کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یارب!

کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یارب!
 کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یارب!

  

اب تک کی کاوشوں کے سلسلے مین روٹیرین پال جانسن خصوصاقابل ِ تعریف ہے۔ اس کا باپ سویڈن کا رہنے والا تھا اور ماں امریکن تھی، وہ پیدا پاکستان میں ہوا اور پڑھا لکھا مری میں تھا۔شلوار قمیض پہنتا تھا اور اردو، سندھی اور انگریزی روانی سے بولتا تھا۔ لب ولہجہ بھی پاکستانی تھا۔ شادی اس نے ڈاکٹر گریگو(روٹری کے متوفی سرگرم کارکن) کی صاحبزادی سے کی ہوئی ہے اور اس کا بیٹا سانولے رنگ کا ہے۔ روٹیرین پال جانسن کی خدمات نے مجھے اس جرمن جوڑے کی یاد دلادی جس نے ضلع اوکاڑہ کے ایک چک میں تین سال رہ کر مقامی بچیوں کو گڑیاں بنانا سکھایا تھا، جہاں روٹری کلب کی ڈسٹرکٹ کانفرنس ہوئی تھی اور جہاں جرمن جوڑا گڑیاں بیچنے کے لئے اور ان کی آمدنی چک مذکور کی لڑکیوں کو مہیا کرنے کے لئے گیا ہوا تھا۔ علاوہ ازیں روٹیرین پال جانسن کی خدمات نے مجھے ان دو فرنگی ننوں کی یاد بھی دلا دی جو مجھے 1974ءکے قریب گوادر میں ملی تھیں، وہ وہاں بیس سال سے کوڑھیوں کی خدمت کر رہی تھیں اور جب وہاں ایک امریکن کمپنی کے ملازمین تیل کی تلاش کے لئے گئے تھے تو انہوں نے سفید فام مردوں اور ڈبل روٹی کو بیس سال کے بعد دیکھا تھا۔ میری دُعا ہے کہ خدا ہم مشرقیوں کو بھی توفیق دے کہ ہم انسانیت کی خدمت کے لئے اپنے موجودہ کردار سے زیادہ نمایاں کردار ادا کریں۔

تھر پارکر کے روز وشب کا جوحال زیرِ بیان ہے اسے وہاں کے دانے پانی کا حال بھی کہا جاسکتا ہے، لیکن اب تک صرف پانی کا حال ہی بیان ہواہے۔ دانے (یعنی اناج) کا حال ابھی شروع بھی نہیں ہوا۔ اسی طرح بودوباش کا حال بیان کرنا بھی باقی رہتا ہے۔

 تھر پارکر کی پیداوار صرف باجرہ ہے۔ انسان اس کے خوشوں کے آٹے کی روٹی کھاتے ہیں اور جانور اس کے ڈنٹھلوں کو کھاتے ہیں۔ جانور صرف گائیں، بھیڑ بکریاں اور بیل ہوتے ہیں۔بھینسیں جو کہ بنیادی طورپر پانی کا جانور ہوتی ہیں وہاں نہیں ہوتیں۔ کتے بھی غالباً نہیں ہوتے، کیونکہ انہیں پانی پلانے کا انتظام کرنا مشکلات میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔ پنجاب میں باجرے کی کاشت کے علاقوں میں جو نالیاں ہل چلا کر بنائی جاتی ہیں، وہ تھر پارکر میں کدالوں کے ذریعے بنائی جاتی ہیں۔ کھیتوں میں مرد اپنی بیویوں اور بیٹیوں سمیت کدالیں(کسیاں) پکڑ کر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجاتے ہیں اور پھر کدانوں سے نالیاں بناتے ہوئے پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں۔

عورتوں نے گھگرے اور چولیاں پہنی ہوتی ہیں اور سر پر اوڑھنی اوڑھ کر اس کا ایک سراگھگھرے میں آگے کی طرف ٹھونسا ہوتا ہے اور دوسرا پیچھے کی طرف ٹھونسا ہوتا ہے۔ نیز انہوں نے اپنے بازوﺅں پر کلائی سے لے کر کندھے تک پلاسٹک کی چوڑیاں پہنی ہوتی ہیں ۔ باجرے کی آبپاشی کا انحصار کلیتاً بارش پر ہوتا ہے۔ اس سال (2003ئ) بارش کافی ہوجانے کی وجہ سے باجرے کی فصل اچھی تھی اور پہاڑیاں بھی سر سبز تھیں، لیکن گزشتہ برسوں میں بالکل خشک تھیں۔ مَیں نے آسمان پر بادل کے ٹکڑے دیکھ کر بارش کی دعا مانگی تو ایک روٹیرین نے کہا کہ آج کے لئے یہ دعا نہ مانگو کیونکہ اگر بارش ہوگئی تو ہماری لاریاں دلدل میں پھنس جائیں گی اور ہم واپس نہیں جاسکیں گے۔ کیکڑوں کے پہیوں سے راستے پر جو گہری لکیریں پڑجاتی ہیں،لاریاں ان لکیروں پر چلتی ہیں لکیروں والی جگہیں سخت ہو جاتی ہیں اور لاریوں کے پہئیے ان لکیروں کے عین اوپر رکھے جاتے ہیں۔ اِدھر اُدھر نہیں ہونے دئیے جاتے تاکہ زمین میں دھنس نہ جائیں۔

چھوٹی چھوٹی بستیوں میں لوگوںکے گھر چار پانچ فٹ اونچی گول چار دیواری کی صورت میں ہوتے ہیں۔ جو کہ کچی مٹی کی بنی ہوتی ہے۔ اِسی میں دروازہ لگا ہوتاہے۔ کھڑکی یا روشندان کوئی نہیں ہوتا۔ اوپر چھت مخروطی شکل کی بنی ہوتی ہے اور اس کو سہارا دینے کے لئے ستون کوئی نہیں ہوتا۔ ستون کے بغیر ہی لکڑی کے بالوں کے نچلے سرے دیواروں پر رکھ کر اور اوپر والے سرے ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر مضبوطی سے جکڑ دئیے جاتے ہیں،پھر ان کے اوپر کا ہی ڈال دی جاتی ہے۔ بارش کا پانی کا ہی سے پھسل کر مکان کے باہر گرتا جاتا ہے، لیکن مکان کے اندر ایک قطرہ بھی نہیں گرتا، مَیں نے ایسی مخروط چھتیں اٹلی کے جنوب مشرقی حصے میں واقع قصبے سلوادی فسانو(نزد برنڈزی) میں دیکھی تھیں ، لیکن وہ پختہ تھیں۔بن ہار کے گاﺅں کے مکانات بھی دیگر دیہات کے مکانوں یا جھونپڑیوں کی طرح کا ہی کی مخروطی چھتوں والے تھے اور ایک دوسرے سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تھے۔ البتہ وہاں کے مڈل سکول کی عمارت پختہ تھی اور اس کی چھت بھی ہموار سطح والی تھی۔ اس عمارت پر آور سی (یعنی روٹری ولیج کور) بھی لکھا ہوا تھا۔

جونہی ہماری لاریاں اس سکول کے پاس جا کر رکیں توہم یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے کہ چالیس کے قریب دیہاتی مرد ہمارا استقبال کرنے کے لئے ایک صف میں کھڑے تھے اور ان کے نزدیک تین خوبصورت اونٹ بھی سازو سامان سے آراستہ کھڑے تھے۔ ان لوگوں میں سے ناظم یونین کونسل( دوست علی) اور نائب ناظم یونین کونسل کے باپ (ہالی پوتا)نے آگے بڑھ کر ہمارا استقبال کیا۔ وہ ہمیں سکول کے سامنے والے میدان میں لگے ہوئے قناتوں اور سائبان والے خیمے میںلے گئے۔ اس خیمے تلے چوڑی چوڑی چارپائیاں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں اور ان پر ہمارے لئے بستر بچھائے ہوئے تھے۔ بستر اس طرح کے تھے کہ نیچے ریشمی رضائیاں تھیں اور ان کے اوپر خوبصورت کھیس بچھے ہوئے تھے،جو غیر استعمال شدہ تھے، نیز سرہانے(تکئے) بھی تھے۔ پچھلی قنات کے عقبی خیمے تلے میزوں پر ہمارے لئے کھانا رکھا ہوا تھا، جو ہم نے کھڑے کھڑے کھایا۔ کراکری بھی ماڈرن تھی اور ہر لحاظ سے مکمل تھی۔ ہمیں جو مشروبات پیش کئے گئے، وہ شربت اور ٹینکوں کے سادہ پانی پر مشتمل تھے۔ شیشے کے گلاسوں کے اندر پڑا ہوا پانی شفاف نظر آتا تھا۔ مہمانوں کی کثیر تعداد نے مشروبات پئے لیکن میں نے نیسلے کے صاف پانی ہی پر اکتفا کیا، جس کی بوتلیں میں اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ روٹیرین پال جانسن نے ایک ٹینک میں سے چمڑے کے بوکے اور رسی کے ذریعے بارش کا جمع شدہ پانی نکلوا کر پانی کا پورا گلاس ایک ہی سانس میں پی جانے کے بعد اور پھر دو تین سانس لینے اور مزہ لینے کے بعد کہا کہ یہ میٹھا اور ٹھنڈا ہے۔ اس کا چہرہ تمتما اٹھا اور ساتھ ہی ہمارے چہرے بھی جو اس دوران شش وپنج میں پڑے ہوئے تھے، ہشاش باش ہوگئے۔ مَیں نے مقامی لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھا، اب ان کے چہروں پر وہ پہلے والی جھریاں نہیں رہ گئی تھیں جو تیس سال کی عمر میں پڑ جایا کرتی تھیں، وجہ یہ ہے کہ اب وہ صاف اور میٹھا پانی پی پی کر صحت مند ہوگئے تھے۔ ایک چیز جس نے مجھے تکلیف دی وہ یہ تھی کہ مردوں اور عورتوں کے پاﺅں میں تو جوتے تھے، لیکن کمسن بچوں اور بچیوں کے پاﺅں ننگے تھے، مجھے فوراً یہ شعر یاد آیا کہ:

ہر بلاول ہے قوم کا مقروض

پاﺅں ننگے ہیں، بے نظیروں کے

دوسری چیز جو میرے لئے سوہان روح بنی یہ تھی کہ کچھ مریض آگئے جن کے علاج کے لئے نہ کوئی نزدیکی ہسپتال، تھانہ ۔ہسپتال لے جانے کے لئے ایمبولینس تھی اور نہ ایمولینس کے چل سکنے کے لئے پختہ سڑک تھی۔ روٹیرین خوشحال داس نے ( جو ڈاکٹر ہیں) انہیں طبی امداد دی، لیکن یہ ناکافی تھی۔

 خیمے کے نیچے جلسہ بھی ہوا اور لاﺅڈ سپیکر پر تقریریں بھی ہوئیں۔ ہالی پوتے نے (جو لمبا تڑنگا مونچھوں والا جوان تھا)تھری زبان میں بہت موثر تقریر کی اور اپنی تقریر کے د وران سندھی زبان کے اشعار پڑھ کر سماں باندھ دیا میں اپنی سیشن ججی کے دوران سرائیکی علاقوں میں رہ چکا ہوا تھا اور یہ زبان سندھی اور پنجابی دونوں سے ملتی جلتی ہے۔ اس لئے مجھے سندھی کلام کا مفہوم سمجھنے میں دشواری نہ ہوئی۔ کرنل تنویر نے اپنی جوابی تقریر میں کہا کہ آپ لوگوں کی دُعاﺅں کا نتیجہ تھا کہ میرے گھر واقع کراچی میں پارسل بم پھٹنے کے وقت معجزانہ طور پر میں اور میری بیگم پارسل والے کمرے سے چند منٹ پہلے نکل گئے ہوئے تھے اور اس طرح ہماری جانیں بچ گئی تھیں۔ بیگم تنویر نے کرنل تنویر کے ہاتھ چونتیس ہزار روپے کا چیک رین واٹر سٹوریج پراجیکٹ کے فنڈ میں جمع کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ اس اضافی چندے کا ایک موجب شاید اس واقعے سے متاثر ہونا بھی ہو۔ تقریب کے اختتام پر چیدہ چیدہ مہمانوں کو لوئیاں اور اجرکیں (سندھی چادریں) بطور تحائف دی گئیں اور ان میں سے ایک میرے حصے میں بھی آگئی۔(جاری ہے)

(

چوتھی قسط )

 ہمیں جو کھانا کھلایا گیا وہ بہت پر تکلف تھا۔ پتہ نہیں اس کے لئے انتظام کیسے کیا گیا تھا، اس میں بریانی، مٹن قورمہ، مرغ قورمہ، باجرے کے پراٹھے، گرلڈ گوشت اور کسٹرڈ بھی شامل تھے، ایک سالن جو ہمارے لئے نیا تھا اور لذیز بھی تھا ایک مخصوص درخت کی پھلیاں پکا کر تیار کیا گیا تھا۔ پھلیاں باریک تھیں۔ وہ درخت مجھے دور سے دکھایا گیا تھا اور اس کا نام بھی بتایا گیا تھا، لیکن تلفظ صاف نہ ہونے کی وجہ سے مَیں نے یہ نام سمجھنے اور یاد کرنے کی کوشش نہ کی۔

بن ہار کی اس ضیافت نے جنگل میں منگل کا سماں پیدا کردیا اور اس نے سابقہ رات والے جشن طعام و موسیقی کو بھی ماند کردیا جو کنری کی آبادی سے باہر چند کلومیٹر کے فاصلے پر کھیتوں میں واقع ایک کوٹھی میں منعقد کیا گیا تھا۔ سندھی اور پشتو میں ایسی کوٹھی کو اطاق کہتے ہیں اور پنجابی میں ڈیرہ کہتے ہیں۔

 اطاق کی ضیافت میں گوشت خوروں کے لئے گوشت کے سالن اور سبزی خوروں کے لئے سبزیاں تھیں، لیکن کھانے والے لوگ دونوں قسم کے کھانوں کی میزوں کے گردیوں منڈلا رہے تھے کہ کوئی پتہ نہیں لگتا تھا کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان۔ ایک ہندو ہاتھوں سے کباب پکڑ پکڑ کر مسلمانوں کی پلیٹوں میں ڈال رہا تھا اور خود بھی انہیں کی میزوں پر سے کھانا کھا رہا تھا۔ شکل و شباہت بول چال اور لباس کی وضع قطع سب کی ایک جیسی تھی۔ مذہب کی تفریق وہاں تھی ہی نہیں، اگر کوئی تنگ نظر پتہ کرنا چاہئے کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان تو صرف ناموں ہی سے اندازہ لگاسکتا ہے اور وہ بھی مشکل سے کیونکہ خوشحال نام ہندو کا بھی ہوسکتا ہے اور مسلمان کا بھی، مزید برآں عیسائیوں کے نام اسلامی بھی ہوسکتے ہیں اور ہندوانہ بھی۔بعض لوگوں نے ہمیں السلام علیکم کہا اور بعد میں پتہ چلا کہ یہ ہندو ہیں، جس میزبان کے گھر میں میرے علاوہ دونوں سابق ڈسٹرکٹ گورنر اور روٹیرین شہزادہ کبیر احمد(سابق ڈسٹرکٹ وسیشن جج) ٹھہرے تھے، وہ ہندو تھا۔ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھا اور زمیندار بھی تھا۔ جشن ِ رفاقت اسی کے اطاق میں ہوا تھا اور اس کا خرچ اگر پورا نہیں تو بہت حد تک اس نے خود برداشت کیا تھا۔ اس کے ہندو ہونے کا پتہ ہمیں صرف اس کے نام ڈاکٹر نارائین داس موہانہ سے لگا تھا اور نوکر کے ہندو ہونے کا پتہ بھی اسکے نام پرکاش سے لگا تھا۔ باتوں باتوں میں روٹیرین نارائین داس سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج مسٹر جسٹس بھگوان داس کا رشتہ دار نکلا۔

 موسیقی کے پروگرام میں ریڈیو سٹیشن حیدر آباد کی فنکارہ مہتاب کنول نے سندھی، تھری ، پنجابی اور اردو کے گانوں کا ایسا جادو جگایا کہ وہ خود ریگستان کے اندر واقع کسی مہتابی جھیل کا کنول لگتی تھی اور اس کے گانے عالم ِ لاہوت سے نکل نکل کر برستے معلوم ہوتے تھے۔ بایں ہمہ جس خاص گانے نے سب کو مبہوت کر کے رکھ دیا وہ روٹیرین شالم( کرسچن) نے ہندو مسلم نوجوانوں کے ساتھ مل کر کورس کی شکل میں گیا تھا اور اس کے ساتھ دھمال بھی ڈالی تھی، یہ گانا لاہور کے مسلم صوفی شاعر شاہ حسین المعروف مادھولال حسین ؒ کی پنجابی کافی تھا اور اس کے بول تھے:

”گھم چرخڑا سائیاں دا

تیری کتن والی جیوے

نلیاں وٹن والی جیوے

بین المذاہبی حمد اس سے بہتر ہوسکنی مشکل ہے،۔ آئندہ جب میری بین المذاہب وبین الاقوامی فیڈریشن فار ورلڈ پیس (واشنگٹن) کا اجلاس لاہور میں ہوگا، تو مَیں اس کافی کو بطور خاص گانے کے پروگرام میں شامل کرواﺅں گا۔ سندھ اور پنجاب کے صوفیانہ کلام ان کے تمدنوں کی قدرِ مشترک ہیں۔

 کنری کی مذہبی رواداری کا ایک سچہ لطیفہ یہ ہے کہ پجاب کے کچھ مولوی (جن میں میرے اپنے گاﺅں کا ایک باشندہ بھی شال تھا) کنری میں مسلمانوں کو تبلیغ کرنے جانکلے۔ بازار کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک دکان داروں کو کہتے چلے گئے کہ بھائی صاحب! مغرب کی نماز ادا کرنے مسجد میں ضرور آنا۔ جب آخری سرے پر جا پہنچے تو ایک شخص نے(جو وضع قطع سے مسلمان لگتا تھا، لیکن دراصل ہندو تھا) انہیں بتایا کہ آپ نے جتنے لوگوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کی تلقین کی ہے، وہ سب ہندو ہیں اور اسی طرح نیک ہندو ہیں، جس طرح یہاں کے مسلمان نیک مسلمان ہیں۔ اب آپ خود دیکھ لیجئے کہ آپ کی تبلیغ کی ضرورت یہاں ہے یا کسی اور جگہ اور اگر تبلیغ یہاں کرنی ہے تو کس قسم کی کرنی چاہئے۔

مَیں نے یہ واقعہ اپنے ساتھیوں کو سنایا تو پی ڈی جی محسن نے کہا کہ مَیں نے ہندو مسلم اتحاد کا ایسا ہی مظاہرہ ٹراونکور (جنوبی ہندوستان) میں بھی دیکھا تھا۔ وہاں کی روٹری کانفرنس میں ایک مقامی مندوب نے (جو کہ ہندو تھا) مجھے اصرار کے ساتھ کہا کہ آپ کل کا ناشتہ میرے ساتھ کریں۔ ماما نے سب انتظام کر لیا ہے اور وہ کسی صورت بھی آپ کی غیر حاضری معاف نہیں کریں گی۔ جب مَیں اگلی صبح اس ہندو کے ساتھ ناشتہ کرنے گیا، تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دیواروں پر اسلامی کتبے لگے ہوئے تھے۔ مَیں نے اس کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ ماما مسلمان ہیں۔ ہم محلے کے سب ہندو انہیں احتراماً ماما کہتے ہیں۔ جب مَیں نے ماما سے حالات دریافت کئے ، تو اس نے بتایا کہ دیوالی کے موقع پر میرا گھر ہندوﺅں کے گھروں سے بھیجی گئی مٹھائیوں سے بھر جاتا ہے اور عید کے دی یہی گھر ان ہندوﺅں سے بھر جاتا ہے، جو عید مبارک کہتے ہوئے سوئیاں کھانے آ جاتے ہیں۔ سابق ڈٹرکٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ ایک ہندو کے گھر میں بیٹی کی شادی ہوئی تو دلہن کا کنیا دان (رخصتی کا کام) میرے ہاتھوں سے کروایا گیا۔

ایک اور صاحب نے ایسے ہندو مسلم اتحاد کے برعکس شیعہ سنی تفریق کا یہ دلخراش واقعہ بتایا کہ مَیں اور میرے دو تین ساتھی نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں جانا چاہتے تھے۔ شہر سکردو کا تھا۔ ہم نے ایک لڑکے سے پوچھا کہ مسجد کدھر ہے؟ اس نے کہا کہ کن لوگوں کی مسجد؟ ہم نے کہا مسلمانوں کی مسجد۔ اس نے پوری سنجیدگی سے کہا کہ ایسی مسجد تو یہاں کوئی نہیں ہے۔ صرف دو مسجدیں ہیں۔ ایک شیعوں کی، دوسری سنیوں کی، مسلمانوں کی مسجد کوئی نہیں ہے۔

کنری سے بن ہار جاتے ہوئے ایک قصبے (کانٹیو) میں رکے تو وہاں کا مندر دیکھنے کا موقع ملا۔ مندر پر اردوزبان میں ”کرشن مندر“ لکھا ہوا تھا اندر جو مورتی تھی اس میں کرشن جی کو تو حسب معمولی بانسری بجاتے ہوئے دیکھایا گیا ہوا تھا، لیکن رادھا کوسر سے لے کر پاﺅں تک ایک چادر میں لپٹا ہوا دکھایا گیا تھا۔ صرف ایک آنکھ اور ایک رخسار دکھائی دیتا تھا۔ یہ عجوبہ مقامی تمدن کے زیر اثر لگتا تھا۔ اس سے پہلے مَیں ہندوستان میں کئی ہندو مندر اور جین مندر اور پھر تھائی لینڈ میں بدھ مندر بھی دیکھ چکا ہوا تھا۔ ان میں کانگڑہ کے علاقے میں واقع جوالا مکھی کا مندر بھی شامل ہے، جس کی چھت پر اکبر بادشاہ نے سونے کا چھتر نصب کروایا ہوا ہے۔ ان ہندو مندروں میں مجھے بحیثیت مسلمان صحن میں تو جانے دیا گیا تھا، لیکن مورتی والی جگہ کے نزدیک قدم نہیں رکھنے دیا گیا تھا۔ مورتی صرف دروازے میں سے دکھائی گئی تھی۔ اس کے برعکس یہاں سندھ میں مسلمانوں کو عین موورتی تک جانے کی دعوت دی گئی تھی۔

عمر کوٹ کا قلعہ

واپسی پر ہمیں عمر کوٹ کے قلعے میں چائے پلائی گئی اور کیک پیسٹری وغیرہ سے بھی تواضع کی گئی۔ یہ انتظام وہاں کے ایک ہندو نے کیا تھا، جو مقامی روٹری کا ممبر تھا اور بیکری کی دکان چلاتا تھا۔ قلعے کے اندر فوج کی طرف سے بنوائی گئی ایک برجی پر لکھی ہوئی عبارت سے پتہ لگا کہ1969ءہندو پاک جنگ کے دوران ہندوستان کی فوج نے عمر کوٹ نے عمر کوٹ کے نواحی علاقے تک پیش قدمی کر لی تھی اور باقی فاصلہ صرف09کلو میٹر کا رہ گیا تھا، لیکن وہاں سے اسے عین بارڈر تک پسپا کر دیا گیا تھا۔

میرپور خاص کا سفر اور حال

واپسی سفر کے دوران مَیں میرا ساتھی اور روٹیرین پال جانسن سابق ڈسٹرکٹ گورنروں اور ان کے ساتھی روٹیرین قدوائی کے ساتھ مل کر پی ڈی جی محسن کی آرام دہ گاڑی پر میرپور خاص پہنچے۔ یہ سفر ہم نے عمر کوٹ سے براستہ کنری میرپور خاص جانے کی بجائے عمر کوٹ سے براہ راست میرپور خاص جانے والی سڑک کے راستے کیا۔ میرپور خاص میں وہاں کی روٹری کلب کی میٹنگ اسی رات کو ہوئی تھی اور ہمیں اس میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی ہوئی تھی۔ ویسے بھی ہر روٹری کے ممبر کو حق ہوتا ہے کہ وہ روٹری کے نشان والی پن اپنے کالر پر لگا کر دنیا بھر کی کسی بھی دیگر روٹری کلب کی میٹنگ میں شامل ہو سکتا ہے۔ ہم رات میرپور خاص میں رہے۔ وہاں کی میٹنگ میں بھی ہندو اور مسلمان مرد اور عورتیں شریک تھے، لیکن ناموں کے سوا کسی بھی دیگر علامت سے پتہ نہ لگتا تھا کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان۔ کنری کی روٹری کلب کی طرح یہاں کی روٹری کلب کی میٹنگ بھی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی تھی اور اس میں بھی تلاوت کے بعد سب حاضرین نے کھڑے ہو کر                 قومی ترانہ گایا تھا۔ کھانا یہاں بھی مشترکہ میزوں پر رکھ کر کھلایا گیا تھا اور اس میں گوشت کی فراوانی تھی۔ میر پور کے روٹیرین ہم سے میٹنگ کی رجسٹریشن فیس لے سکتے تھے، لیکن انہوں نے بطور مروت چھوڑ دی۔ تھرپارکر اور میر پور خاص کا ایک فرق یہ نظر آیا کہ تھرپارکر میں لوگ ابھی باجرہ کاشت کر رہے تھے جبکہ میر پور خاص میں اس کی فصل کے ساتھ خوشے بھی لگ چکے تھے۔

روٹری کی اخوت

ہماری جتنے روٹیرین حضرات سے ملاقات ہوئی انہیں ہم نے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا، لیکن ایسے لگا کہ ان سے عمر بھر کی شناسائی ہے۔ یہ خیرسگالی، دوستی اور محبت روٹری کے ان مشترکہ مقاصد کی وجہ سے ہوئی کہ آپس میں میل جول بڑھا کر اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانیت کی خدمت کی جائے۔ نیز کوئی بھی بات سوچنے کہنے یا کرنے سے پہلے اسے ان معیاروں پر پرکھ لیا جائے۔

(1) کیا یہ سچ ہے؟

(2) کیا اس سے خیر سگالی اور دوستیاں پیدا ہوں گی؟

(3) کیا یہ سب متعلقین کے لئے فائدہ مند ہو گی؟

(4) کیا یہ سب متعلقین کے لئے فائدہ مند ہو گی؟

روٹری کو ہر سال کے لئے اپنے مرکز سے ایک نیا لائحہ عمل دیا جاتا ہے پچھلے سال کا سبق تھا ”محبت کے بیج بووو“ اور سال رواں کا سبق ہے ” ہاتھ میں ہاتھ دو“

بخیلی یا رزاقی

مَیں نے تھرپارکر میں بوئے گئے محبت کے بیجوں کا خیال کیا تو ان کی آبپاشی کے لئے میری آنکھوں میں سے دو دو آنسو ٹپک پڑے ایک ایک آنسو اس غم کا تھا کہ اگر700مزید ٹینک بھی بن گئے تو یہ اونٹ کے مُنہ میں زیرہ ڈالنے ہی کی بات ہو گی۔ باقی ایک ایک آنسو اس خوشی کا تھا کہ جتنے بھی ٹینک بن چکے ہیں اور بن رہے ہیں وہ بارش کے پہلے قطرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر مزید قطرے متواتر گرتے رہے تو تمام تھرپارکر کا جل تھا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ پھر مجھے ہاتھ میں ہاتھ دو والا سبق یاد آیا تو مَیں نے حسب توفیق دو سٹوریج ٹینک بنوانے کے لئے چھ ہزار روپے کا چیک کاٹ دیا اور اس طرح سو سال کے لئے پینے کے پانی کی دو سبیلیں لگوانے کا انتظام کر دیا اگر ان چار آنسوﺅں اور دو سبیلوں کے طفیل کوثر و تسنیم مل جائیں تو یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں۔ شاید اسی خیال سے روٹیرین شہزادہ کبیر احمد نے بھی روٹری کلب لاہور شرقی کی طرف سے ایک ٹینک بنوانے کا وعدہ کر دیا تھا۔

آخر میں صرف دو باتیں عرض کرنی ہیں۔ پہلی یہ کہ اگر اس شبنم افشانی کے بعد موسلادھار بارش ہو گئی تو فبہا ورنہ یہ کہنا پڑے گا کہ ع

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم

بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے

دوسری یہ کہ جس وادی پر خار میں کانٹوں کی سوکھی زبان بھی کسی آبلہ پا کے چھالوں سے پیاس بجھانے کے لئے بے قرار ہو اور گل بھی اگر ہو تو بے طروات ِ شبنم ہوں، وہاں شبنم افشانی بھی نعمت غیر مترقبہ ہے اور شدت سے درکار ہے۔ ع

ہائے کیا تشنگی کا موسم ہے

گل بھی بے طراوتِ شبنم

مزید : کالم