نگران وزیراعظم کا ’بوتا‘ بیڑی چڑھتا نظرنہیں آتا، پارلیمانی کمیٹی پر بھی اعتراض لگ گیا، اجلاس کل ہوگا

نگران وزیراعظم کا ’بوتا‘ بیڑی چڑھتا نظرنہیں آتا، پارلیمانی کمیٹی پر بھی ...
نگران وزیراعظم کا ’بوتا‘ بیڑی چڑھتا نظرنہیں آتا، پارلیمانی کمیٹی پر بھی اعتراض لگ گیا، اجلاس کل ہوگا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمہوری حکومت کی پانچ سالہ مدت پوری ہونے اور قومی اسمبلی 16 مارچ کو تحلیل ہونے کے باوجود ابھی نگران وزیراعظم کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے تاہم یہ مسئلہ حل کرنے کیلئے آئین کے تحت پارلیمانی کمیٹی قائم کردی گئی ہے لیکن اس پر بھی جے یو آئی (ف)، متحدہ قومی موومنٹ اور تحریک انصاف نے اعتراض کردیا ہے جبکہ کمیٹی کا اجلاس کل بدھ کو ڈھائی بجے   ہو گا ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں خورشید شاہ، فاروق ایچ نائیک، چودھری شجاعت، غلام احمد بلور، سردار مہتاب، پرویز رشید، سعد رفیق اور سردار یعقوب ناصر شامل ہیں۔ یہ کمیٹی تین دن میں نگران وزیراعظم کیلئے کسی ایک نام پر اتفاق نہ کر پائی تو معاملہ الیکشن کمیشن میں چلا جائے گا۔ دوسری جانب جے یو آئی (ف)، متحدہ قومی موومنٹ اور تحریک انصاف نے نگران وزیراعظم کی تقرری کیلئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی پر اعتراض کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق ایم کیو ایم کے مرکزی رہنماءحیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ یکطرفہ طور پر کمیٹی کا قیام چودھری نثار کی آمرانہ سوچ ہے، حکومت نے اے این پی اور ق لیگ کو نمائندگی دی مگر ن لیگ نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اپنے سوا کسی بھی جماعت کو اپوزیشن نہیں سمجھتی۔ اس بات کے ردعمل میں چودھری نثار نے کہا کہ ایم کیو ایم پانچ سال تک حکومت میں رہی ہے اور اب ملی بھگت سے اپوزیشن میں آئی ہے، مسلم لیگ ن ایم کیو ایم کو اپوزیشن نہیں مانتی، اپوزیشن کی بیشتر جماعتوں سے مشاورت کی ہے۔ تحریک انصاف اور جے یو آئی (ف) کا بھی یہ کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے پارلیمانی کمیٹی پر ان سے مشاورت نہیں کی۔

مزید : قومی /اہم خبریں