کرکٹ سے بغاوت تک

کرکٹ سے بغاوت تک
کرکٹ سے بغاوت تک

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عابد شیروانی خوش تھا۔کروڑوں پاکستانیوں کی طرح اسے بھی بنگلہ دیش سے کرکٹ میچ جیتنے کی بہت خوشی تھی۔کہنے لگا: ”یار نہ جانے اس فتح کی انڈیا سے جیتنے کی نسبت زیادہ خوشی کیوں ہو رہی ہے؟حالانکہ اس سے قبل ہمارے جذبات ایسے نہیں تھے“۔ عابد کے سوال سے حالیہ واقعات کے گرداب میں ذہن گم ہوگیا اور پھرکڑیوں سے کڑیاں ملتی چلی گئیں....میرٹھ یونیورسٹی کے 67کشمیری طلبہ پر غداری کا مقدمہ قائم ہوا تو خِرد کی گتھیاں خودبخود سلجھنے لگیں۔یہ کشمیری طلبہ بھی تو پاکستان کی جیت پر خوشی منا رہے تھے۔اپنے آپ کو انسانی حقوق کا علمبردار کہنے والے بھارت نے ایک بار پھر تنگ نظری اور انسانی حقوق کی پامالی کی انتہا کردی۔بظاہر بات تو صرف کرکٹ کے کھیل کی تھی، لیکن ان طلبہ پر بغاوت کرنے اور تعصب پھیلانے، حتیٰ کہ نقب زنی کے الزامات لگائے گئے،ان پر بدترین تشدد کیا گیا،ان کے داخلے منسوخ کر دیئے گئے،جو شدید نکتہ چینی اور احتجاج کے بعد واپس لے لئے گئے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس مرتبہ بڑی عقل و دانش کا ثبوت دیا کہ متاثرہ طلبہ کے لئے اپنے دل اور تعلیمی اداروں کے دروازے کھول دیئے۔سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق نے اس صورت حال کو جرمنی کے نازی طرزِ عمل سے تعبیر کیا ہے۔ان معصوم طلبہ نے کہا کہ ہم نے شاہد آفریدی کی شاندار پرفارمنس پر بھی اسی طرح خوشی منائی، جیسے ہم ٹنڈولکر کی کارکردگی پر مناتے ہیں، لیکن ہماری اس خوشی کو بُری طرح غم میں بدل دیا گیا۔وہ شاعر نے کہا تھا کہ :

مَیں کبھی نہ مُسکراتا جو مجھے یقین ہوتا

کہ ہزار غم ملیں گے مجھے اِک خوشی سے پہلے

یہ بات بجا کہ کرکٹ اب صرف ایک کھیل ہی نہیں رہا، بلکہ معیشت سے لے کر سیاست تک اور تفریح سے لے کر ثقافت اور ڈپلومیسی تک نہ جانے کتنے پہلو اس کھیل سے اپنے پہلو ملاتے چلے جا رہے ہیں۔کسی اہم میچ کے موقع پر سڑکوں پر ٹریفک بہت کم ہو جاتی ہے اور اکثر محفلوں میں صرف کرکٹ کا تذکرہ چل رہا ہوتا ہے۔ان تذکروں اور تبصروں میں ہم اپنے کئی ضروری کام وقتی طور پر بھول جاتے ہیں:

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

ویسے ہمارے عوام کو غم اتنے زیادہ ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ہم انہیں بھلانے یا کم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ماہرین نفسیات بھی غموں کے اس انبار کا صرف ایک یہی حل بتاتے ہیں....بنگلہ دیش کی حسینہ واجد حکومت نے گزشتہ عرصے میں ہندوستان کو خوش کرنے کے لئے اپنے ملک میں جمہوری حقوق کو جس بُری طرح پامال کیا ہے،عام انتخابات کا ڈھونگ رچانے سے قبل عبدالقادر مُلا کو پھانسی دے دی گئی۔ان دونوں واقعات سے ملک میں شدید بدامنی کی فضا پیدا ہوگئی تھی۔اب بھی بنگلہ دیش کی معیشت تیزی سے تباہ ہو رہی ہے۔وہ یورپی یونین جو بنگلہ دیش کی سب سے بڑی ٹریڈنگ پارٹنر ہے اور 2013ءمیں یورپی یونین کو بنگلہ دیش کی برآمدات کم ہو کر 13ارب ڈالر تک رہ گئی ہیں۔بنگلہ دیش اور روس کے درمیان بھی تجارت اب تک پنپ نہیں سکی۔2013ءمیں دوطرفہ تجارت کا حجم صرف 70کروڑ ڈالر رہ گیا ہے۔روس نے بنگلہ دیش کو ایک ارب ڈالر کا قرضہ بھی دیا ہے، تاکہ اسلحے کی خریداری ممکن ہو اور ساتھ ہی اس نے جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کردی ہے۔امریکہ کو یہ بات قطعاً پسند نہیں کہ بنگلہ دیش، بھارت اور روس کے درمیان وسیع البنیاد اتحاد قائم ہو۔یوکرائن میں تازہ پیش رفت کی وجہ سے امریکہ اب مزید الرٹ ہوگیا ہے۔

بنگلہ دیش میں سیاسی حالات کی خرابی نے اس کو تیزی سے معاشی زوال سے ہم کنار کردیا ہے۔22ارب ڈالر کی واحد بڑی گارمنٹس انڈسٹری کو دو برس تک مزید معاشی تنزلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کو ریڈی میڈ گارمنٹس کے نئے آرڈرز بہت کم مل رہے ہیں۔ملک بھر میں ہڑتالوں اور تشدد کی وجہ سے بھی اس انڈسٹری کو بہت نقصان پہنچا ہے۔اس کی 80فیصد برآمدات کا انحصار صرف اسی انڈسٹری پر ہے۔اس کی معیشت کا بڑا حصہ ترسیلات پر مشتمل ہے جو اب تیزی سے متاثر ہورہا ہے۔بنگلہ دیشی حکومت اور عوامی لیگ کے ”بنگلہ بدھوﺅں“ کی طرف سے پاکستان کے بارے میں متعصبانہ رویے نے اس کی معیشت کو نقصان پہنچانے میں بہت بنیادی کردار اداکیا ہے۔ ”بنگلہ بدھوﺅں“ کی اسی انتہا پسندی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ڈھاکہ میں ایشیا کرکٹ کپ کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا تھا،لیکن ان کی کاروباری مفاد والی ذہنیت نے کام دکھا دیا، ورنہ یہ میلہ وہاں سجنا مشکل نظر آ رہا تھا۔

اس کرکٹ میلے سے قبل بنگلہ دیشی حکومت اور عدلیہ اپوزیشن پر ایک اور ظالمانہ وار کر چکی ہیں۔وہاں کی مقید عدلیہ نے مطیع الرحمن نظامی اور 11افراد کو بھارت سے اسلحے کی بڑی کھیپ سمگل کرنے کے الزام میں موت کی سزا سنا دی ہے۔عبدالقادر ملا کی طرح ان کا ”جرم“ بھی تو کوئی اور تھا ،لیکن سزا ملی کسی اور پر۔وہاں کی حکومت اپوزیشن کو بُری طرح کچلنے کے لئے بے بنیاد الزامات تو کئی ڈھونڈ لاتی ہے، لیکن اپوزیشن لیڈروں کا اصل جرم تو 1971ءمیں پاکستان سے محبت کا ثبوت دینا تھا۔ کشمیری طلبہ کرکٹ میچ کے پردے میں اپنی محبت اور رشتے کا اظہار کریں یا مطیع الرحمن نظامی اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اس محبت کا اظہار ہو، جرم تو ان دونوں کا ایک ہی ہے....حق گوئی بھی ہے جرم اگر تو پھر یہ بھاری مجرم ہیں، یہ لوگ اقراری مجرم ہیں“....نعیم صدیقی مرحوم کے لکھے الفاظ آج پھر اس طرح کانوں میں گونجنے لگتے ہیں، جیسے یہ نظم آج بھی جاوداں ہے اور اک بحرِ بے کراں ہے۔

مطیع الرحمن نظامی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سابقہ دور حکومت (2001 ءتا 2006ئ) میں پہلے زراعت اور پھر صنعتوں کے وزیر رہے۔ان پر الزام کی تفصیل دلچسپ ہے۔ان کے دورِ وزارت میں پولیس نے چاٹگام میں کھاد بنانے والے ایک کارخانے کے گودام سے اسلحے کی بڑی کھیپ پکڑی تھی جو ممکنہ طور پر بھارتی ریاست آسام میں علیحدگی پسند یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ کے لئے تھی۔یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ اسلحہ کہاں سے آیا تھا؟کرنافلی پولیس سٹیشن کے انچارج نے اگلے ہی روز ایک ایف آئی آر درج کی، جس میں مطیع الرحمن کا کوئی ذکر نہیں تھا۔چار سال بعد 2008ءمیں فوج کی سرپرستی میں قائم حکومت کے تحت چاٹگام میٹروپولیٹن جج نے اس کیس کی ازسرِ نو تفتیش کا حکم دیا۔اس حوالے سے درخواست ریاست کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔اس تفتیش میں جون 2011ء میں نئی چارج شیٹ تیار کی گئی،جس میں مطیع الرحمن سمیت گیارہ افراد کے نام شامل کئے گئے۔اب ان تمام افراد کو موت کی سزا سنا دی گئی ہے۔اسلحہ سمگلنگ کے کسی بھی کیس میں یوں سزائے موت کا سنایا جانا حیرت انگیز حد تک انوکھا ہے۔مطیع الرحمن کو صرف دو گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر سزائے موت سنا دی گئی کہ انہوں نے اس وقت بطور وزیر اسلحے کی سمگلنگ کی تحقیقات کا حکم نہیں دیا تھا، حالانکہ یہ تحقیقات کروانا ان کے دائرہ کار سے باہر تھا۔اصل میں اس ظالمانہ سزا کے پیچھے سیاسی انتقام کی ذہنیت ہی کار فرما ہے۔

ان تمام حالات و واقعات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر مطیع الرحمن کو سنائی جانے والی سزائے موت پر عمل کیا گیا تو غالب امکان ہے کہ وہاں کے عوام ایک بار پھر سڑکوں پر آ جائیں گے اور ریاستی مشینری سے ان کا تصادم ہوگا۔اس سے نہ صرف وہاں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہوگی، بلکہ جمہوری اقدار کا بھی ایک بار پھر قتل عام ہوگا اور بنگلہ دیش کی معیشت کو مزید نقصان اور زوال سے دوچار ہونا پڑے گا۔نتیجتاً وہاں کے عوام کے لئے معاشی مسائل اور تکالیف میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔دوسری طرف یورپی یونین بھی کئی وجوہات کی بناءپر بنگلہ دیش سے منہ موڑ لے گی،اس لئے بہتر ہے کہ بنگلہ دیش حکومت ”قتلِ عاشقاں“ سے باز آ جائے، ورنہ ”اکیلی پھر رہی ہوگی یوسفِ بے کاروں ہو کر“.... خدا کرے کہ اس پر ایسا کڑا وقت نہ آئے، اور میرے خیال میں یہی عابد شیروانی کے تشویش ناک سوال کا جواب بھی ہے۔

مزید : کالم