نگران سیٹ اپ جلد نہ آیا تو الیکشن شفاف کیسے ہوں گے:عمران خان

نگران سیٹ اپ جلد نہ آیا تو الیکشن شفاف کیسے ہوں گے:عمران خان
نگران سیٹ اپ جلد نہ آیا تو الیکشن شفاف کیسے ہوں گے:عمران خان

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہاہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں مزید بیٹھی رہیں اور نگران سیٹ اپ جلد نہ آیا تو پھر انتخابات شفاف کیسے ہو ں گے ،تحریک انصاف اس کے خلاف سپر یم کور ٹ اور الیکشن کمیشن سے رجوع کر ے گی۔اگر سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ ن نگران سیٹ اپ نہیں لا پا رہیں تو ہم کیوں اس کا نقصان اٹھائیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ 23مارچ کے جلسے سے ڈر کر لاہور میں پارٹی ورکرز کے خلاف انتقامی کاروائیاں ہو رہی ہیں لیکن پھر بھی 23مارچ کو لوگ جلسے میں شرکت کریں گے اور انہیں کوئی بھی نہیں روک سکتا۔دنیا نیوز کے پروگرام ”نقطہ نظر “میں سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کے نگران وزیر اعظم سے متعلق سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اب اس نتیجے پر آگئی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جو مر ضی نگران وزیر اعظم لے آئیں لیکن یہ کام جلد سے جلد ہو نا چاہیے ۔ صرف 23مارچ کے جلسے سے سیاست کو تبدیل کرنے کے سوال پرعمران خان نے کہا 30اکتوبر کے جلسے سے بھی پاکستان کی سیاست تبدیل ہوئی ہے۔پارٹی میں دوسری جماعتوں کے نمائندوں کی قطاریں لگ گئیں،ان جماعتوں کے کئی رہنماﺅں نے پی ٹی آئی سے بات چیت شروع کر دی لیکن ہم نے بہت سے لوگوں کو پارٹی میں شامل نہیں کیا۔اس جلسے کے بعد نواز شریف کی ساری سیاست تبدیل ہو گئی اور ن لیگ نے پی ٹی آئی کے خلاف مہم جوئی شروع کردی۔ ن لیگ نے لیپ ٹاپ سکیم نکال کر نوجوانوں کی اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ تحریک انصاف انٹراپارٹی الیکشن میں پھنسی ہوئی تھی اور 12ماہ سے پارٹی کی تنظیمیں ہی نہیں تھیں تو ہم اس دور میں ن لیگ کا مقابلہ کیسے کر سکتے تھے۔یہ تاثر بن گیا تھا کہ ن لیگ الیکشن جیتنے والی ہے ۔اب 23مارچ کا جلسے میں سب دیکھیں گے کہ سونامی پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ہو گیا ہے اور یہ ثابت ہو جائے گا کہ عوام کس کے ساتھ کھڑی ہے۔عمران خان کاکہنا تھا کہ پی ٹی آئی صرف موجودہ اسمبلی سے باہر بیٹھی ہوئی جماعتوں سے اتحاد کرے گی،ن لیگ کے ساتھ اتحاد ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ ان کی جماعت دہشت گرد تنظیم کے ساتھ بھی اتحاد کو تیار ہے اورپانچ سال حکومت کے ساتھ رہنے والے لوٹوں سے لینے کو تیار ہے۔ تحریک انصاف ان لوٹوں کو نہیں رکھ سکتی کیونکہ ان لوگوں کے ساتھ مل کر تبدیلی کیسے آئے گی۔جماعت اسلامی کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کا سوچ رہے ہیں لیکن حتمی فیصلہ پورے ملک میں پارٹی لیڈر شپ کے منتخب ہو نے کے بعد 21مارچ کو کیا جائے گا۔تحریک انصاف کے منشور کے حوالے سے ایک سوال پر عمران خان نے کہا کہ ہمارا منشور ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے مختلف ہے ،یہ جماعتیں بڑے لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں ، ایک پارٹی بڑے کسانوں کو جبکہ دوسری بڑے بزنس مین کو فائدہ پہنچاتی ہے ۔ان دونوں جماعتوں نے پاکستان کے نچلے طبقے کو تباہ کر دیا ہے۔ان جماعتوں کا نظام غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں کو فائدہ پہنچاتاہے۔تحر یک انصاف اقتدار میں کر پیسے والوں سے پیسا اکٹھا کرے گی اور غریبوں کو منتقل کرے گی۔اگر پاکستان کا گورننس سسٹم ٹھیک ہو جائے تو اوورز سیز پاکستانیوں کی بہت بڑی انسوسٹمنٹ آسکتی ہے۔ گورننس کو بہتر کرنے کے لیے اداروں کو غیر سیاسی بنانا ہو گا تا کہ ادارے آزادی کے ساتھ اپنا کام کر سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آکر ٹیکس اکٹھا کروں گا،کرپشن روکوں گا اور امریکہ کی جنگ سے قوم کو نکالوں گا۔

مزید : قومی