پی پی ایل کی کتاب کا آخری ورق بھی اُلٹ گیا

پی پی ایل کی کتاب کا آخری ورق بھی اُلٹ گیا
پی پی ایل کی کتاب کا آخری ورق بھی اُلٹ گیا

  

نیو یارک سے ڈاکٹر اعجاز قریشی کا فون آیا تھا اور میں ان کے ساتھ ایک ویب سائٹ قائم کرنے کی بات کر رہا تھا۔ کچھ وقت کے بعد ایک اور فون آیا۔صوفیہ بول رہی تھیں۔اعجاز اور فوزیہ کی بیٹی کا نام صوفیہ ہے اور میں سمجھا کہ وہ انفرمیشن ٹیکنولوجی میں اپنی سوجھ بوجھ کا اظہار کرنا چاہتی ہیں ،مگر جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ کال‘ سٹرلنگ ورجینیا سے ہے اور صوفیہ عمران بتانا چاہتی ہیں کہ ان کے نانا مسٹر ایف ای چوہدری ایک سو چار سال کی عمرپا کر لاہور میں انتقال کر گئے ہیں اور یہ کہ ان کی وفات ان کے یوم پیدائش پر ہوئی ہے۔ گزشتہ سال جب ان کے فرزند سیسل چوہدری نے رحلت کی تو میں نے تعزیت کے خط میں اپنا یہ جملہ نقل کیا تھا کہ 1965 میں وطن کے دفاع میں پہلی گولی ہوا باز سیسل چوہدری نے چلائی اور قوم نے انہیں اعلیٰ اعزازت اور عہدوں سے نوازا۔سنیچر کے دن میں نے اپنے دیرینہ رفیق کار چوہدری خادم حسین کو فون کیا اور ان سے پوچھا آیا” چاچا چوہدری “ کو جوزف ٹاو¿ن کے المیے کا علم تھا تو انہوں نے بتا یا کہ اس المیے کی سب تفصیلات ان کے علم میں تھیں۔خادم حسین ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں مسٹر ایف ای چوہدری کے شاگرد سمجھے جاتے ہیں اور وہ ان سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔

مسٹر ایف ای چوہدری کی وفات سے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ( PPL) کی جو لاہور سے دو اخبارات پاکستان ٹائمز اور امروز شائع کرتی تھی، کتاب کا آخری باب بند ہو گیا ہے۔ بٹوارے سے پہلے پاکستان ٹائمز کی بنیاد تحریک پاکستان کے لیڈر محمد علی جناحؒ نے رکھی تھی اور مسٹر چوہدری اسی وقت سے اس اخبار کے سٹاف فوٹو گرافر تھے۔ان کے خزانے کی تاریخی تصویریں ‘ تحریک آزادی کی یاد دلاتی تھیں۔وہ نیشنل پریس ٹرسٹ کے تحت اخبار کے بند ہونے تک اس سے وا بستہ رہے اور ان اخباروں کے صحافیوں کو کمپنی کے اثاثوں میں سے ” گولڈن ہینڈ شیک“ دلوا کر دم لیاجو اس زمانے کے لحاظ سے اچھی خاصی رقوم پر مشتمل تھا۔وہ پنشن کے حق کے لئے بھی آخری دم تک جدوجہد کرتے رہے۔

پاکستان ٹائمز اور امروز میں مسٹر چوہدری کے معاصرین میں سے چند ایک باقی ہیں۔ پی ٹی کے ایک سٹاف رپورٹر محمود احمد تھے جو کینیڈا میں رہتے ہیں۔انہوں نے بذریعہ ای میل لاہور کے ایک اخبار کا لنک روانہ کیا جس میں مسٹر چوہدری کی وفات کی خبر تھی۔میں نے انہیں جواب دیاکہ صوفیہ عمران سے میں یہ دردناک خبر پہلے ہی سن چکا ہوں۔محمود نے جواب میں ان دنوں کی یادیں تازہ کیں جب وہ‘ شمیم رضوی اور اکرام شیخ اسلام آبادمیں جمع تھے اور چاچا کی باتیں کیا کرتے تھے۔ محمود نے کہا خبر اتنی اندوہناک ہے کہ ان میں فون اٹھا کر مسز عمران سے تعزیت کرنے کا یارا بھی نہیں ۔دعا ہے کہ خدا مرحوم کے ساتھ ہو۔

۲

اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر وہ امروز کی جانب چلے آتے تھے اور زیادہ وقت حمید جہلمی (مرحوم)کے کمرے میں گزارتے تھے۔میرا خیال ہے کہ وہ جہلم کے آس پاس پیدا ہوئے تھے اور کالج کے زمانے میں ہی لاہور آ گئے تھے۔ جہلم نے مرزا ابراہیم اور دادا امیر حیدر جیسے ٹریڈ یونینسٹ‘ راجہ غضنفر علی خان جیسے سیاستدان اور بالی وڈ کے گلزار جیسے اہل قلم پیدا کئے۔ چاچا شاعر نہیں تھے مگر مجھے دیکھتے ہی وہ چند اشعار گنگنانے لگتے تھے جو انہوں نے خود گھڑے تھے۔” اکمل علیمی‘ بھائی سلیمی“ آگے وہ کچھ اور بھی کہا کرتے تھے جو مجھے یاد نہیں رہا۔وہ بہت ہی خوش طبع تھے مگر ان کی دیانت اور غیر جانبداری شک و شبہے سے بالاتر تھی۔دن بھر ان کی پرانی پچاس ، سی -سی کی موٹر سائیکل شہر میں دوڑتی پھرتی تھی اوروہ خبری تصویریں اتا رتے رہتے تھے۔بیشتر سیاستدان ان کی عزت کرتے تھے ،مگر انہوں نے کبھی کسی سے بے جا رعایت نہیں کی ۔مسز چوہدری کی وفات پر میں تعزیت کے لئے ان کے گھر گیا ۔ان دنوں سیسل‘ سینٹ انتھنی ہائی سکول کے پرنسپل تھے، مگر ان کے والد جیل روڈ پر اپنے بوسیدہ مکان میں رہتے تھے۔ اس پرانے مکان میں ان کا سرمایہ وہ تصویریں تھیں جو انہوں نے بٹوارے سے پہلے اور بعد میں اہم شخصیتوں اور تقریبات کی اتاری تھیں اور ان دنوں لاہور میں ان کی نمائش بھی ہو چکی تھی۔

خالد حسن‘ چاچا کے جوان سال رفیق کار تھے۔ 2009 میں واشنگٹن میں وفات پانے سے قبل ان کی کوشش رہی کہ مسٹر ایف ای چوہدری کو ان کی عمر بھر کی صحافتی خدمات پر ان کے شایان شان کوئی قومی اعزاز پیش کیا جائے۔آج چاچا چودھری ہم میں نہیں ہیں۔ ظہیر بابر، حمید اختر اور حمید جہلمی سمیت بہت سے دوست رخصت ہوچکے، چاچا ان سب کو یاد کرتے تھے یوں بھی وہ مرتے دم تک ملنے والوں کے ساتھ تعلق نبھاتے رہے، میں امریکہ آنے کے بعد جب بھی لاہور گیا ان سے ضرور مل کر آیا، کرسمس پر کارڈ بھیجا تو شکریہ چودھری خادم حسین کی وساطت سے وصول کیا، ایسابے باک شخص شاید ہی کوئی بچا ہو۔  ٭

 

مزید : کالم