ہم چلے گئے ۔ ہم ہی آئیں گے

ہم چلے گئے ۔ ہم ہی آئیں گے
ہم چلے گئے ۔ ہم ہی آئیں گے

  

قومی اسمبلی رخصت ہو گئی، صوبائی اسمبلیاں بھی اپنے آخری دم پر ہیں، قومی اسمبلی کے ارکان نے تو اپنی آخری اجتماعی تصویر بنا لی اور جب سوشل میڈیا پر یہ تصویر شئیر ہوئی تو کسی نے اسے چوروں اور کسی نے ٹھگوں کے ٹولے کا لقب دیا، مجھے یقین ہے کہ اگر محتر م ایوان صاحب حیات ہوتے تو اس کا کوئی نہ کوئی رکن استحقاق مجروح ہونے کا شور ضرور مچا دیتا، میرے جیسے کئی اس بات پر خوش ہیں کہ پاکستان میں کسی جمہوری ایوان نے تو اپنی طبعی آئینی اور پارلیمانی عمر پوری کی، اگرچہ ہمارے معاشرے میں انتقال کرجانے والوں کو یاد کرتے ہوئے خوشی نہیں منائی جاتی مگر ہمارے وہ ارکان جو حکومتی بنچوں پر عیاشیاں کرتے رہے ،اب حکومت سے عوام میں منتقل ہوئے ہیں تو بہت سارے خوش ہیں کہ ان کی حکومتی عمر تو تمام ہوئی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے آخری دنوں میں لچھن دیکھتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ ہمارے رب نے ہماری عمروں بارے ہمیں آگاہ کیوں نہیں رکھا کہ اگر جہاں بہت سارے ایسے ہوتے جو عمر کی نقدی ختم ہونے پر رب سے ڈرنے لگتے اور بہت سارے ان جیالوں جیسے بھی ہوتے، جو کہتے مر تو جانا ہی ہے تو عیاشی او رلوٹ مار میں آخر دم تک کوئی کسر کیوں رہنے دی جائے۔ جیسے آخری دنوں میں ہمارے سندھ اسمبلی کے ارکان نے ڈیڑھ ، دو سال پرانی تاریخ سے اپنی تنخواہوں میں اضافہ کر لیا اور اب بقایا جات لے کر ہی روانہ ہوں گے، اپنے وزیراعظم تو اسمبلی رخصت ہونے کے باوجود اس سی این جی کے ستر ستر لائسنس تقسیم کررہے ہیں جو پنجاب کے عوام کو اب سونگھنے کے لئے ہی دی جاتی ہے۔

بات جانے والوں کی ہو رہی ہے جن کی آخری تصویر پر طرح طرح کی باتیں کی گئیں، میں تو کہتا ہوں کہ جو چلے گئے وہ بھی ہم ہی تھے اور جو آئیں گے وہ بھی ہم ہی ہوں گے، کسی بھی سوسائٹی کا میڈیا اور کسی بھی ریاست کے حکمران، ان کے عوام کا ہی عکس ہوتے ہیں۔اگر کسی معاشرے میں جرائم کی بھرمار ہو گی تو میڈیا جرائم کی خبریں دے رہا ہو گا ، اسی طرح اگر کسی ملک میں آمر اپنے سکے چلانے میں کامیاب رہتا ہے تو صرف اس وجہ سے کہ وہاں کے عوام ان سکوں کو قبول کرلیتے ہیں ،کسی جگہ اگر چور ، ڈاکو اور ٹھگ حکمران بن جاتے ہیں تو عوام ایسے چوروں، ڈاکوو¿ں اور ٹھگوں کو حکمران مانتے ہیں تووہ حکمرانی کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسمبلیوں میں پہنچنے والے ان کے نمائندے ہی نہیں ہوتے اورمیں کہتا ہوں کہ یہاں لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ ہم نے تو ان لوگوں کوووٹ ہی نہیں دئیے اور میں کہتاہوں کہ اگر آپ نے ان لوگوں کو ووٹ نہیں دئیے اورووٹ دینے والے دن آپ اپنے گھر میں فلمیں دیکھتے، دعوتیں کرتے اور وقت سو کر گزارتے رہے تو گویا آپ نے ان لوگوں کو اقتدار میں آنے کے لئے سہولت فراہم کی،کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ آپ کسی سڑک پرقانون کے عین مطابق درست سمت میں کھڑے ہوں اور غلط سمت سے سگنل توڑ کر آنے والے کو راستہ دے دیں، جب آپ ایک کو راستہ دےں گے تو دوسراقانون شکن خود بخود اس کے پیچھے پیچھے چلا آئے گا۔ کہتے ہیں کہ کوئی شخص سو رہا تھا اور اس کے پیٹ سے چوہا گزر گیا، وہ شخص اٹھا اور رونے لگ گیا، لوگوں نے وجہ پوچھی تو بولا کہ اس کے اوپر سے چوہا گزر گیا ہے، لوگوں نے حیرانی سے پوچھا،رونے کی کیا بات ہے، چوہا ہی تو گزرا ہے ہاتھی تو نہیں، اس شخص نے جواب دیا ، رونے کی بات یہ ہے کہ راستہ تو بن گیا ہے، آج چوہا گزرا ہے کل ہاتھی گزر جائے گا۔ ہم اپنے مفادات کے تحت صرف اپنے ایک ووٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں اور یہ قطرے مل کرکرپشن اور نااہلی کا سمندر بن جاتے ہیں۔

برطانیہ میں کہا جاتا ہے کہ بادشاہ مر گیا، بادشاہ زندہ باد ۔ اگر پاکستان میں جمہوریت چلتی ہے تومیں یہ کہوں گا کہ جو چلے گئے وہ بھی ہم ہی تھے اور جو آئیں گے وہ بھی ہم ہی ہوں گے۔ اگر ہم واقعی ظلم، نااہلی، کرپشن اور لوٹا کریسی سے نفرت کرتے ہیں تو پھر ہمارے پولنگ اسٹیشنوں سے ظالموں، نااہلوں، کرپٹیوں اور لوٹوںکے حق میں ایک بھی ووٹ نہیں نکلنا چاہئے ،مگر کیا ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس مرتبہ جعلی ڈگریاں پیش کر کے اقتدار میں آنے والوں کو کامیابی نہیںملے گی۔ جعلی ڈگری بنانا اور پیش کرنا ایک سوچا سمجھا سنگین جرم ہے، یہ جان بوجھ کر دھوکہ دینے کی کوشش اور بالکل ایسی ہی چار سوبیسی ہے جیسے کوئی کسی بس میں دھوکے سے نشہ آور چیز پلا کے آپ کی تمام جمع پونجی لوٹ لے۔ جب کوئی جعلی ڈگری پیش کر کے ایوان میں پہنچتا ہے تو وہ آپ کے خون پسینے کی کمائی سے جمع ہونے والے ٹیکسوں کی رقوم کا نگران بن جاتا ہے۔ اگر آپ کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ کسی بس یا ویگن میں نشے والے لڈو کھلا کے لوٹ لے تو اسے لچھے دار باتیں کر کے اپنی ہی نہیں ، اپنے سمیت تمام ہم وطنوں کی کمائی کو لوٹنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ کیا آپ ایک رکن اسمبلی کی کرپشن کو اس لئے جواز دے سکتے ہیں کہ وہ بہت تیز طرار ہے اور آپ کے ناجائز کام بھی کروا دے گا، اگر آپ یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ کرپٹ ہونے کے باوجود اقتدار میں آنے اور آپ کے ذاتی ، علاقائی اور گروہی مفادات کی پاسبانی کر سکتا ہے،اگر آپ اسے ووٹ دے دیتے ہیں تو یقین جائیے کہ وہی آپ کا حقیقی نمائندہ ہے۔

میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ وہ برے لوگوں کو ووٹ نہیں دیتے مگر برے لوگ ان کے جعلی ووٹ کاسٹ کروا کے منتخب ہوجاتے ہیں، میں ان سے کہتا ہوں کہ اگر آپ میں تھوڑا سا بھی سماجی شعور اور احساس ذمہ داری ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، میں ماضی کی بات نہیں کرتا مگر آج آپ کا جعلی ووٹ اسی صورت کاسٹ ہو سکتاہے جب آپ خود ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ اسٹیشن پر نہ جائیں، اگر آپ خودپولنگ اسٹیشن پر موجود ہوں گے اور آپ کا ووٹ کوئی دوسرا کاسٹ کر کے چلا گیا ہوگا تو آپ کے شور مچانے پر وہاں موجود پولنگ ایجنٹ کسی صورت پولنگ جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہاں اگر آپ گھر پر بیٹھے رہے تو پھر اس چوری کو کوئی نہیں پکڑسکے گا۔کہتے ہیں کہ ایک پولنگ اسٹیشن پر دو سے تین ہزار تک ووٹروں کانام درج ہو گا اور یہ عین ممکن ہے کہ آپ کو ووٹ ڈالنے کے لئے مئی کی کڑکتی گرمی میں لگنے والی طویل قطار کے آخر میں جا کے کھڑا ہونا پڑے، ایک ووٹ کاسٹ کرنے میں تین سے چار گھنٹے لگ جائیں مگر یہ یقین جانئے کہ صرف ایک دن کے چند گھنٹوں کی محنت ہو گی جو آپ کے اگلے پانچ سالوں تک ہی آپ کے مفادات کی محافظ نہیں ہو گی بلکہ آپ کے بچوں کے لئے ایک بہتر پاکستان کی ضمانت بھی بن جائے گی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ باتیں ابھی قبل از وقت ہیں مگر میرے خیال میں یہی وقت ہے کہ ہم یہ باتیں شروع کر دیں۔ ہمیں یہ بات جان اور مان لینی چاہئے کہ پچھلے پانچ سالوں میں بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر ہم ہی حکمران رہے یا ہماری وجہ سے ہی ایسے حکمران رہے بلکہ آپ بات کو پچھلے پانچ سالوں تک محدود کیوں کرتے ہیں، اسے پورے پینسٹھ ، چھیاسٹھ سالوں تک پھیلایا جا سکتا ہے۔

مجھے آپ سے یہی کہنا ہے کہ آپ اس ملک کے شہری ہیں، آپ پولیس اہلکار ہیں اوررشوت کو جائز سمجھتے ہیں، آپ ایک دودھ فروش ہیں اور دودھ میں پانی کی ملاوٹ کو جائز سمجھتے ہیں، آپ ایک سرکاری ملازم ہیں اوراپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے سرانجام نہیں دیتے، آپ ایک وکیل یا جج ہیں اور لوگوں کے مقدمات محض اپنی فیس یا اپنی حاکمیت ثابت کرنے کے لئے لٹکا دیتے ہیں، آپ ایک تاجر ہیں اور ٹیکس دینے سے انکاری ہیں، آپ ایک صحافی ہیں اور خبر کی سچائی پر اپنے تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں، آپ ایک ڈاکٹر ہیں اور مریضوں کی جان سے زیادہ آپ کو اپنی تنخواہ اور مراعات عزیز ہیں، آپ ایک بیوروکریٹ ہیں اور آپ کے دفتر اور دل کے دروازے عوام کے لئے بند ہیں اور سب سے بڑھ کے آپ ایک عام شہری ہیں مگر آپ ذات، برادری ، علاقے اور اپنے گروہ کے مفادات سے بالاتر ہو کے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کرتے تو یقین مانئے کہ یہی کرپٹ، نااہل اور عوامی مسائل کے حل سے بہت دور رہنے والے حکمران ہی ماضی میں بھی آپ کاانتخاب تھے اور مستقبل میں بھی آپ ہی ایسے لوگوں کی شکل میں ایک بار پھر حکمران ہوں گے مگر پھر مہنگائی، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ اور دیگر مسائل کا شکوہ اپنے آپ سے ہی کیجئے گا ۔۔۔ یہ میرے رب کا اصول ہے کہ جب تک کوئی قوم خود اپنی حالت نہ بدلنا چاہے، وہ حالت خود بخود نہیں بدل سکتی !!

مزید : کالم