اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر بھی عدلیہ سے ہونے چاہئیں، عوامی رائے

اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر بھی عدلیہ سے ہونے چاہئیں، عوامی رائے
اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر بھی عدلیہ سے ہونے چاہئیں، عوامی رائے

  

لاہور (محمد نواز سنگرا/الیکشن سیل) اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر بھی عدلیہ سے ہونے چاہئیں انتظامی اور ایجوکیشن افسران بڑے بڑے سیاستدانوں کا دباﺅ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ یہ تمام افسران پنجاب حکومت کے من پسند ہیں اس لئے الیکشن میں ان کی جانبداری مشکوک ہے شہریوں کی رائے ”روزنامہ پاکستان“ کے سروے میں گزشتہ روز مزنگ کے رہائشی محمد اسلم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو چاہیے تھا کہ وہ دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر سول ججز کو تعینات کرے انتظامی افسران اور ایجوکیشن افسران تو پنجاب حکومت کے لگائے ہوئے ہیں۔ وہ الیکشن میں صاف اور شفاف طریقے سے کام نہیں کریں گے اچھرہ کے محمد نصیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن پنجاب میں جو اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر لگائے ہیں وہ بڑے بڑے سیاستدانوں کے پریشر کو کس طرح برداشت کریں گے۔ اگر سول ججز ہوتے تو اچھا کام ہوتا اب لگتا ہے الیکشن میں یہ اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر ضرور اثر انداز ہوں گے انتظامی آفیسر اور ایجوکیشن آفیسر پنجاب حکومت کے منظور نظر ہیں اس لئے لگتا ہے کہ وہ غیر جانبداری سے کام نہیں کرسکیں گے۔ مسلم ٹاﺅن کے رہائشی محمد اسلم مغل نے کہا کہ اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر کا کام بہت اہم ہوتا ہے وہ اگر عدلیہ سے لئے جائے تو بہتر تھا کیونکہ عدلیہ آزاد ہے اور وہ دباﺅ برداشت کرسکتی ہے۔ وحدت روڈ کے رہائشی افضل سندھو نے کہا میری رائے میں الیکشن کمیشن اپنے کام کو بہتر جانتا ہے اس نے جو کیا ہے ٹھیک کیا ہے عوام کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ گلبرگ کے رہائشی ندیم احمد نے کہا کہ صرف پنجاب میں اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر عدلیہ سے نہیں لئے گئے جو تشویشناک ہے۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳