بھارتی مسلمان اور دو قومی نظریہ

بھارتی مسلمان اور دو قومی نظریہ
بھارتی مسلمان اور دو قومی نظریہ

  

انگریزوں اور ہندوﺅں کی غلامی سے نجات کی خاطر برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم ؒ اور اقبال کی قیادت میں جو طویل، مگر فعال جدوجہد کی، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اس جدوجہد آزادی کو بالعموم تحریک پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس متحرک جدوجہد کے آغاز میں قائد اور اقبال کے علاوہ بہت سے مسلم زعماءنے اپنی بھرپور کوشش کی کہ برطانیہ کے اقتدار کے ممکنہ خاتمے کے بعد یہاں کے ہندو اور مسلمان اکٹھے رہ کر زندگی بسر کر سکیں۔ قائداعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ اس خواب کی تعبیر کو عملی شکل دینے کی کوشش میں گزرا۔ تبھی تو جہاں سرو جنی نائیڈو سمیت بہت سی اعتدال پسند ہندو شخصیات نے قائد کو ”ہندو مسلم اتحاد کا سفیر“ کے خطاب سے نوازا، وہیں اقبال نے اپنی شہرہ آفاق نظم ”ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا“ لکھی، مگر اپنی تمام تر مخلصانہ کوششوں کے باوجود ایک مرحلے پر قائدؒ اور اقبالؒ کو بخوبی ادراک ہو گیا کہ ہندو اور مسلمان ہر لحاظ سے الگ قوم ہیں اور انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو اکثریت مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری کے طور پر تو قبول کر سکتی ہے، اپنے برابر کا درجہ دینے کے لئے کبھی تیار نہیں ہو سکتی۔

اسی وجہ سے اقبالؒ نے ”مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا“ کے ذریعے گویا ”دو قومی نظریے“ کا اعلان کیا اور خطبہ الٰہ آباد میں برصغیر کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا نظریہ پیش کیا۔ اِس مطالبے پر مہر تصدیق قائداعظم ؒ کی قیادت میں23مارچ1940ءکی قرارداد لاہور کی صورت میںسامنے آئی۔ اس کے بعد سات سال کی انتہائی قلیل مدت میں مملکت خداداد پاکستان کی شکل میں اس خواب کو تعبیر مل گئی۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ اس نئی ریاست کے قیام کے وقت لاکھوں مسلمانوں کو اپنی جان کا نذرانہ دینا پڑا۔ یوں 23مارچ2013ءکو یوم پاکستان مناتے ہوئے وطن عزیز کے سبھی خواص و عوام اس عہد کی تجدید کر رہے ہیں کہ وہ اپنی آزادی کی حفاظت کے لئے ہر قسم کی قربانی دیں گے۔

اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے غیر جانبدار حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ گزشتہ ساڑھے65سال میں تاحال وطن عزیز قائد ؒاور اقبال ؒکے خواب کی حقیقی تعبیر کا روپ نہیں دھار سکا۔ اس معاملے میں جہاں اپنوں کی بہت سی کوتاہیوں کا دخل ہے،وہیں قیام پاکستان کے ازلی مخالفین کی سازشیں بھی بہت بڑی وجہ ہیں۔ لہٰذا وطن عزیز میں ابھی بہت سے ایسے تعصبات اور محرومیاں موجود ہیں، جن کے تدارک کی اشد ضرورت ہے، مگر دوسری جانب اگر بھارت میں رہنے والے 20کروڑ مسلمانوں کی حالت ِ زار کا سر سری سا جائزہ بھی لیں تو بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ وہ بے کس کروڑوں مسلمان دوسرے ہی نہیں،بلکہ تیسرے درجے کے شہریوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خود ہندوستانی وزیراعظم کی قائم کردہ ”سچر کمیٹی“ نے اعتراف کیا ہے کہ مسلمان اقلیت کو سماجی، سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی شعبے میں بدترین مسائل کا سامنا ہے۔

اس کی تازہ مثال28فروری2013ءکو تب سامنے آئی، جب بھارتی وزیر خزانہ ”چدم برم“ نے سالانہ بجٹ پیش کیا، اس میں اقلیتی مسلمانوں کی فلاح کے لئے3511کروڑ کی رقم مختص کی گئی، جو مجموعی بجٹ کا محض0.56فیصد ہے،جبکہ مسلمان آبادی کی شرح 15فیصد سے بھی زائد ہے۔ اِس پس منظر میں انسان دوست خاتون ہندو دانشور تلیستا سیلواڈ نے یکم مارچ 2013ءکے بھارتی روزنامے ”سہارا“ میں ”کیا واقعی ہندوستان بدل رہا ہے“؟ میں لکھا ہے کہ بھارتی حکومت کے تمام تر دعوﺅں کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ مسلمانان ِ ہند کے ساتھ انتہائی ظالمانہ رویہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔ مثلاً حیدر آباد دکن میں ہونے والی دہشت گردی کے فوراً بعد سینکڑوں مسلمانوں کو بغیر کسی قسم کے شواہد کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ابھی حیدر آباد دھماکوں کی تفتیش ابتدائی مرحلے میں تھی، شواہد جمع کرنے کا کام شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ روایتی ذہنیت پر مبنی بھارتی میڈیا اور پولیس کی شک کی سوئی نے عجیب منطق اختیار کر لی۔ وہ یہ کہ بھارت کے کسی بھی کونے میں کسی بھی نوعیت کی ناپسندیدہ واردات ہوتی ہے، تو اس میں مسلمان ہی ملوث ہوں گے اور اگر وہ مسلمان ہیں ،تو لازماً انڈین مجاہدین ہوں گے اور یہ کام آئی ایس آئی کے کہنے پر کیا گیا ہو گا۔

اِس موقع پر بھارتی حکومت اور میڈیا غالباً بھول گیا کہ ”حیدر آباد مکہ مسجد“ دھماکوں میں بھی یہی شک ظاہر کیا گیا تھا، مگر دسمبر2012ءمیں این آئی اے نے جب تیج رام کو گرفتار کیا تو پتہ چلا کہ ”مکہ مسجد“ میں آئی کی ڈی مواد اسی نے لگایا تھا، مگر یہ مواد بوجوہ پھٹ نہیں پایا، البتہ اس کے ساتھی راجندر چودھری کا لگایا دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا تھا۔ اب یہ دونوں بھارتی تحقیقی ادارے این آئی اے کی حراست میں ہیں۔ خاتون بھارتی دانشور تیلستا سیلواڈ کے مطابق مئی 2006ءمیں جب انہوں نے اپنے جریدے ”کمیونلزم کمبیٹ“ کے لئے مہاراشٹر کے اے ٹی ایس اینٹی ٹرارسٹ سکواڈ کے چیف ”رگھونسی“ کا انٹرویو کیا تو انہوں نے نانڈیر دہشت گردی کے حوالے سے ایسے انکشافات کئے تھے، جن سے بے گناہ مسلمانوں کی حالت زار اور ہندو دہشت گردوں کی بابت خوفناک انکشاف سامنے آئے تھے۔

 ایسے میں توقع کی جانی چاہئے کہ23مارچ کو یوم پاکستان مناتے ہوئے سبھی اہل وطن اس عہد کی تجدید کریں گے کہ وہ فرقہ وارانہ، صوبائی اور لسانی تعصبات سے اوپر اُٹھ کر ملک ِ عزیز کو ہر شعبے میں مضبوط بنانے کی پوری کوشش کریں گے۔ یہ امید بھی بے جا نہیں ہو گی کہ عالمی رائے عامہ پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیوں کی بجائے زمینی حقائق کا ادراک کرے گی اور تعمیری روش اپنائے گی۔ ہر پاکستانی کو بھارت میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کی حالت زار سے سبق حاصل کرتے ہوئے دو قومی نظریئے کی حقانیت کا دل سے اعتراف کرتے ہوئے اپنی تمام تر توانائیاں ملک و قوم کی بھلائی کی خاطر صرف کر کے اپنی انفرادی اور اجتماعی قومی ذمے داریوں سے عہدہ برا ہونا ہو گا۔  ٭

 

مزید : کالم