لو ٹ جاتی ہے اِدھر کو بھی نظر ....

لو ٹ جاتی ہے اِدھر کو بھی نظر ....
لو ٹ جاتی ہے اِدھر کو بھی نظر ....

  

ہمارے ملک کے چند بڑ ے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ہے ، دہشت گر دی اور توانائی کے بحران کے علاوہ اگر کوئی چیز ہمارے ملک کو اور موجودہ نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے تو وہ کرپشن ہے ۔ پاکستان کا کوئی ایک ادارہ بھی ایسا نہیں ہے، جہاں سے کر پشن کے شواہد نہ ملے ہوں۔ ہمارے ملک کے تمام چھوٹے اور بڑ ے اداروں میں اگر کوئی چیز قدر ے مشترک پائی جاتی ہے، تو وہ کرپشن ہے اور اب تو ایسا لگتا ہے کہ کرپشن ہمارے نظام کا حصہ بن چکی ہے، اس لئے ہر بڑ ے چھوٹے، امیر غریب آدمی کا ذہن بن چکا ہے کہ کرپشن کے بغیر کوئی کام چاہے،وہ کتنا ہی جائز کیوں نہ ہو ہمارے ملک میں نہیں ہو سکتا۔

 ملک کے باقی اداروں کی طرح ماتحت عدالتو ں میں بھی کر پشن عام ہے اور یہ کر پشن سائل کے جسم سے پہلے خون نچوڑ لیتی ہے اور پھر روح بھی نکال لیتی ہے۔ چند سال پہلے چلا ئے جانے والی عدلیہ بحا لی کی کامیاب تحریک سے ہماری عدلیہ ”آزاد “ ہو گئی تھی،لیکن یہ عدلیہ کی آزادی اعلیٰ عدالتو ں تک ہی محدود رہی ،ماتحت عدالتوں کی کارکردگی پر اس ”آزادی “ کا کو ئی اثر نہیں پڑا ۔ یقینا عدلیہ بحا لی تحر یک کے بہت سے اچھے پہلو بھی سامنے آئے، جس سے اعلیٰ عدلیہ خصوصاً سپر یم کو رٹ نے بے شمار ایسے فیصلے کئے اگر ان پر عمل درآمد ہو جاتا، تو وہ فیصلے کر پشن کے حوالے سے Land Mark Decision ثابت ہو سکتے تھے، لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا، کیونکہ اعلیٰ عدلیہ کے یہ فیصلے شخصیات اور اداروں کے درمیان طاقت اور انا کی لڑ ائی کی نذر ہو گئے، جس کی وجہ سے کرپشن کا دائرہ کم ہو نے کے بجائے بڑھتا گیا ۔ اگر ان فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق اور آئین کی حکمرانی قائم رکھنے کے لئے عمل درآمد کیا جاتا تو شائد ہم آج ایک بڑ ے کرپشن جیسے بڑے مسئلے سے کافی حد تک نجات حاصل کر لیتے،لیکن ”آزاد عدلیہ “ کی کامیاب تحریک کے بعد بھی عدل و انصاف کی فراہمی کے حوالے سے آج بھی ہم وہیں کھڑے ہیں، جہاں کئی دہائیاں پہلے کھڑے تھے ۔ آزاد عدلیہ بحالی کے بعد چونکہ تمام نگاہیں اعلیٰ عدلیہ کی کارکردگی پر مرکو ز ہو گئیںاور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کی کارکردگی بھی یقینا بہتر ہوئی، لیکن ماتحت عدالتوں، جو ہمارے ملک کے نظام عدل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں کی کارکردگی میں بہتری یا تبدیلی آنے کے بجائے،جوں کی توں رہی، ماتحت عدالتو ں سے زیا دہ تر واسطہ چونکہ عام اور غریب طبقے کا پڑتا ہے،اس لئے وہ عدلیہ آزاد ہو نے کے باوجود آج بھی انصاف اور اپنی داد رسیوں کے لئے مایوسی کا شکار ہے۔ ملک کے دور دراز اضلاع کی ماتحت عدالتوں کی حالت کیا بیان کرنی، لاہور، اسلام آباد، کراچی اور کوئٹہ جیسے شہروں کی ماتحت عدالتوں کی کارکردگی بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے، ملک بھر کی ماتحت عدالتو ں میں کر پشن ایک لاعلاج مر ض بن چکی ہے۔ ماتحت عدالتوں میں کر پشن کی وجوہات پر نظر ڈالی جائے تو سب سے پہلی بڑی وجہ آج سے دو صدیاں پہلے سے رائج جدید ٹیکنالوجی سے عاری نظام ہے، دوسری بڑی وجہ کم پڑھا لکھا اور غیر تربیت یافتہ سٹاف، جبکہ تیسری بڑی وجہ ٹاﺅٹ مافیا اور ان کی عدالتوں کے احاطوں میں جعلی سازیاں اور نو سربازیاں ہیں۔

جیسا کہ مَیں نے پہلے عرض کیا ہے کہ ماتحت عدالتوں میں سائلوں کی اکثر یت غر یب اور سادہ لوح لوگو ں کی ہوتی ہے، اس لئے ٹاﺅٹ مافیا اور جعل ساز لوگ انہیں بڑے آرام سے اپنے نرغے میں لا کر ایک چٹکی میں ان کے خون پسینے کی کمائی ہتھیا لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پڑھ عدالتی عملہ سائلوں کے آگے زمین کے خدا بن بیٹھتے ہیں ، سائلوں کو اس وقت تک نہ تو اپنی مثل مقدمہ دیکھنے کو ملتی ہے اور نہ ہی مقدمے کی تاریخ کا پتہ چلتا ہے، جب تک وہ عدالتی عملے، یعنی اہلمد، ہرکارے یا ریڈر کی مٹھی گرم نہیں کرتے۔ ماتحت عدالتوں میں نوٹس کی تکمیل کے لئے جانے والے تعمیل کنندہ ہو یا معصوم بچوں کی بازیابی کے لئے جانے والا عدالتی بیلف ہو (سرکاری فیس کے علاوہ) مُنہ مانگی رقم مانگتے ہیں۔ ماتحت عدالتو ں میں جعلی مہروں ،جعلی اسٹام فروشی،جعلی ڈومیسائل سے لے کر جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹ تک کا کاروبار سرعام ہو رہا ہوتا ہے اور سب کاروبار کرنے والے ٹاﺅٹ مافیا کو طاقتور اور بااثر حلقے کی شہ حاصل ہوتی ہے،کیو نکہ ان کو دہاڑی ، ہفتہ یا منتھلی باقاعدگی سے جا رہی ہوتی ہے ،ان پڑھ اور غیر تربیت یافتہ سٹاف، یعنی عدالتی عملہ اور ٹاﺅٹ مافیا کی جعل سازیوں اور نوسر بازیوں کی وجہ سے ماتحت عدالتیں اندھیر نگری چوپٹ راج کی زندہ مثال نظر آتی ہیں ۔ ایک عام سادہ لوح آدمی جو پہلے ہی اپنے مقدمے کے گورکھ دھندے میں بُری طرح پھنسا ہوتا ہے اس میں اتنی ہوش اور طاقت کہاں ہوتی ہے کہ وہ کسی کرپٹ عدالتی اہلکار، یا ٹاﺅٹ کے خلاف کارروائی کا سوچے۔ ماتحت عدالتو ں میں کر پشن اورٹاﺅٹ مافیا کی حکمرانی کی وجہ سے ہمارا عدالتی نظام بدنام ہو کر رہ گیا ہے اور غر یب آدمی ماتحت عدالتو ں کا رخ کر نے کے بجا ئے جر گے یا پنچائت کو تر جیح دیتا ہے جس کی وجہ سے آئے روز ملک کے مختلف حصو ں سے جر گو ں اور پنجا ئتوں کے غیر قانو نی ، غیر اخلا قی اور انسانی حقو ق کے خلاف بد نام زمانہ فیصلو ں کی خبر یں سننے ،دیکھنے اور پڑ ھنے کو ملتی ہیں جو پور ی دنیا میں ملک کی بد نامی کا باعث بنتی ہیں ۔

 ماتحت عدالتو ں میںاس کر پشن کی وجہ سے ملک کا ایک بہت بڑ ا طبقہ خصو صاً غر یب اور سادہ لو ح ملک میں مو جو د نظام عدل کے خلا ف نالا ں اور بد دل نظر آتا ہے ۔کاش ”آزاد عدلیہ “ کے ثمر ات ماتحت عدالتو ں تک بھی پہنچتے تاکہ عام آدمی بھی ”آزاد عدلیہ “ سے مستفید ہو تا اور ملک میں مو جو د عد ل کے نظام پر اپنے اعتما د کا اظہا ر کر تا اور اسے کسی جرگے یا پنجا ئت میںاپنی داد رسی کے لے نہ جانا پڑتا۔ اب وقت آ گیا ہے حکو مت اور بار و بنچ کی بھی مشترکہ ذمہ دار ی ہے کہ وہ ماتحت عدالتوں میں جدید ٹیکنالوجی کا نظا م متعارف کروائیں اور عدالتی عملے کے لئے باقاعدہ تربیتی کورس کروائے جائیں،کیونکہ اگر جج صا حبان ، وکلاءصاحبان کے لئے ایک مخصوص تربیتی کورس ہو سکتا ہے تو باقی عدالتی عملے کے لئے کیوں نہیں، اس کے علاوہ ٹاﺅٹ مافیا، جعل سازی اور نوسربازی کرنے والوں کو پکڑا جائے اور انہیں سخت سزائیں دی جائیں اس کے لئے ہر ماتحت عدالتوں میں ایک انسداد کر پشن کا دفتر ہونا چاہئے، جو کرپٹ عدالتی اہلکاروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کر ے۔

مزید : کالم