومت محدود مالی وسائل کے باوجود علاقے کے عوام کی محرومیوں کا آزالہ کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے لیکن بدقسمتی سے دوسری طرف مسلط شدہ حکومت قبائلی اضلاع کے عوام کو پیچھے دھکیلنا چاہتی ہے، امپورٹڈ حکومت کی طرف سے ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز میں کمی کے بعد اب 30 جون سے صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز بھی بند کئے جارہے ہیں جو قبائلی اضلاع کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ محمود خان نے وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز کی فراہمی کے بغیر صحت کارڈ اسکیم کی صوبے کو منتقلی کے فیصلے کو  ناانصافی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت فوری طور پر قبائلی اضلاع کے صحت کارڈ کیلئے فنڈز فراہم کرے تاکہ نئے مالی سال سے قبائلی اضلاع کے عوام کو صحت کارڈ پلس کی سہولت فراہم کی جاسکے۔

مزید :

صفحہ اول -