پشاور جوڈشنل کمپلےکس مےں خود خوش حملہ پانچ جاں بحق تےس زخمی حملہ آور مارے گئے

پشاور جوڈشنل کمپلےکس مےں خود خوش حملہ پانچ جاں بحق تےس زخمی حملہ آور مارے گئے ...

                             پشاور ‘ لاہور(کرائمز رپورٹر+نامہ نگار خصوصی +اے پی اے )صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں خودکش حملے اور فائرنگ سے چار عام شہریوں سمیت 5 افراد ہلاک اور 30زخمی ہوگئے ہیں۔مقامی پولیس کے مطابق دو خودکش حملہ آوروں نے پیر کو خیبر روڈ پر واقع جوڈیشل کمپلیکس میں ایک عدالت میں گھسنے کی کوشش کی۔روکے جانے پر ایک خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑایا اور دوسرے حملہ آور کو پولیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔حملہ آوروں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیںڈپٹی کمشنر نے یہ تعداد پانچ سے سات بتائی ہے ، پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور دو ہی تھے جو ہلاک ہو چکے ہیںجبکہ عینی شاہدین کے مطابق ڈیڑھ درجن سے زائد مسلح ملزمان نے دھماکے کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ کی۔جوڈیشل کمپلیکس میں عدالتیں ایک دورسرے سے متصل بنی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے وہاں بہت رش ہوتا ہے اور یہ دھماکہ پیر کو عدالتی اوقات کے دوران ہوا ہے۔ڈپٹی کمشنر پشاور جاوید مروت نے ابتدائی طور پر دھماکے میں 3افراد کی ہلاکت اور29 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ۔دھماکے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ پشاور کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق سکیورٹی فورسز عدالتی کمپلیکس کے اندر سرچ آپریشن کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمپلیکس کی تلاشی لی جا رہی ہے اور عام شہریوں اور عدالتی عملے کو وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔اس سے پہلے صوبہ خیبر پختون خوا کے وزیر اطلاعات نے میڈیا کو بتایا کہ اس واقعے میں شدت پسندوں نے کئی لوگوں کو یرغمال بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ یہ خود کش حملہ تھا۔پولیس اور فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق پہلے ایک زورداردھماکا ہواجس کے بعد دہشتگردوں نے ایک ایڈیشنل سول جج کے کمرہ عدالت میں دستی بم بھی پھینکا۔ اس کے ساتھ ہی دہشتگردوں نے فائرنگ بھی کر دی۔ دہشتگردوں کے ساتھ ضلع کچہری میں موجود پولیس اہلکاروں کا بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کے لئے خیبر روڈ پر لوگوں کی قطار لگی ہوتی ہے اور ایک ایک آدمی کی تلاشی لی جاتی ہے اس کے باوجود دہشتگردی کی اتنی منظم اور بڑی کارروائی ایک سوالیہ نشان ہے۔خیبر روڈ پر واقع جوڈیشل کمپلیکس کے سامنے پی سی ہوٹل اور کور کمانڈر کی رہائش گاہ جبکہ پہلو میں سپریم کورٹ بنچ، ہائیکورٹ اور صوبائی اسمبلی کی عمارتیں موجود ہیں۔ دھماکے اور فائرنگ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور پہنچایا گیا ہے جن میں وکلا، چار خواتین اور چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں نے حملے سے آگاہ کردیا تھا. حملہ آور جوڈیشل کمپلیکس میں پولیس وردیوں میں داخل ہوئے اور ایک حملہ آور نے ایڈیشنل سول جج کلثوم اعظم کے کمرے میں خود کو اڑایا کلثوم اعظم حملہ میں زخمی ہیں۔واضح رہے کہ کمپلیکس سے متصل جیل میں صوفی محمد سمیت کئی کالعدم تنظیموں کے ملزمان قید ہیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فوج نے علاقے کو گھیرے میں لیکر آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ واقعہ کے فوری بعد پاک فوج کے جوان اور سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے مین لیکر سرچ آپریشن کاآغاز کردیا ہے۔ ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے آج ملک بھر میں اور خیبر پختونخواہ بار کونسل اور پنجاب بار کونسل بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے، لاہور بار سمیت پنجاب بھر کے وکلاءنے بھی آج ہڑتال کا اعلان کیا ہے، وکلاءآج تمام دن عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اور احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی، دریں اثناءچیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچ گئے ۔ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے لیے آنے والوں کو گولیاں اور بم ملتے ہیں جو افسوسناک ہے، اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ الیکشن قریب ہیں اور اس حوالے سے اگلے بیس پچیس دن بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

مزید : صفحہ اول