نگران وزےر اعظم کا فےصلہ پارلےمانی کمےٹی مےں ہوتا نظر آتا ہے

نگران وزےر اعظم کا فےصلہ پارلےمانی کمےٹی مےں ہوتا نظر آتا ہے

                  تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اس بات کے امکانات تو بڑھ گئے ہیں کہ نگران وزیراعظم کا معاملہ اب پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا کیونکہ معاملہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہوتا ہے ویسے ابھی تھوڑا سا وقت ہے ۔ راجہ پرویز اشرف اور چودھری نثار علی خان اگر خط و کتابت کی بجائے بالمشافہ مل لیں تو شاید دلوں سے دل بھی مل جائیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور قائد حزب اختلاف اکرم درانی نے پہلی ہی ملاقات میں معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا تھا۔ اگر راجہ صاحب اور چودھری صاحب چاہتے تو وفاق میں بھی معاملہ مشکل نہ تھا لیکن یہاں بات ملاقات سے نہیں، ”آدھی ملاقات“ سے شروع ہوئی یعنی خط و کتابت سے، راجہ صاحب نے خط لکھا جس کا جواب آیا پھر ایک اور خط لکھا گیا جس کا جواب بھی لکھ دیا گیا لیکن ان چار خطوں کا حاصل صرف چار نام ہیں جو اب زیر غور رہ گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے ڈاکٹر عشرت حسین اور جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسو اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد اور رسول بخش پلیجو، ان چاروں ناموں میں سے اگر کسی نام پر اتفاق کا امکان ہے تو وہ ڈاکٹر عشرت حسین کا نام ہے کیونکہ وہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک پسندیدہ ترین ہیں۔ وہ سٹیٹ بینک کے گورنر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد نئی اسائنمنٹ پر بیرون ملک جانا چاہتے تھے لیکن اس وقت کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے انہیں روک لیا۔ انہیں یہ عندیہ دیا گیا کہ انہیں 2008ءکے انتخاب کے لئے پاکستان میں نگران وزیراعظم بنایا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے فوری طور پر بیرون ملک عالمی بینک کی ملازمت میں جانے کا ارادہ بدل دیا اور پاکستان میں رک گئے۔ اس وقت قائد حزب اختلاف یا اپوزیشن سے مشاورت وغیرہ کا کوئی چکر نہیں تھا۔ پیا جسے چاہتا سہاگن بنا سکتا تھا۔ ان کی پہلی ترجیح تو ڈاکٹر عشرت حسین ہی تھے لیکن پھر انہوں نے ارادہ بدل لیا اور سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو کو نگران وزیراعظم بھی بنا دیا اور اقتدار کا ہما ڈاکٹر عشرت حسین کے سر پر بیٹھتے بیٹھتے رہ گیا۔ اب دوسری مرتبہ ہے کہ وہ دوبارہ نظر میں آئے ہیں۔ ان پر زیادہ اعتراضات بھی نہیں ہیں۔ بس اتنا ہے کہ انہیں عالمی مالیاتی اداروں کا پسندیدہ سمجھا جاتا ہے ۔ یہ جہاں خوبی ہے ، وہاں خرابی بھی ہے ۔ ویسے اگر پاکستان میں نگران وزرائے اعظم کی فہرست پر نظر دوڑائی جائے تو محض نگران کیا وزیراعظم بھی انہی اداروں کی پسندیدہ شخصیتیں رہی ہیں۔ نگران وزرائے اعظم میں معین قریشی کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ غلط یا صحیح کہا جاتا ہے کہ جب نگران وزیراعظم کے لئے غلام اسحاق خان کی نگاہ انتخاب ان پر پڑی تو ان کے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ بھی نہیں تھا۔ بہرحال وہ عہدہ سنبھالنے امریکہ سے چل پڑے اور راستے میں ان کی فلائٹ رکی تو انہیں شناختی کارڈ بھی دے دیا گیا۔ انہوں نے انتخاب کرائے تو اس دوران ان کے دل میں یہ سوئی ہوئی خواہش بھی جاگ اٹھی کہ وہ ملک کی خدمت کے لئے یہیں رہ جائیں لیکن نئے سیٹ اپ میں ان کا مقام نہ بن سکا اور وہ واپس چلے گئے۔ شوکت عزیز بھی عالمی مالیاتی اداروں کے پسندیدہ تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے بلا کر پہلے انہیں وزیر خزانہ بنایا پھر وزیراعظم بنا دیا۔ جونہی وہ وزیراعظم کے عہدے سے ہٹے، واپس چلے گئے۔ اس دوران ان کا کوئی اتا پتہ نہیں، البتہ لال مسجد کیس میں انہوں نے اپنا بیان بذریعہ وڈیو ریکارڈ کرایا ہے ۔ تو خیر ہم بات کر رہے تھے نگران وزیراعظم کی، اگر شیخ عشرت حسین کے نام پر اتفاق نہیں ہوتا تو کوئی پانچواں نام بھی سامنے آ سکتا ہے ۔ لیکن یہ تقریباً یقینی ہے کہ فیصلہ اب پارلیمانی کمیٹی یا الیکشن کمیشن میں ہو گا۔

پارلیمانی کمیٹی کی ہیئت ترکیبی یہ ہے کہ اس میں چار نام تو حکومت کے پیش کردہ ہوں گے اور چار نام حزب اختلاف کے، اگرچہ قائد حزب اختلاف کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے لیکن اپوزیشن کی دوسری جماعتیں بھی اس کمیٹی میں نمائندگی مانگیں گی۔پیپلز پارٹی اتحادیوں کو نمائندگی دے رہی ہے ، ایسے میں کچھ معلوم نہیں کہ حزب اختلاف کے کسی ایک رکن کے دل میں حکومت کی محبت جاگ اٹھے اور وہ حکومت کا کام آسان بنا دے۔ پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کر پائی تو الیکشن کمیشن کو تو بہرحال کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا اور یہ فیصلہ ماننا بھی پڑے گا۔ دوسری طرف پنجاب میں بھی دلچسپ صورتحال ہے ، اب پیپلز پارٹی کی طرف سے تین نام سامنے آئے ہیں جن میں عاصمہ جہانگیر کا نام بھی شامل ہے ۔ عاصمہ کا نام نگران وزیراعظم کے لئے بھی لیا جا رہا تھا لیکن پھر ان کے خلاف اعتراضات سامنے آنے لگے۔ بعض کالم نگاروں نے بھی ان کو ہدفِ تنقید بنایا یوں ان کا نام فہرست سے خارج ہو گیا۔ تو کیا اب وہ لوگ چپ سادھ لیں گے جو عاصمہ جہانگیر کا نام سامنے آنے پر متحرک ہو گئے تھے؟ میرے خیال میں ان حلقوں کی مخالفت اتنی ہی تیزی سے دوبارہ سامنے آئے گی۔ پنجاب کی نگران وزارت علیا کے لئے دوسرا نام میاں عامر محمود کا ہے۔ انہوں نے اپنی صحافتی مصروفیات کے حوالے سے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بننا شاید مشکل ہو۔ ان کا نام پیپلز پارٹی نے تجویز کیا ہے ۔ ممکن ہے انہیں مجبور کیا جائے تو وہ مان جائیں لیکن مسلم لیگ (ن) ان کا نام شاید قبول نہ کرے۔ تیسرا نام سابق چیف سیکرٹری عبدالحفیظ رندھاوا کا ہے۔ ہو سکتا ہے ان کے نام پر اتفاق رائے ہو جائے لیکن پہلے نگران وزیراعظم کا فیصلہ ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) نے جو نام دئیے تھے ان میں جسٹس (ر) عامر رضا خان کا نام ”ہاٹ فیورٹ“ تھا۔

نگران وزیراعظم کا فیصلہ

مزید : صفحہ اول