سیاستدان کبھی نہیں چاہیں گے کہ الیکشن کمیشن نگران وزیراعظم کا تقرر کرے، شہری

سیاستدان کبھی نہیں چاہیں گے کہ الیکشن کمیشن نگران وزیراعظم کا تقرر کرے، شہری
سیاستدان کبھی نہیں چاہیں گے کہ الیکشن کمیشن نگران وزیراعظم کا تقرر کرے، شہری

  

لاہور (ملک خیام رفیق/الیکشن سیل) سیاسی کمیٹی بالآخر نگران وزیراعظم کا انتخاب کرے گی سیاست دانوں نے تمام آئینی معاملات اتفاق رائے سے حل کئے ہیں یہ معاملہ بھی حل ہوجائے گا سیاست دان کبھی نہیں چاہیں گے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نگران وزیراعظم کا تقرر کرے شہریوں کی رائے ”روزنامہ پاکستان“ کے سروے میں انارکلی کے رہائشی ریاض حسین نے کہا سیاستدان نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے پیدا کرلیں گے ۔ ابھی جو سیاسی کمیٹی بنائی ہے یہ بالآخر نگران وزیراعظم کا انتخاب کرلے گی اور معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس نہیں جائے گا۔ بھاٹی کے رہائشی راشد نے کہا کہ موجودہ سیاستدان آپس میں ملے ہوئے ہیں اپنے مفادات کے لئے اکٹھے ہوجاتے ہیں یہ نگران سیٹ اپ کے لئے مشورے کررہے ہیں سیاستدان صوبوں اور وفاق میں نگران حکومتوں کے لئے اپنے پسندیدہ امیدواروں کو لانا چاہتے ہیں اس لئے یہ کبھی بھی معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس نہیں جانے دیں گے ۔ ساندہ کے رہائشی نذیر اعوان نے کہا کہ سیاسی کمیٹی کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد نگران وزیراعظم کا انتخاب کرے تاکہ الیکشن کے شیڈول کا اعلان ہوسکے۔ سنت نگر کے رہائشی امجد اقبال نے کہا کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ سیاسی کمیٹی کرے گی اور معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس نہیں جائے گا۔ (ن) لیگ اور پی پی اپنی مرضی کا نگران سیٹ اپ لانے کے لئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں۔ گوالمنڈی کے رہائشی ناصر تاجر محمد انور، شاہ جمال کے فیض رسول نے کہا کہ سیاسی کمیٹی نگران وزیراعظم کا فیصلہ ضرور کرلے گی۔ سیاسی کمیٹی کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ معاملہ الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں جائے وہ ہر سیاسی کمیٹی کچھ لو اور کچھ دو پر عمل کرے گی۔ پنجاب اور وفاق میں اپنی پسند کا نگران سیٹ اپ بنانے کے لئے دیر ہورہی ہے۔ جیسے ہی حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے ہوگیا ویسے ہی نگران وزیراعظم کا اعلان ہوجائے گا۔ اگر الیکشن کمیشن کے پاس معاملہ گیا تو ان کی مرضی نہیں چلے گی۔ شاہ جمال کالونی کے رہائشی فیض رسول نے کہا کہ سیاسی کمیٹی نگران وزیراعظم کا انتخاب ہر صورت کرے گی اور یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس نہیں جائے گا کیونکہ حکومت نے تمام آئینی معاملات پر اتفاق رائے کے ذریعے فیصلے کئے ہیں یہ معاملہ بھی حال ہوجائے گا۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳