پیاف کاآٹو پارٹس پر اضافی دو فیصد جنرل سیلز ٹیکس واپس لینے کے فیصلے کا خیر مقدم

پیاف کاآٹو پارٹس پر اضافی دو فیصد جنرل سیلز ٹیکس واپس لینے کے فیصلے کا خیر ...

لاہور(کامرس رپورٹر) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف)نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے آٹو پارٹس پر اضافی دو فیصد جنرل سیلز ٹیکس واپس لینے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پیاف کے چیئرمین ملک طاہر جاوید نے کہا کہ چار اکتوبر 2013ءکو جاری کردہ ایس آر او 896کی وجہ سے ٹریکٹر کی قیمتیں بڑھ گئی جبکہ پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس نافذ کرنے سے قبل سال 2009-10میں ٹریکٹر انڈسٹری کی پیداوار 72898یونٹ تھی، سولہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بعد سال 2011-12ءمیں یہ پیداوار گھٹ کر 48898یونٹس رہ گئی جبکہ سیلز ٹیکس کی شرح دس فیصد تک آنے کے بعد سال2012-13ءمیں یہ پیداوار معمولی بہتری کے ساتھ 51977یونٹس تک پہنچ گئی۔

انہوں نے کہا کہ جنرل سیلز ٹیکس کی شرح دس فیصد سے بڑھ کر سترہ فیصد ہونے کے بعد پچاس ہارس پاور کے ٹریکٹر کی قیمت پینتالیس ہزار روپے جبکہ ساٹھ ہارس پاور اور پچھتر ہارس پاور کے ٹریکٹرز کی قیمت بالترتیب پچاس ہزار روپے اور پینسٹھ ہزار بڑھ گئی۔ اسی طرح پچاسی ہارس پاور کے ٹریکٹر کی قیمت میں ایک لاکھ سات ہزار روپے اضافہ ہوا جس سے ٹریکٹر صارفین کی پہنچ سے باہر ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ ٹریکٹر انڈسٹری کی پیداوار میں کمی کا نقصان حکومت کو بھی محاصل میں کمی کی صورت میں برداشت کرنا پڑا ۔ سال 2011-12ءمیں ٹریکٹر انڈسٹری کی 70ہزار یونٹس پیداوار پر پانچ فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد تھا اور حکومت کو اس انڈسٹری سے تقریباً 7.3ارب روپے محاصل حاصل ہوئے، سال 2012-13ءمیں 50ہزار یونٹ کی پیداوار پر اگرچہ دس فیصد جنرل سیلز ٹیکس وصول کیا گیا لیکن محاصل کی وصولی 6.8ارب روپے تھی۔ اس سال سولہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس کے باوجود حکومت کی ٹریکٹر انڈسٹری کے محاصل کی وصولی پانچ ارب روپے جبکہ پیداوار بھی 30ہزار یونٹس سے کم رہنے کی توقع تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی قوت خرید اور ٹریکٹرز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ٹریکٹر مینویکچرنگ انڈسٹری کا حجم کم ہورہا تھا لیکن اضافی دو فیصد جنرل سیلز ٹیکس واپس لینے کے فیصلے سے صورتحال تبدیل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا کریڈٹ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو جاتا ہے اور کاروباری برادری انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

مزید : کامرس