بیٹی کی بازیابی کیلئے قانونی جنگ  جاری رکھوں گا، والددعازہرہ

  بیٹی کی بازیابی کیلئے قانونی جنگ  جاری رکھوں گا، والددعازہرہ

  

کراچی(این این آئی)لاہورکے نوجوان سے پسند کی شادی کرنے والی کراچی کی دعا زہرہ کے والد مہدی علی کاظمی نے کہاہے کہ اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے قانونی جنگ جاری رکھوں گا۔ وہ کراچی پریس کلب میں ایڈووکیٹ جبران ناصر کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہے تھے۔ ایڈووکیٹ جبران ناصرنے کہاکہ کافی ہفتوں سے دعا زہرہ کا معاملہ چل رہا ہے،میں اس کیس پر ایک وکیل کے طور پر کام کررہا ہوں،کورٹ نے بچی کو آزادانہ فیصلے کا اختیار دیا ہے کہ جس کے ساتھ چاہے رہ سکتی ہے، پولیس نے چالان جمع کروایا ہے،سات سال پہلے کے نادرا کے کاغذات کو رد کردیا گیا،پولیس جس میڈیکل سرٹیفیکٹ کو حتمی مان رہی ہے اس کے مطابق اس کی عمر 17 سال ہے یہ سرٹیفیکیٹ ایک ڈاکٹر نے بنایا ہے، جبکہ عدالت کے تحت بہت سے ڈاکٹرز کا ایک پینل بنایا جاتا ہے جو یہ کام کرتا ہے،بچی کے مختلف عدالتوں میں دیئے گئے بیان سے یہ نہیں پتہ چلتا کہ بچی لاہور کیسے گئی ہے،مرکزی ملزم ظہیر کے بارے میں کوئی تفتیش نہیں کی جارہی ہے، اگر لڑکی 16 سال سے کم عمر میں گھر سے جاتی ہے اسے ورغلایا جاتا ہے تو یہ اغوا کے زمرے میں آتا ہے،عدالت نے جو فیصلہ کیا ہے وہ اسی معلومات پر کیا ہے جو انھیں دیا گیا،اگر کوئی کم عمر کا کیس ہوتا ہے تو عدالت ماں باپ کی تحویل میں دیتا یے یا پھر سرکار کی مدعیت میں یا شیلٹر ہوم بھیجتا ہے،یہ معاملہ فیملی کورٹ کا ہے جو اس معاملے کو دیکھتی اور پھر فیصلہ کرتی کہ بچی کہاں جائے گی، ہائی کورٹ رہائی کا فیصلہ نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے آنے والے ہفتے میں جلد فیصلے کا کہا ہے،ہمیں امید ہے کہ عدالت انصاف اور قانون کے مطابق فیصلے کرے گی، ہمیں چاہئے کہ قیاس آرائیوں سے اجتناب کریں، ہائی کورٹ نے نکاح کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں دیا، نکاح پنجاب میں ہوا، وہاں کے قانون کے مطابق یوسی کو خط لکھاجاتایا پھر فیملی کورٹ میں معاملہ جاتا ہے،ہمارے نزدیک سب سے اہم بات اس کی بحفاظت واپسی ہے۔جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہاکہ گذشتہ روز آئی جی صاحب نے کہا کہ یہ کیس ختم ہوچکا ہے، لیکن پولیس کا موقف حتمی نہیں ہوسکتا، چالان کورٹ نے اب تک قبول نہیں کیا، ہم نے سپریم کورٹ میں کیس کے آئی او تبدیل کرنے کے لئے درخواست دے رکھی ہے۔ دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی نے کہاکہ پولیس کے رویے کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، پولیس کوئی تعاون نہیں کررہی۔ سپریم کورٹ کے وکیل نبیل قریشی نے کہاکہ ہم نے سپریم کورٹ میں یہ درخواست دی ہے کہ بچی کی حفاظت کی جائے عدالت جیسے مناسب سمجھے گی کرے گی۔

والدہ دعازہرہ

مزید :

صفحہ اول -