مسیحا کہیں جسے

مسیحا کہیں جسے
مسیحا کہیں جسے

  

حضرت علامہ اقبال ؒ کے ایک شعر کی تشریح یوں ہے کہ اے غافل انسان تو کس محشر کا انتظار کر رہا ہے، جہاں تُو موجود ہے اسے محشر کیوں نہیں سمجھتا، یہ زمانہ یہ عرصہ محشر ہی ہے اور تُو محشر میں جن اعمال کو پیش کرنا چاہتا ہے وہ اسی دنیا میں پیش کر دے اگر تیرے دامن میں کھوٹے سکے ہیں، تو وہ تو نہیں چل سکتے اور اگر لوگوں کی بھلائی کے لئے کئے ہوئے اچھے اعمال ہیں تو دنیا میں تیرا نام روشن ہو جائے گا، مراد یہ ہے کہ اگر کوئی انسان دُکھی انسانیت کی خدمت کرتا ہے تو وہ دنیا کے محشر میں بھی سرخرو ہے اور آخرت کے محشر میں بھی وہ کامیاب رہے گا۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس حقیقت کو جان گئے ہیں، دنیا کا امیر ترین شخص بل گیٹس رفاعی کاموں میں پیش پیش ہے، اس نے ایک عام انسان سے زندگی کا سفر شروع کیا اور پھر شہرت اور دولت کی بلندیوں کو چھوتا ہے، اس کی خدمات کا زمانہ معترف ہے، پولیو کے خلاف مہم میں اس نے اربوں روپے کی امداد دی ہے، اس طرح وہ تعلیم کے شعبے میں بھی ضرورت مند طلبا و طالبات کے کام آ رہا ہے، ذہین بچوں میں سوفٹ ویئر تقسیم کر رہا ہے، ایسی مثالیں بہت ہیں، دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو دولت پر سانپ بن کر نہیں بیٹھے بلکہ اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ پاکستان جب بنا تو صرف30خاندان ایسے تھے، جو جدی پُشتی مالدار تھے لیکن آج ہم سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں دولت مند پاکستانی دیکھتے ہیں یہ سب وہ لوگ ہیں، جنہیں وراثت میں جائیداد نہیں ملی، لیکن انہوں نے اپنی قابلیت اور محنت سے معاشرے میںایک باوقار مقام حاصل کیا ہے، قدرت کسی کا حق نہیں رکھتی، جو کوئی شخص محنت کا پھل دار درخت لگائے گا اسے پھل ضرور نصیب ہو گا، اس سے بھی آگے کی بات یہ ہے کہ محنت اور ریاست سے سینکڑوں لوگ آج امیر تو بن گئے ہیں مگر ان سینکڑوں میں صرف بیسیوں لوگ ایسے ہیں جو دُکھی انسانیت کی خدمت کرنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں، جن کے سینے میں ایک ہمدرد اور انسان دوست دل دھڑکتا ہے، جن کی آنکھوں میں انسانیت کی خدمت کے خواب ہیں اور پھر ان خوابوں کو تعبیر دینے کے منصوبے اور ارادے ہیں ان میں ایک ملنسار، محب ِ وطن اور غمگسار انسان ملک ریاض بھی ہیں۔

ملک ریاض کا نام آتے ہی بحریہ ٹاﺅن دستر خوان آنکھوں میں گھوم جاتے ہیں جہاں روزانہ ہزاروں غریب لوگ کھانا کھاتے ہیں، ان میں مزدوروں کے ساتھ سفید پوش لوگ بھی ہوتے ہیں ۔ تھر میں جاری قحط کی تباہ کاریوں سے بھی ملک ریاض غافل نہیں ہیں ۔ تھرپارکر میں بھوک کے ستائے انسانوں کے لئے کروڑوں روپے کی امداد دی ہے، پھر پاکستان بھر میں جہاں کہیں بھی اُن کی امداد کی ضرورت پڑتی ہے یہ اُس ضرورت کو پورا کرنے کر بھرپور کوشش کرتے ہیں، بے گھروں کے لئے گھر بنانا اور زخمیوں کے زخموں پر مرہم رکھنا انہیں بہت اچھا لگتا ہے۔

ملک ریاض جو اتنے سارے رفاعی کام کر رہے ہیں تو اس کی دو بڑی وجوہات فوری طور پر سامنے آتی ہیں، پہلی یہ کہ قدرت نے انہیں پیدا ہی انسانیت کی خدمت کے لئے کیا ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مصیبت کے دن دیکھے ہیں، انہیں معلوم ہے بھوک کس اذیت کا نام ہے، یہ پیاس کی شدت کو بھی سمجھتے ہیں اور محرومی کی اذیت سے بھی آشنا ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج جو اس پس منظر کے ہوتے ہوئے یہ فلاحِ انسانیت میں اپنا نام روشن کر رہے ہیں تو یہ بھی بڑے نصیبوں کی بات ہے، یہ توفیق ہر کسی کو نہیں ہوتی، ایک ایسا شخص جو خود دوا دارو اور مرہم کے لئے بے چین تھا آج دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہے، وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اور وقت قابل اور محنتی انسانوں کی قدر بھی کرتا ہے، انہیں ضائع نہیں کرتا۔ میں کئی دنوں سے سوچ رہی تھی کہ ملک ریاض پہ کالم لکھوں وہ بھی دوسری بار، ملک ریاض کے چرچے بڑے خوبصورت الفاظ میں ہو رہے ہیں جہاں حکومت نہیں پہنچتی وہاں ملک ریاض پہنچ جاتے ہیں ماضی ہو یا حال ہو۔ ملک ریاض غریبوں کے مسیحا بنے ہوئے ہیں، شائد اس لئے کہ ملک ریاض یہ سب درد جھیل چکے ہیں اور آج یہ ان دردوں کی دوا بن کر غریبوں کے لئے کام کر رہے ہیں، ملک ریاض میں زیادہ تر خوبیاں پائی جا رہی ہیں، اگر یہ سیاستدان ہوتے تو ایسا نہ ہوتا، کیونکہ سیاست دانوں کے دل رحم دل نہیں ہوتے، کٹھور دل ہوتے ہیں ہوائی باتیں تو کر سکتے ہیں، مگر عمل نہیں، ہمارے ملک میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں،جو تجوریوں پر سانپ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر وہ تجوریوں کے مُنہ کھول دیں تو اس ملک سے غربت ختم ہو جائے گی جیسا کہ ملک ریاض جیسے لوگ کر رہے ہیں۔ میں آج ملک ریاض کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں وہ جو نیک کام کر رہے ہیں اپنے ملک کے لئے کر رہے ہیں، ہسپتال دیکھیں تو قابل ڈاکٹروں سے بھرا ہوا ہے، سہولتیں یورپ جیسی ہیں غریبوں کا علاج مفت ہے، دستر خوان دیکھیں غریبوں کے لئے بھرے ہوتے ہیں، نوکریاں قابل غریبوں کو دی جاتی ہیں، کہیں کوئی زوال آئے تو ملک ریاض اناج کے منہ کھول دیتے ہیں کہیں کوئی شہید ہو جائے یا مارا جائے تو وہاں خود پہنچ جاتے ہیں یا اپنا نمائندہ بھیج کر اُس کے اہل و عیال کی امداد کرتے ہیں، تو پھر ہم ملک ریاض کو کیوں نہ یاد رکھیں یہ وہ شخصیت ہے، جس کے ساتھ میں نے ایک دفعہ سفر کیا اور اِن کو فون پر بات کرتے محسوس کرتی رہی کہ جو فون کال ہوتی کسی اہم شخصیت کی ہوتی اور بڑی سادگی سے جواب دیتے کہ میں یہ کام کر دوں گا۔ مَیں یقین سے کہتی ہوں کہ وہ بھی امدادی کام غریبوں کے لئے ہی ہوں گے۔

ملک ریاض نے ایک اُردو اخبار نکالا گو اُنہیں صحافت کا تجربہ نہیں تھا، مگر اخبار کو عروج دے کر لوگوں کو روز گار دیا، اخبار کیوں چھوڑا کیسے چھوڑا یہ ملک ریاض ہی جانتے ہیں، مَیں یہ کہوں گی کہ ملک ریاض اگر اس ادارے کی دوبارہ سرپرستی کریں تو بےروز گار صحافیوں کو روز گار مل جائے گا اور بہت سارے لوگ اس ادارے سے مستفید ہوں گے۔

ملک ریاض کو ادارہ چلانے سے دولت میں تو فرق نہیں آئے گا، مگر دُعاﺅں میں اضافہ ہو جائے گا، مَیں جب بےروزگار صحافیوں کو دیکھتی ہوں، تو میرا ایک دم ذہن ملک ریاض کی طرف چلا جاتا ہے، میرا دل چاہتا ہے کہ میں ملک ریاض کو مل کر مشورہ دوں کہ اس اخبار کی سرپرستی آپ دوبارہ کریں۔

میری تحریر شائد ملک ریاض تک پہنچ جائے اور جیسا وہ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر پہنچ جاتے ہیں، اسی طرح اس اخبار کی سرپرستی کر کے سینکڑوں بیروزگار صحافیوں کو بھی روزگار دے کر سرپرستی کریں۔

خدا کرے کہ ایسا ہی ہو، یہ ادارہ دوبارہ آباد ہو اور ملک ریاض کے وقار میں اور اضافہ ہو۔ ایسے لوگ جو اپنے عوام کا دھیان رکھتے ہیں، اکثر کا رزق اللہ کے بندوں میں بانٹتے ہیں، قیامت کے روز وہی پہچانے جائیں گے، خدا کرے یہ سادہ آدمی اپنے قلم سے لکھ دے کہ یہ نیوز پیپر میرا ہے، مَیں اس کی سرپرستی کروں گا یہ بھی ایک صدقہ جاریہ ہے، روزگار دینا۔

مزید : کالم