ڈرون حملے اب بند ہو جائیں گے؟

ڈرون حملے اب بند ہو جائیں گے؟
ڈرون حملے اب بند ہو جائیں گے؟

  

دو چار روز ہوئے میڈیا پر ایک بہت ”خوش آئند“ خبربریک کی گئی۔اسے انٹرنیشنل میڈیا نے بھی خاصا بلواَپ کیا۔پاکستانی پریس میڈیا نے اس پر اداریئے لکھے۔ اپنے اخبار”پاکستان“ نے بھی اتوار (17مارچ) کو اسی موضوع پر اداریہ قلمبند کیا۔جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں (18مارچ) تو تب بھی انگریزی کا اخبار”ڈان“ میرے سامنے اور اس میں بھی اسی موضوع پر قلم فرسائی کی گئی ہے۔

لیکن اداریہ نویسی کے چند گلوبل اصول ہیں جن کی باقاعدگی سے پابندی کی جاتی ہے۔ مثلاً اداریہ کا موضوع اور متن جذباتیت اور جانبداری سے عاری ہونا چاہیے، زبان اور اسلوب کے چناﺅ میں احتیاط برتنی چاہیے،سنجیدہ اور متین اسلوبِ تحریر اختیار کرنا چاہیے، ”صلحِ کل“ کی طرف دھیان زیادہ دیا جاناچاہیے، تاکہ قارئین کا ہرطبقہءفکر ادارتی آرائ، افکار اور تجاویز پر صاد کرنے کی طرف میلان رکھے، وغیرہ وغیرہ....چنانچہ میڈیا نے اس بریکنگ نیوز کے ”ظاہر“ پر ہی تبصرہ کیا اور اسی پر ہی فوکس رکھا۔اس کے ”باطن“ میں کیا تھا، یہ تفصیل کالم نویسی کی ذیل میں آ جاتی ہے۔سو میں نے سوچا کہ اس ظاہر کے پیچھے ، اس خبر میں ،جو باطن پوشیدہ ہے،اس پر قارئین کے سامنے اپنا نقطہ ءنظر رکھوں۔ اس سے اتفاق کرنا یا نہ کرنا، اس کو درست جاننا یا غلط تصور کرنا یہ آپ کا اپنا نقطہ ءنظر ہوگا۔

تو قارئین گرامی! خبر یہ تھی کہ 15مارچ 2013ءکو اقوام متحدہ کے ایک نمائندے نے یہ اعلان کیا کہ پاکستان پر ڈرون حملے، اس ملک کی علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں، ان کو بند ہونا چاہیے۔خبر بریک کرنے والے کا نام بین ایمرسن(Ben Emmerson)ہے جویورپ کے ایک جانے پہچانے وکیل ہیں اور بین الاقوامی عدالت انصاف اور یورپین عدالت ہائے انصاف میں بنیادی انسانی حقوق اور انسداد دہشت گردی جیسے موضوعات پر انہوں نے بڑا کام کیا ہے اور بڑی شہرت حاصل کی ہے۔وہ خفیہ طور پر تین چار روز پاکستان آئے، متعلقہ حکومتی اداروں سے بات چیت کی، فاٹا بھی گئے اور وہاں کے مقامی لوگوں کے انٹرویو کئے ،اس کے بعد ایک رپورٹ، اقوام متحدہ میں پیش کی۔یہ رپورٹ خاصی جامع ہے اور مَیں نے لفظ بہ لفظ پڑھی ہے۔اس میں ایمرسن نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے لئے پاکستان نے کبھی اپنی رضامندی کا اظہار نہیں کیا اور امریکہ یہ حملے چونکہ ہمیشہ پاکستان کی منشاءاور مرضی کے خلاف کرتا رہا ہے، اس لئے ان کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔اقوام متحدہ کے اس خصوصی نمائندے کو اقوام متحدہ میں ”بنیادی انسانی حقوق کی کونسل“نے پاکستان بھیجا تھا....لیکن یہ بھی یاد رکھئے کہ نہ تو ایمرسن، اقوام متحدہ کے سٹاف پر ہے نہ ہی اس کو کسی قسم کا اعزازیہ یا ٹی اے ڈی اے(TA,DA)وغیرہ دیا گیا ہے....یعنی موصوف نے دورے کے تمام اخراجات اپنی ذاتی جیب سے ادا کئے ہیں!ایمرسن نے اس رپورٹ میں پاکستان کے اس موقف کی بھی تائید کی ہے کہ یہ ڈرون حملے، علاجِ مرض کی بجائے افزائشِ مرض کا باعث بن رہے ہیں اور دہشت گردی، کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔

مَیں اگرچہ آپ کی طرح، ایمرسن کی اس رپورٹ کے ظاہری مندرجات سے اتفاق کروں گا،لیکن اس ”ظاہر“ کے پسِ پردہ جو باطنی حقائق ہیں، وہ نجانے میرے خیالات کی پراگندگی کا باعث کیوں بن رہے ہیں.... مثلاً میرے شکوک درج ذیل ہیں:

ڈرون حملے تو 2004ءمیں شروع ہوگئے تھے اور جب 2008ءمیں موجودہ جمہوری حکومت آئی تو اس کے ہر والا تبار رکن نے ان حملوں کی مذمت کی۔فوج کی روایات تو یہ ہیں کہ وہ اس قسم کے واقعات پر کم ہی زبان کھولتی ہے،لیکن آرمی چیف، جنرل اشفاق پرویز کیانی ریکارڈ پر ہیں کہ انہوں نے ان حملوں کی کھل کر مخالف کی۔مزید یہ کہ پاکستان کا کون سا ایسا ادارہ ہے،کون سی سیاسی جماعت ہے اور کون سی حکومتی یا نجی تنظیم ہے،جس نے امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت نہیں کی؟....لیکن کیا کبھی کسی امریکی،ایشیائی، افریقی یا یورپی ملک کے کسی ایک باشندے نے بھی امریکہ کی اس کارروائی کے خلاف کوئی آواز بلندکی؟

ڈرون حملوں سے جہاں سینکڑوں ہزاروں معصوم اور بے گناہ سویلین ہلاک ہوئے، وہاں چند دہشت گرد بھی شائد مارے گئے ہوں گےِلیکن بے گناہ سویلین کے مارے جانے کا نوٹس اقوام متحدہ کے کسی ادارے نے ابھی تک کیوں نہیں لیا؟

3۔افغانستان، عراق، لیبیا یا شام پر چڑھائی کرنی ہو تو اسی وقت ، اسی دن، اسی شام یا اسی شب، سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلا کر قرارداد پاس کروا لی جاتی ہے کہ ”حملے کی اجازت ہے“۔اقوام متحدہ نے تو ایک وسیع تر تناظر میں یہ اجازت بھی دے رکھی ہے کہ دہشت گردی کا ارتکاب دنیا میں جب بھی ِ،جس جگہ اور جہاں بھی کیا جائے ، اس کے خلاف فورس استعمال کرنے کے لئے کسی پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں، چنانچہ سی آئی اے اسی ریزولیوشن کی آڑ میں گزشتہ کئی برسوں سے فاٹا کے شہریوں پر ڈرون برسا رہی ہے۔کیا یہ حملے کسی بھی بین الاقوامی ضابطہ ءقانون و اخلاق کی خلاف ورزی نہیں؟ اور ایمرسن صاحب اتنے برسوں تک کیوں سوتے رہے؟ ان کو انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا اب کون سا نیا ثبوت ملا ہے کہ وہ ایک دم اپنی جیب سے خرچہ کرکے اسلام آباد میں آن اترے ہیں؟

4۔ یہ اقوام متحدہ کیا ہے؟.... اس کا سالانہ بجٹ کتنا ہے؟....اور کہاں سے آتا ہے؟.... اقوام متحدہ کے اَن گنت اداروں اور ذیلی اداروں میں کام کرنے والوں کا اَن داتا کون ہے؟

5۔ایمرسن کو بالخصوص مارچ 2013ءمیں کیوں بھیجا گیا ہے؟

یہی وہ سوالات تھے جو شکوک میں ڈھلتے گئے اور مجھے تب یہ سمجھ بھی آنے لگی کہ افغانستان کے محترم صدر حامد کرزئی آج کل امریکہ کے مخالف کیوں ہو رہے ہیں؟....حال ہی میں نئے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کابل کا دورہ کیا تو کرزئی صاحب نے علی الاعلان مشترکہ کانفرنس میں یہ نیوز، بریک کرکے میڈیا میں سنسنی پھیلا دی کہ امریکہ اور طالبان دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں اور وہ افغانوں کے حقوق پامال کررہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بگرام ائر بیس کو فی الفور خالی کیا جائے اور اسے افغان سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا جائے، امریکن سپیشل فورسز کو واپس امریکہ لے جایا جائے اور افغان نیشنل آرمی(ANA)اور افغان نیشنل پولیس (ANP)کی نفری بڑھائی جائے، ان کی ٹریننگ کی رفتار بھی تیز کی جائے، انہیں امریکن فوج،ناٹو افواج اور ایساف کی جگہ تعینات کیا جائے ....اور امریکی امداد میں اضافہ کیا جائے۔

قارئین! اگر مسٹر کرزئی کے اس امریکہ مخالف رویے(Stance) اور ایمرسن کی آمد کو ملا کر دیکھیں تو ان کو امریکی باطن کو واشگاف دیکھنے میں کچھ دقت نہیں ہوگی۔

امریکہ کی اس وقت 66000فوج افغانستان میں موجود ہے،جسے 2014ءکے اواخر تک واپس جانا ہے۔ان 68000امریکی ٹروپس کی پسپائی یا پس قدمی کو آڑ دینے کے بندوبست کئے جارہے ہیں۔اس لئے :

٭....کرزئی صاحب کو کہا گیا کہ وہ امریکہ کی مخالفت میں بیان دیں، پشتونوں کی ہمدردیاں حاصل کریں، قوم پرستی کا لبادہ زیب تن کریں اور اس طرح اپنی ذاتی سیکیورٹی کے امکانات میں اضافہ کریں۔

٭.... جن ”دہشت گرد طالبان“ کو برباد کرنے کے لئے کبھی امریکی اور ناٹو ٹروپس کی 170000فوج افغانستان کے طول و عرض میں آ دھمکی تھی، اب انہی دہشت گردوں سے مذاکرات کئے جارہے ہیں اور اپنے مقرر کردہ کٹھ پتلی صدر سے بالا بالا معاملات طے کرکے اپنی باقی ماندہ فوج کو بحفاظت نکال لینے کے انتظامات کی حکمت عملی طے کی جارہی ہے۔

٭.... ڈرون حملے بند کئے جارہے ہیں اور اس کا جواز لانے کے لئے اقوام متحدہ کو استعمال کیا جارہا ہے۔اقوام متحدہ بے چاری تو شروع دن سے امریکیوں کی لونڈی ہے۔اس کا نام استعمال کرکے تیسری دنیا کے ہم جیسے ممالک کی آنکھوں میں شروع ہی سے دھول جھونکی جارہی ہے۔ایسی عالمی تنظیم کہ امریکہ جس کا دلی نعمت ہو ، امریکہ کی سرزمین میں رہتی ہو اور امریکہ کا کھاتی پیتی ہو ، وہ اگر امریکہ کی ہاں میں ہاں نہیں ملائے گی تو اور کیا کرے گی؟

٭.... بین ایمرسن کا یہ دورہ جو ہمیں پرو (Pro) پاکستان لگتا ہے، وہ دراصل پرو امریکہ ہے۔ہزاروں افغانوں اور پاکستانیوں کو ہلاک کرنے کے بعد جب امریکہ کے اپنے ٹروپس کو جان کا خطرہ لاحق ہوا ہے تو ایمرسن جیسے وکیلوں کو لانچ کرنے کا خیال آیا ہے۔

امریکہ کی ایک آپشن یہ بھی ہے کہ اپنے 66000ٹروپس کو چپکے سے اپنے دیوہیکل ٹرانسپورٹ طیاروں کی مدد سے افغانستان سے نکال لے جائے....لیکن اربوں ڈالر کا وہ جنگی سازوسامان کہ جس میں سٹیٹ آف دی آرٹ آلات بھی شامل ہیں، ان کو پیچھے چھوڑ جانا، ایک بڑا رسک ہوگا۔ اس سازوسامان کی نکاسی کے لئے بھی اگرچہ متبادل طریقے موجود ہیں، لیکن ان کو روبہ عمل لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ طالبان ہی رہیں گے،جن سے اب مذاکرات جاری ہیں اور جن کے غیظ و غضب سے مسٹر کرزئی بھی آج لرزہ براندام ہیں ۔

آنے والے دو برسوں میں پاکستان مختلف امریکی کارروائیوں کی تفصیلی مانیٹرنگ کرتا رہا رہے گا....اور شمالی اتحاد کے وہ اراکینِ کابینہ اور ہزارہ قبائل کے فارسی دان سب کے سب طالبان کی نظر میں ہیں۔بھارت نے ہمارے ہمسائے میں بیٹھ کر اب تک جو کچھ کیا ہے، اس کی تفصیلات حیران کن ہیںاور وہ 2015ءکے اوائل میں کھل کر سامنے آئیں گی۔ہمیں تب پتہ چلے گا کہ ان کا کیف و کم کیا تھا، مقاصد کیا تھے اور وہ تمنائیں کیا تھیں جو آج حسرت بن گئی ہیں۔    ٭

مزید : کالم