منشوراورمفروضے

منشوراورمفروضے
منشوراورمفروضے

  

انتخابات کی سرگرمیاں باضابطہ طور پر شروع ہونے کو ہےں۔ انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا ہی چاہتا ہے۔ عام انتخابات بس ایسی ہی رسمی کارروائی نہیں ہےں کہ انہیں نظر انداز کر دیا جائے یا ان کے سلسلے میں سنجیدگی اختیار نہ کی جائے۔ پوری قوم کے مستقبل، خصوصاً آئندہ پانچ سال کا دارومدار انتخابات پر ہی ہوتا ہے۔ ہم جیسا رویہ اختیار کرتے ہیں، وہی ہمارے سامنے آتا ہے اور پانچ سال بعد ہم ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ مئی کے مہینے کی کسی تاریخ کو پوری قوم کے ووٹ دینے کے اہل افراد کو یہ موقع ایک بار پھر ملے گا کہ وہ اپنی پسند کے نمائندے منتخب کریں۔ ان کے یہ نمائندے ملک کے وزیر اعظم کا انتخاب کریں گے جو اپنی حکومت بنا کر پانچ سال تک پاکستان کا نظام حکومت چلائیں گے۔ نظام حکومت میں برسراقتدار جماعت کیا کچھ کرے گی، اس کے لئے انتخابات میں حصہ لینے والی تمام جماعتیں اپنا اپنا پروگرام جاری کرتی ہیں ۔ اس منشور میں لوگوں کی زندگی سے متعلق تمام شعبوں کا احاطہ کیا جاتا ہے اور لوگوں کو مسحور کرنے والی نوید سنائی جاتی ہے کہ کن کن پالیسیوں پر کس کس انداز اور طریقے سے عمل کیا جائے گا۔

پاکستان میں اب تک تمام سیاسی جماعتوں کے منشور میں ایک طرح سے بڑی بڑی باتیں نظر آتی ہیں، جن پر اپنے دور اقتدار میں عمل کرنا انہیں نصیب نہیں ہوتااور اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد نہ وہ خود اپنے منشور کا جائزہ لیتی ہیں کہ کس حد تک عمل کیا گیا اور کس حد تک کیوں عمل نہیں کیا جاسکا، جسے وہ آئندہ منتخب ہونے کی صورت میں پایہءتکمیل کو پہنچائیں گی۔ لوگ بھی کسی سطح پر ان کے منشور کا دوبارہ جائزہ نہیں لیتے، اس لئے کہ انہیں اس کا موقع ہی نہیں دیا جاتا ۔ بس ایک رسمی سی کارروائی ہے کہ منشور بھی جاری کرنا ہے، خواہ عمل ہو یا نہ ہو۔ پیپلز پارٹی اگر اپنے منشور سن 2008ءکا بغور جائزہ لے تو اسے ہر سطر پر ندامت نظر آئے گی کہ یہ بھی نہیں کیا، وہ بھی نہیں کیا۔

پیپلز پارٹی کا منشور جن پانچ ای (E)کی بنیاد پر رکھا گیا تھا،ان میں سے شائد ایک بھی ای پوری ہوئی ہو۔ مسلم لیگ (ن) پہلی مرتبہ برسراقتدار آنے کی کوشش نہیں کر رہی ہے، لیکن اس کی قیادت نے بھی کبھی زحمت نہیں کی۔ پیپلز پارٹی نے منشور جاری کیا ہے، جس میں وعدے کئے گئے ہیں کہ 2018ءتک یہ کیا جائے گا، وہ کیا جائے گا، وغیرہ۔ پارٹی قیادت کو توجہ سے دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا وجوہات تھیں جو 2008ء میں دیئے گئے منشور پر عمل نہیں ہو سکا۔ توانائی کے سلسلے میں نتیجہ خیز کارروائی میں کہاں کوتاہی ہوئی۔ عام لوگوں کو انصاف کی فراہمی کیوں ممکن نہیں ہو سکی۔ منشور میں کہاں لکھا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جاری کیا جائے گا، جس کے ذریعے مفلس اور ضرورت مند لوگوں میں رقم تقسیم کی جائے گی۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے کرایہ پر پاورہاﺅس لینے کا ذکر کس منشور میں تھا۔ راجہ رینٹل کے ذہن کی خرافات تھیں، جس سے صدر مملکت سمیت سب نے فائدہ اٹھایا۔

 توانائی کے بحران پر کسی حد تک ملک میں موجود پاور ہاﺅسوں کی صلاحیت میں اضافہ اور ان کی نئے سرے سے مرمت کر کے قابو پایا جا سکتا تھا، لیکن ایسا کرنے کی صورت میں خرد برد کی گنجائش کم تھی۔ کہاں لکھا تھا کہ سندھ بھر میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے قائم کئے جائیں گے، جن میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی مطلوبہ تعداد میسر ہی نہیں ہوگی۔ منشور منصوبے کا ابتدائی خاکہ تصور کیا جاتا ہے۔ منشور میں جو کچھ درج تھا ، منصوبے اس کے برعکس بنائے گئے۔ کہاں لکھا تھا کہ تندوری روٹی فراہم کی جائے گی، کہاں لکھا تھا کہ لیپ ٹاپ مفت بانٹے جائیں گے، کہاں لکھا تھا کہ دانش سکول کھولے جائیں گے؟ کیا پارٹیوں کے منشور میں جو کچھ درج تھا ان پر لفظ بہ لفظ عمل کیا گیا یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنا اپنی جگہ ٹھیک ہو سکتا ہے لیکن بجلی، روزگار، انصاف، تعلیم کے مواقع، امن وامان، بدعنوانی ، لوٹ مار کیوں ہوئی ، سرکاری ملازمتوں میں اہلیت کو ہر سطح پر نظر انداز کیوں کیا گیا، سفارشوں پر لوگوں کو مراعات سے کیوں مستفید کیا گیا؟ یہ سارے وہ سوالات ہیں جو عام لوگ کرتے ہیں۔ کون لوگ ذمہ دار تھے اور ان کا احتساب کون کرے گا اور کیوں کر ممکن نہیں ہو سکے گا۔ عام لوگوں کی آواز حکمرانوں کے کانوں میں اس لئے نہیں پہنچتی ہے کہ وہ ان سے کبھی بھی ملاقات نہیں کرتے۔

یہ اپنی جگہ ایک خوش آئند حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی نے بعض ایسے اقدامات بھی کئے جو اس ملک کے نظام کو بہتر کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے اور جن کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے، لیکن ان نتائج سے عام آدمی کو جب فائدہ ہوگا، سو ہوگا، ایک عام آدمی آج کیا کرے ، کہاں جائے؟ بجلی نہ ہونے سے اس کا روز گار متاثر ہوا، اس حد تک متاثر ہوا کہ سرمایہ کار اپنا سرمایہ ہی لے کر کسی اور ملک میں چلا گیا۔ امن و امان اس حد تک تکلیف دہ رہا کہ سرمایہ کار اپنے سرمایہ محفوظ مقام، جو کوئی نہ کوئی غیر ملک ہے، کی جانب لے گئے۔ پیر پگارو نے اپنے حیدرآباد کے جلسے میں کہا تھا کہ اس ملک کے لوگ چاہتے ہیں کہ تعلیم، اور صحت اور امن وامان کو فوقیت حاصل ہو اور سندھ کے غریب لوگ انصاف اور عزت کے خواہش مند ہیں۔ یہ ایک ایسا بنیادی منشور ہے ، جسے کسی بھی حکومت کو ہر کام پر فوقیت دینا چاہئے۔

جمہوری طرز حکومت میں دنیا بھر میں جو پہلی چیز اہمیت کی حامل تصور کی جاتی ہے، وہ برسراقتدار جماعت اپنے ووٹر وں کوکتنی اہمیت دیتی ہے۔ پاکستان میں اس طرف سوچا ہی نہیں جاتا۔ ووٹر کے بارے میں صرف یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسے انتخابات والے روز اپنا ووٹ ڈالنا ہے اور بس۔ بہت سارے حلقوں میں تو ووٹر کو یہ زحمت بھی نہیںاٹھانا پڑتی ہے، امیدوار اور اس کے حواری یہ کام خود ہی کر ڈالتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد کبھی کوئی حاکم وقت اس ملک میں عام شخص کو ملاقات کا وقت نہیں دیتا ہے۔ اس تماش گاہ میں کسی وزیر اعظم نے تو کجا، وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزراءنے عام فرد کو اس کی ضرورت کے موقع پر کبھی وقت نہیں دیا۔ پاکستان میں پہلے مارشل لاءسے قبل وزراءلوگوں کو اس طرح کا وقت دیا کرتے تھے ۔ ذوالفقار علی بٹھو نے کھلی کچہری کا رواج اسی لئے رائج کیا تھا کہ انہیں عام لوگوں سے براہ راست گفتگو کرنے، ان کے مسائل سننے اور بروقت احکامات جاری کرنے کا موقع مل جایا کرتا تھا۔ جو لوگ ملاقات کر پاتے تھے، وہ بھی مطمئن ہوجایا کرتے تھے۔ بھٹو کو یاد رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ اب ایسا کیوں موقعہ نہیں مل سکتا ؟ اس شخص کو بالمشافہ ملاقات کے ذریعے کیوں موقع نہیں مل سکتا کہ وہ اپنے حاکم سے براہ راسست اپنے دل کی بات کہہ سکے یا اپنی تکلیف بتا کر اس کے ازالے کا مطالبہ کر سکے۔ اب تو پریس کانفرنس بھی جلسوں کی صورت میں ہوتی ہے۔

داخلی محاذ پر جو حکومت بھی عام لوگوں کے لئے روٹی، کپڑے، مکان، تعلیم، علاج، تحفظ، اہلیت کی بنیاد پر روز گار، عزت نفس، انصاف اور امن و امان اور روز مرہ کی اشیاءکی قیمتوں میں استحکام کو اپنے منشور میں ترجیحی مقام دے گی، کامیابی اسی کے حصے میں آئے گی۔سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ آپس میں یہ بھی طے کرلیں کہ تعلیمی ، توانائی، لیبر ، صحت ، انتظامی امور کی پالیسیاں ہر حکومت تبدیل نہیں کرے گی، کیونکہ اس طرح پیسے کی بربادی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ بلوچستان، ڈیموں کی تعمیر، نجکاری، دہشت گردی کی جنگ میں شریک کار کی حیثیت سے ذمہ داری نبھانے، ملک میں دھماکوں میں ہلاک ہو جانے والے لوگوں کے خاندانوں کی پرورش وغیرہ کے سلسلے میں بھی طویل المدت پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ رہ گیا معاملہ خارجہ امور کا تو یہ بھی سیاسی جماعتوں کو آپس میں مل بیٹھ کر کوئی ایک طویل مدتی پالیسی پر اتفاق کر کے اختیار کرنا چاہئے اور فوج سے بھی مشاورت کرنی چاہئے تاکہ ملک کی سرحدیں محفوظ رہ سکیں۔   ٭

مزید : کالم