پاکستان اور مصر نے مختلف شعبوں مےں تعاون کی پانچ مفاہمتی ےادو لشتوں پر دستخظ کر دئےے

پاکستان اور مصر نے مختلف شعبوں مےں تعاون کی پانچ مفاہمتی ےادو لشتوں پر دستخظ ...

                                          اسلام آباد(اے این این) پاکستان اورمصرنے مختلف شعبوں میں تعاون کی 5مفاہمتی یادداشتوں اورایک انتظامی پروگرام پردستخط کردیئے ہیں ،دونوں ملکوں کاتعلقات کوبلندیوں تک لے جانے کے عزم کااعادہ ،باہمی تعلقات کے استحکام کیلئے ہردوسال بعدسربراہی کانفرنس کے انعقادپراتفاق،شام کامسئلہ پرامن طریقے سے حل کرنے پرزور،آزادفلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کااعلان۔پیرکومصرکے صدرمحمدمرسی پاکستان کے ایک روزہ سرکاری دورے پراسلام آبادپہنچے جہاں ایوان صدرمیں انہوںنے صدرآصف زرداری سے ون آن ون ملاقات کی اوربعدمیں دونوں ملکوں کے وفودکی سطح پرمذاکرات ہوئے جن میں پاکستان اورمصرکے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کیلئے پانچ یادداشتوں اورایک انتظامی پروگرام پردستخط کئے گئے ۔اس موقع پردونوں ممالک کے صدوربھی موجودتھے ، پاکستان اورمصرکے درمیان پوسٹل سروس کے شعبے جہازرانی کے سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کیلئے ےادداشت پر دستخط کئے،اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے در میان معلومات کے تبادلے کی مفاہمتی یادداشت پربھی اے پی پی اورمصرکی سرکاری نیوزایجنسی کے درمیان یادداشت پروفاقی سیکرٹری اطلاعات ونشریات آغاندیم اورمصرکے سفیرنے دستخط کئے ،دونوں ملکوں کے درمیان چھوٹے اوردرمیانے درجے کی تجارت کیلئے بھی مفاہمتی یادداشت پردستخط کئے گئے ۔ قبل ازیں صدرآصف علی زرداری اورمعاون مرسی کے درمیان ون آن ون ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ،باہمی دلچسپی کے امور،خطے اورعالمی امورسمیت دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی ،سفارتی اورسیاسی شعبوں میں تعاون سمیت مختلف امورپرتبادلہ خیال کیاگیا۔ صدرآصف علی زرداری نے محمدمرسی سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ باہمی تعلقات کومزیدمضبوط بنانے کیلئے مربوط کوششیں کرناہونگی انہوںنے زوردیاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون بڑھاناچاہئے اورتجارت ،صنعت ومواصلات سمیت دیگرشعبوں میں تعاون ضروری ہے ، صدرآصف علی زرداری نے کہاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجودہیں جس سے مصرکے سرمایہ کاراستفادہ کرسکتے ہیں ،حکومت پاکستان غیرملکی سرمایہ کاروں کومکمل تحفظ اورپرکشش مراعات دے رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان اورمصرکوقریبی رابطہ رکھناہوگااورشام میں جانی نقصان کوروکنے کیلئے مشترکہ کوششوں کوفروغ دیناہوگا۔انہوںنے کہاکہ شام کی سالمیت اورخودمختاری کااحترام کیاجاناچاہئے ،برادراسلامی ملک میں بیرونی مداخلت سے حالات خراب اورخطے پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ شام میں قیام امن کیلئے عوام کی شمولیت سے کوشش کی جانی چاہئے ،صدرنے شام میں قیام امن کیلئے اپنی سفارشات بھی پیش کیں ۔بعدمیں صدرآصف علی زرداری نے مصری ہم منصب کے اعزازمیں ظہرانہ بھی دیا صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان شام مےں کشےدگی کے خاتمہ کےلئے تمام توانئاےاں صرف کرنے کےلئے تےار ہےں اس موقع پر انہوںنے کہاکہ مسلم دنیاکومختلف چیلنجزکاسامناہے ،ہمیں اختلافات کوختم کرکے مسائل کاحل نکالناہوگا۔ ۔ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے محمدمرسی نے کہاکہ مصرپاکستان کے ساتھ مستحکم تعلقات چاہتاہے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کووسعت دینے کی ضرورت ہے ،ہمیں درپیش مسائل کامل کرحل نکالناہوگا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان شام کامسئلہ پرامن طریقے سے حل کرنے میں کرداراداکرسکتاہے ،شام میں تشددکاخاتمہ ہوناچاہئے،فلسطین کامسئلہ حل کرنے کیلئے بھی سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے ،آزاداورخودمختارریاست فلسطینیوں کاحق ہے ۔ ظہرانے میں وزیراعظم راجہ پرویزاشرف،مسلح افواج کے سربراہان ،سابق وفاقی وزراء،اراکین پارلیمنٹ اوراعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی ۔ایک روزہ کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعدمصری صدروطن واپس روانہ ہوگئے۔

مزید : صفحہ اول