65ءکی جنگ کے ہیرو ایم ایم عالم انتقال کرگئ

65ءکی جنگ کے ہیرو ایم ایم عالم انتقال کرگئ

 ے

 کراچی، اسلام آباد، لاہور (نیوز ایجنسیاں، سٹاف رپورٹر) 1965 ءکی جنگ کے نامورہیرو اور سابق ایئر کموڈور محمد محمود عالم ( ایم ایم عالم ) پیر کی صبح کراچی میں انتقال کرگئے(انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ ایم ایم عالم طویل عرصے سے بیمار تھے اور پاک فضائیہ کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔ پاک فضائیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ریٹائر ایئر کموڈر محمد محمود عالم صبح کو انتقال کر گئے ۔صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل طاہر رفیق بٹ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ملک بھر کی دیگر اہم شخصیات نے ایم ایم عالم کے انتقال پرگہرے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک ایک حقیقی محب وطن پاکستانی سے محروم ہوگیا ہے۔1965ء کی جنگ میں شاندار عالمی ریکارڈ کے بعد ایم ایم عالم کو لٹل ڈریگن کا لقب دیا گیا۔ اس جنگ میں ایم ایم عالم نے فضائی جھڑپ میں دشمن کے 5 ہنٹر طیارے مار گرائے اور عالمی ریکارڈ قائم کیا،ان میں سے چار طیارے پہلے 30سیکنڈ میں گرائے گئے۔17 روزہ جنگ میں ایم ایم عالم نے دشمن کے 9 طیارے مار گرائے اور ایک کو نقصان پہنچایا۔ اس بے مثال جرا¿ت اور بہادری کے صلے میں ایم ایم عالم کو ستارہ جرا¿ت سے نوازا گیا۔ایم ایم عالم کا یہ کارنامہ نہ صرف پاک فضائیہ بلکہ جنگی ہوا بازی کی عالمی تاریخ میں بھی ایک معجزہ تصور کیا جاتا ہے۔ سات ستمبر 1965ءکو ایم ایم عالم اور ان کی اسکواڈرن کے افسر جب سرگودھا کی ہواو¿ں میں معمول کی پرواز پر تھے تو کنٹرول ٹاور سے انہیں 5بھارتی ہنٹر طیاروں سے نمٹنے کا سگنل ملا۔ماہرین کے مطابق بھارتی لڑاکا طیارہ ہنٹر پاک فضائیہ کے سیبرطیارے کے مقابلے میں زیادہ جدید مانا جاتا ہے مگر پاک فضائیہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں نے وسائل کی کمی کو آڑے نہ آنے دیا اور جنگ میں پاکستان کا پرچم بلند رکھتے ہوئے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔اس وقت بھارتی ہنٹرطیارے جنگی ترتیب میں پوزیشنز لیے ہوئے تھے۔ایم ایم عالم نے دائیں جانب والے ہنٹر طیارے کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اپنے اس کارنامے کے بارے میں ایم ایم عالم کا کہنا تھا کہ انہیں خود بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ فضائی جنگ میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔ ایم ایم عالم نے نہایت خوبصورتی اور مہارت سے ہنٹر طیارے کو نشانہ بناتے ہوئے زمین کی طرف رخصت کیا اور دوسرے بھارتی لڑاکا طیاروں کو تباہی سے ہمکنار کرنے کیلئے آگے بڑھے۔ ایم ایم عالم نے ایک کے بعد ایک اپنے طیارے کی مشےن گن سے پانچ بھارتی لڑاکا طیاروں کو فضا میں تباہ کرتے ہوئے آگ کے گولوں میں تبدیل کردیا اور دشمن کو کچھ سمجنے اور کہنے سے پہلے ہی خاک میں ملا دیا۔ایم ایم عالم 1971ءکی جنگ کے بعد بنگلہ دیش سے آبائی تعلق کے باوجود پاکستان آگئے اور اپنے آپ کو پاکستان کے دفاع کیلئے وقف کر دیا۔ قوم بجا طور پر ان پر فخر کر سکتی ہے۔ایم ایم عالم 6جولائی 1935ءکو کلکتہ میں پیدا ہوئے اور اب ان کی عمر 78سال تھی۔کچھ روز قبل ایئر چیف نے ان کی عیادت کیلئے کراچی کا دورہ بھی کیا تھا جس میں انہوں نے علاج معالجہ کی ہر ممکن سہولیا ت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تحریک تحفظ پاکستان کے سربراہ اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نائب صدر شاہد باجوہ ،سیکریٹری جنرل چوہدری خورشید زمان اور جوائنٹ سیکریٹری اطلاعات روحیل اکبرنے 1965 کی جنگ کے قومی ہیرو ائر کموڈور ایم ایم عالم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کے محمود عالم ایسے بہادر فائٹر پائلٹ تھے جن کے کارنامے کی بدولت بھارتی ائرفورس کے دانت کھٹے ہو گئے تھے اور انہوں نے بھارت کو پانچ طیاروں کی تباہی کا تحفہ دیکر پاک فضائیہ میںبے مثال کاکردگی دکھائی تھی ، انہوں نے حکومت پاکستان اور ائر چیف مارشل سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے کسی ایک ائر پورٹ کو ایم ایم عالم کے نام سے منسوب کیا جائے ۔ پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس میں خود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور ملک دشمن قوتیں پاکستان کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن اور سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے قومی ہیرواور 65ءکی جنگ میں لمحوں میں پانچ طیارے گرا کر بھارتی فضائیہ کی کمر توڑنے والے سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کیلئے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ۔سید منور حسن نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ ایم ایم عالم نے ہوابازی کی تاریخ میں منفرد اور قابل فخر کارنامہ سرانجام دے کر پاکستان کے وقار کو پوری دنیا میں بلند کیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت جو پاکستان کی سا لمیت کو روندنے اور پاکستان کو ہڑپ کر جانے کے موقع کی تلاش میں رہتا ہے،اس کے ناپاک عزائم کو ایم ایم عالم جیسے جرا¿ت مند اور بہادر جوانوں نے خاک میں ملا دیا۔سید منور حسن نے ایم ایم عالم کی ملی خدمات کوشاندار الفاظ میں سراہتے ہوئے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ دریں اثنا سید منورحسن اور لیاقت بلوچ نے پشاور میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت ، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیاہے ۔امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے پاک فضائیہ کے ہیرو اور سابق ایئر کموڈر ایم ایم عالم کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ پاک فضائیہ کے ہیرو محمد محمود عالم کی وطن عزیز پاکستان کے تحفظ کیلئے پیش کی گئی قربانیوں کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوںنے کہاکہ ازلی دشمن بھارت کو ناکوں چنے چبوانے والے ایم ایم عالم کے تاریخی معرکے نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہیں۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔سنی اتحاد کونسل پاکستان کے راہنماﺅں صاحبزادہ فضل کریم، صاحبزادہ سیّد مظہر سعید کاظمی، حاجی محمد حنیف طیب، پیر فضیل عیاض قاسمی، پیر محمد اطہر القادری، طارق محبوب، محمد نواز کھرل، مفتی محمد سعید رضوی، صاحبزادہ عمار سعید سلیمانی، بیرسٹر وسیم الحسن نقوی، مفتی محمد حسیب قادری، مولانا محمد اکبر نقشبندی نے 1965ءکی جنگ کے ہیرو ایم ایم عالم کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی وفات کو ملک و قوم کا عظیم نقصان قرار دیا ہے۔ راہنماﺅں نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی ہے۔ راہنماﺅں نے کہا ہے کہ ایم ایم عالم کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور وہ تاریخ میں ایک ہیرو کے طور پر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔پیپلز پارٹی پنجاب کے صدرمیاں منظور احمد وٹو نے جنگ 65 ءکے ہیرو ایم ایم عالم اور سینئیر صحافی جاوید صدیق کے چھوٹے بھائی کلیم عباسی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے - پیپلز سیکرٹریٹ سے جاری تعزیتی بیان میں پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹونے ایم ایم عالم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ، انہوںنے ریزیڈینٹ ایڈیٹر ”روزنامہ نوائے وقت“ جاوید صدیق کے چھوٹے بھائی کلیم عباسی کے انتقال پر دلی دکھ کااظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور سوگوار خاندان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔

ایم ایم عالم/انتقال

مزید : صفحہ اول