سوفٹ پاور بطور ہتھیار

سوفٹ پاور بطور ہتھیار
سوفٹ پاور بطور ہتھیار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Bound to lead---The Changing Nature of American Power نامی کتاب جوزف نائے جونیئر نے1990ءکی دہائی کے اواخر میں لکھی، جس میں اس نے سوفٹ پاور نامی اصطلاح متعارف کروائی ۔ دور جدید میں ہارڈ پاور کے ساتھ ساتھ سوفٹ پاور کی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی اس کتاب میں جہاں جوزف نائے نے سوفٹ پاور کی اہمیت اور اس کے خدوخال واضح کئے وہاں سوفٹ پاور کے حصول پر زور بھی دیا جوزف نائے کے مطابق امریکہ ہارڈ پاور کو استعمال میں لاکر دُنیا میں زبردست طاقت (90ءکی دہائی کے اواخر میں) کے حصول میں کامیاب ہو چکا ہے، لیکن اسے اب طاقت کا توازن دنیا میں برقرار رکھنے کے لئے سوفٹ پاور کو اُجاگر کرنے کی جانب بھی توجہ دینا ہو گا۔1996ءمیں اٹلانٹا میں ہونے والے اولمپکس سوویت یونین کی تحلیل کے بعد امریکی سوفٹ پاور کے اظہار کا بڑا ذریعہ بنے۔ اگرچہ ہالی وڈ جو دُنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہے پہلے ہی امریکی سوفٹ پاور کو دُنیا کے سامنے اجاگر کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود امریکہ نے سوفٹ پاور کے اظہار کے لئے اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مزید ذرائع بھی استعمال کئے۔

میکولم ایکس کا کہنا ہے کہ میڈیا دُنیا کی سب سے بڑی قوت ہے، کیونکہ بلا شبہ اس کے پاس وہ اختیارات ہیں جن کی بدولت یہ مصوم کو گناہ گار اور گناہ گار کو معصوم ثابت کر سکتا ہے۔ امریکہ بھی اپنے میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے دُنیا کی ہمدردیاں اکٹھی کرنے میں مصروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی میڈیا امریکہ کی سوفٹ پاور میں بڑھوتری کا باعث بنا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان و عراق پر جارحیت کی، لیکن اس کی سوفٹ پاور نے اسے دُنیا کے سامنے مظلوم بنا کر پیش کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ نائن الیون کے بعد کئی نیٹو ممالک نے امریکہ کے افغانستان پر حملے کی شدید مخالفت کی، لیکن امریکی میڈیا نے ایسا سماں پیش کیا کہ یہ ممالک نہ صرف اپنے موقف میں تبدیلی پر مجبور ہوئے بلکہ اپنی افواج بھی افغانستان بھجوا دیں۔ سوفٹ پاور کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ہارڈ پاور کے مقابلے میں زیادہ موثر ہتھیار ثابت ہوا ہے، کیونکہ ان کے مطابق باوجود اس کے کہ15.48ٹریلین کا معاشی حجم 48472 ڈالر اوسط فی کس آمدن اور700ارب ڈالر سالانہ دفاع پر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ خود کو سپر پاور کی حیثیت سے منوانے میں ناکام رہتا۔ اگر وہ اپنی سوفٹ پاور پر اربوں ڈالر خرچ نہ کرتا۔

واضح رہے کہ سوفٹ پاور کی ایک قسم معاشی بھی ہے۔ یو ایس ایڈ(U.S Aid) نامی امریکی ادارہ غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں معاشی امداد کے ذریعے امریکہ کی سوفٹ پاور بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ مزید برآں تمام سپر گریٹ اور Regional پاورز نے سوفٹ پاور کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے بھی بطور ہتھیار بخوبی استعمال کیا ہے۔ 7.48ٹریلین ڈالر کے معاشی حجم اور سالانہ6.5فیصد شرح نمو اور دُنیا کی سب سے بڑی فوج رکھنے والے چین نے بھی سوفٹ پاور کے حصول پر اسی طرح توجہ دینا شروع کر دی ہے جیسا کہ اس کا حریف امریکہ دے رہا ہے۔80ءکی دہائی میں چین ایک علاقائی قوت (Regional Power) تھا۔ 90ءکی دہائی میں یہ عظیم قوت (Great Power) بن گیا اور2010ءکے بعد اس کا نام مستقبل کی سپر پاور کے طور پر لیا جانے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ چین کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ امریکہ کی زبرست سوفٹ پاور اس کے سپر پاور بننے کی براہ میں رکاوٹ نہ بن جائے۔ چین اپنے ثقافتی طائفے دُنیا کے بیشتر ممالک میں بھجوا کر دُنیا کو اپنی ثقافت سے روشناس کروانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

چین نے اِس بات کا خاص اہتمام کیا ہے کہ اس کے ملک میں دُنیا بھر سے علم کے حصول کے لئے آنے وا لے طالب علم چینی زبان سیکھے بغیر اعلیٰ پائے کی ڈگریاں حاصل نہ کر پائےں، چین میں پی ایچ ڈی سطح کی تعلیم بھی چینی زبان میں دی جاتی ہے اور اس کا یہ عمل دُنیا بھر میں چینی زبان کو متعارف کروانے کا سبب بن رہا ہے۔ امریکہ افریقی ممالک میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے پریشان دکھائی دیتا ہے، چین کی بڑھتی ہوئی سوفٹ پاور نے امریکہ کو شدید تشویش سے دوچار کر دیا ہے، کیونکہ خود امریکہ کے پڑوسی جنوبی امریکن ممالک چین کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز(CAS) کی جانب سے2009ءمیں جاری کردہ چائنیز موڈرانائزیشن رپورٹ (Chinese moderization report) کے مطابق 1990ءمیں چین کے کلچر کو دُنیا میں اثرو رسوخ گیارہویں نمبر پر تھا جو کہ2009ءمیں ساتویں نمبر آ چکا ہے۔ دُنیا میں ثقافتی اثرو رسوخ میں اس وقت سرفہرست امریکہ ہے۔ جرمنی، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور سپین بالترتیب دوسرے، تیسرے، چوتھے، پانچویں اور چھٹے نمبر پر موجود ہیں۔(جاری ہے) ٭

مزید : کالم