بلوچستان اسمبلی تحلےل

بلوچستان اسمبلی تحلےل

                  بلوچستا کوئٹہ (آئی این پی )گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ایڈوائس پر پیر کو بلوچستان اسمبلی تحلیل کر دی تاہم اسلم رئیسانی نگران وزیرا علیٰ کے حلف اٹھانے تک وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔ اس سے قبل وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے آئین کے آرٹیکل 112کی شق (1) کے تحت گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی کوپیر 18مارچ کو صبح آٹھ بجے صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس ارسال کی تھی ۔ گورنر نے سہ پہر 3 بج کر 40منٹ پر صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے نوٹیفکیشن پر دستخط کئے او راس کے بعد سرکاری طور پر صوبائی اسمبلی کی تحلیل کا اعلان کر دیاگیا‘ بلوچستان میں اب نگران سیٹ اپ کیلئے اسلم رئیسانی اور اپوزیشن لیڈر نواب زادہ طارق مگسی کے درمیان مشاورت ہو گی۔ پیر کو ہی بلوچستان ہائیکورٹ نے جے یو آئی(ف) کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع کا سپیکر کی طرف سے بطور اپوزیشن لیڈر جاری کیا گیا نوٹیفیکیشن منسوخ کردیا ۔وزیر اعلی کی طرف سے گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے ایڈوائس کے بعد صوبے میں جاری بحران کے خاتمہ اورنگران حکومت کے قیام کی راہ بھی ہموار ہوگئی ۔ اس سے قبل بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی اپنے حامی وزراءاور ارکان کی اکثریت کے اپوزیشن میں چلے جانے کی وجہ سے اکثریت سے محروم ہو گئے تھے اور اپوزیشن لیڈر طارق مگسی کو ایوان میں اکثریت حاصل ہو گئی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں نے جے یو آئی (ف) کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع کو اپوزیشن لیڈر ماننے سے انکار کر دیاتھا تاہم جے یو آئی (ف) کے بلوچستان اسمبلی کے سپیکر آغا مطیع اللہ نے مولانا عبدالواسع کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا مگر ان کی تقرری کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، کیا جسے ہائی کورٹ نے بھی کالعدم قرار دیدیا اور اب نگران وزیر اعلیٰ کیلئے وزیر اعلیٰ رئیسانی اور اپوزیشن لیڈر طارق مگسی کے درمیان مشاورت ہو گی۔ بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ کے لئے کئی نام زیر گردش ہیں۔

بلوچستان اسمبلی تحلیل

مزید : صفحہ اول