حضرت ابوبکر صدیقؓ کے خطوط کی اہمیت

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے خطوط کی اہمیت
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے خطوط کی اہمیت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مذکورہ بالا عنوان کے تحت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے خط کی وضاحت روزنامہ پاکستان لاہور مورخہ 3فروری 2014ءشائع ہو چکی ہے۔اب یہ بتانا ہے کہ آپؓ نے وہ کون سے اقدامات اٹھائے، جن کے ذریعے مرتدین و منکرین زکوٰة کا قلع قمع کیا گیا؟ بیعت عام کے بعد آپ نے حسب ذیل تقریر فرمائی:

”لوگو! مَیں تم پر حاکم بنایا گیا ہوں، حالانکہ مَیں تمہاری جماعت میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔اگر مَیں اچھا کام کروں تو میری اطاعت کرو اور اگر کجروی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دو۔سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔تمہارا ضعیف فرد بھی میرے نزدیک قوی ہے۔یہاں تک کہ مَیں دوسروں سے اس کا حق اس کو نہ دلا دوں اور تمہارا قوی شخص بھی میرے نزدیک ضعیف ہے۔یہاں تک کہ مَیں اس سے دوسروں کا حق نہ حاصل کر لوں۔یاد رکھو، جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیتی ہے۔خدا اس کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے اور جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے، خدا اس کو عام مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے، اگر مَیں خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو، اور اگر اس کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں“۔

قبائل میں شورش و انقلاب کا آغاز: حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کا آغاز بڑی مشکلات اور بڑے اہم حوادث کے ساتھ ہوا، لیکن آپ نے اپنے تدبر، عاقبت اندیشی اور مذہبی بصیرت سے ان سب پر قابو حاصل کرلیا۔سب سے اہم انقلاب عرب کا ارتداد تھا۔بہت سے قبائل نے آنحضرت کی زندگی میں اسلام تو قبول کرلیا تھا، لیکن ان کے دلوں میں وہ راسخ نہ ہوا تھا۔اس لئے آپ کی وفات کے بعد وہ مرتد ہوگئے۔دوسری جانب متعدد جھوٹے مدعیانِ نبوت اُٹھ کھڑے ہوئے۔بعض قبائل نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا۔غرض حضرت ابوبکرؓ کے مسندِ خلافت پر قدم رکھتے ہی ہر طرف انقلاب کے آثار نمودار ہو گئے۔ان مشکلات کے ساتھ ساتھ موتہ کی مہم علیحدہ درپیش تھی، جس کو آنحضرت نے اپنے مرض الموت میں رومیوں سے حضرت زید بن حارثہؓ کے خون کا انتقام لینے کے لئے ان کے فرزند اسامہ بن زیدؓ کی ماتحتی میں شام بھیجنے کے لئے حکم دیا تھا، ابھی یہ مہم روانہ نہیں ہوئی تھی کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔اس حادثہ کے بعد جب عرب میں انقلاب کے آثار نمایاں ہوئے تو صحابہؓ نے مخالفت کی کہ ایسی حالت میں فوج کو مرکزِ خلافت سے دور بھیجنا مناسب نہیں ہے۔اس مہم سے پہلے ان انقلابات کا تدارک ضروری ہے، مگر حضرت ابوبکرؓ نے نہایت سختی کے ساتھ انکار کیا اور فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مدینہ میں اتنا سناٹا ہو جائے کہ درندے آکر میری ٹانگیں نوچیں، تب بھی مَیں اس مہم کو جس کی روانگی کا رسولﷺ نے حکم دیا، نہیں روک سکتا“۔

اسامہ بن زیدؓ کی مہم: انہی انقلاب انگیز حالات میں فوج روانہ کی اور خود پیادہ مدینہ کے باہر تک اسے رخصت کرنے کے لئے نکلے۔رخصت کرتے وقت ہدایت کی کہ خیانت نہ کرنا، مال غنیمت نہ چھپانا، بے وفائی سے بچنا، مثلہ نہ کرنا، بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا، ہرے بھرے اور پھلدار درختوں کو نہ کاٹنا، کھانے کے علاوہ جانوروں کو بے کار ذبح نہ کرنا“۔

چالیس دن کے بعد یہ مہم اپنا کام پورا کرکے فاتحانہ مدینہ واپس آئی۔حضرت ابوبکرؓ نے شہر سے نکل کر اس کا استقبال کیا۔

بظاہر ایسے نازک وقت میں حضرت ابوبکرؓ کا فوج روانہ کرنا مصلحت اور تدبر کے خلاف معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کا اثر نہایت اچھا پڑا۔اس سے ایک طرف بیرونی طاقتوں کے دلوں پر خوف بیٹھ گیا۔دوسری طرف انقلاب برپا کرنے والوں کو اس کا یقین ہوگیا کہ مسلمانوں کی قوت کافی ہے، ورنہ ایسے حالات میں جبکہ اندرونی قبائل میں بغاوت بپا ہے، وہ بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں اتنی بڑی فوج نہیں بھیج سکتے تھے۔

مدعیانِ نبوت کا استیصال: آنحضرت کی زندگی ہی میں بعض مدعیان نبوت پیدا ہو گئے تھے۔مسلیمہ کذاب نے اسی زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا ،لیکن آپ کی زندگی میں یہ جھوٹی آواز صورِ صداقت کے سامنے نہ اُ بھرسکی۔ آپ کی وفات کے بعد اور بہت سے دماغوں میں یہ سودا سما گیا، چنانچہ اسود عنسی، طلیحہ بن خویلد کئی مدعیانِ نبوت پیدا ہو گئے۔مرد تو مرد عورتیں تک اس خبط میں مبتلا ہو گئی تھیں، چنانچہ قبیلہ ءتمیم کی ایک عورت سجاح بنت خویلد بھی نبوت کی دعویدار بن گئی تھی اور مسیلمہ کذاب سے شادی کرلی تھی۔

موتہ کی مہم کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے ان جھوٹے نبیوں کے استیصال کی طرف توجہ فرمائی۔مسیلمہ کی مہم حضرت شرجیل بن حسنہؓ کے سپرد ہوئی۔عکرمہؓ ان کی مدد پر مامور ہوئے۔خالد بن ولیدؓ طلیحہ بن خویلد کی طرف بڑھے اور طلیحہ اور اس کے متبعین کو قتل و گرفتار کرکے تیس قیدیوں کو مدینہ روانہ کیا۔طلیحہ بچ کر شام بھاگ گیا، پھر تجدیدِ اسلام کرکے مسلمان ہوگیا۔دوسری روایت یہ ہے کہ جنگ کی نوبت نہیں آئی۔ طلیحہ کے پیرووں میں زیادہ تر قبیلہ ءطے تھا۔اس کے سردار حضرت عدی بن حاتمؓ نے اسے دوبارہ مسلمان بنا لیا۔باقی دوسرے اتباع کو خالد بن ولیدؓ نے شکست دے کر قتل و گرفتار کیا۔ طلیحہ شام بھاگ گیا اور وہاں جا کر مسلمان ہوگیا۔حضرت شرجیل بن حسنہؓ اور عکرمہؓ مسیلمہ ءکذاب کے مقابلہ میں تھے۔عکرمہؓ نے شرجیلؓ سے پہلے پہنچ کرمسیلمہ کے پیرو بنی حنیفہ پر حملہ کردیا، لیکن انہیں شکست ہوئی۔ان کی شکست کی خبر سن کر حضرت ابوبکرؓ نے خالد بن ولیدؓ کو جو طلیحہ کی مہم سے فارغ ہو چکے تھے، شرجیلؓ کی مدد کے لئے بھیجا۔مسیلمہ کے اتباع چالیس ہزار کی تعداد میں جمع تھے۔حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایک خونریز جنگ کے بعد بنی حنیفہ کو نہایت فاش شکست دی۔مسیلمہ وحشی بن حربؓ کے ہاتھوں مقتول ہوا۔اس کی بیوی سجاح جو خود مدعیہءنبوت تھی، شوہر کے قتل ہونے کے بعد بھاگ گئی۔اس جنگ میں بہت سے حفاظِ قرآن صحابہ شہید ہوئے۔تیسرے مدعی نبوت اسود عنسی کی جماعت میں خود اختلاف پیدا ہوگیا اور وہ اپنے ایک ساتھی قیس ابن مکشوح کے ہاتھوں نشہ کی حالت میں مارا گیا۔غرض چند دنوں کے اندر تمام مدعیانِ نبوت کا قلع قمع ہوگیا۔

خودسرمرتدامراءکا استیصال: مدعیانِ نبوت کے بعد ان مرتدسرداروں کی طرف توجہ کی جو رسول اللہﷺ کی زندگی میں مسلمان ہو چکے تھے، لیکن آپ کے بعد پھر مرتد ہو گئے اور اپنی اپنی جگہ آزاد حکمران بن بیٹھے، چنانچہ نعمان بن منذر نے بحرین میں، لقیط بن مالک نے عمان میں اور متعدد سردارانِ قبائل نے کندہ کے علاقہ میں مرتد ہو کر خود سری کا اعلان کردیا۔حضرت ابوبکرؓ نے علاءبن حضرمیؓ، حذیفہ بن محصنؓ اور زیاد بن لبیدؓ نے لقیط کو قتل کیا اور زیادؓ نے فرمانروایان کندہ کو زیر کرکے دوبارہ اسلام پر قائم کیا۔

منکرینِ زکوٰة کی تادیب: ان سب سے زیادہ اہم اور نازک معاملہ ان منکرینِ زکوٰة کا تھا جو اسلام پر قائم رہتے ہوئے صرف زکوٰة کے منکر تھے۔ اس لئے ان پر تلوار اٹھانے کے بارے میں بعض کبار صحابہ تک نے اختلاف کیا اور کہا کہ ”جو لوگ توحید و رسالت کا اقرار کرتے ہیں اور صرف زکوٰة دینے کے منکر ہیں، ان پر کس طرح تلوار اٹھائی جا سکتی ہے؟ اس موقع پر بھی حضرت ابوبکرؓ نے اپنی دینی بصیرت اور عرفانِ شریعت سے فرمایا: ”خدا کی قسم جو شخص رسول اللہﷺ کی زندگی میں بکری کا ایک بچہ زکوٰة میں دیتا تھا، اگر وہ اس کے دینے سے انکار کرے گا تو مَیں اس کے مقابلہ میں جہاد کروں گا“۔ آپ کے اصرار پر حضرت عمرؓ کو بھی آپ کی اصابتِ رائے کا اعتراف کرنا پڑا کہ اگر آج انہیں زکوٰة نہ دینے پر چھوڑ دیا جائے گا تو کل صوم و صلوٰة کے منکر ہو جائیں گے اور اسلام ایک تماشا بن کر رہ جائے گا۔غرض حضرت ابوبکرؓ نے نہایت مستعدی کے ساتھ تمام منکرینِ زکوٰة قبائل کے مقابلہ میں فوجیں بھیجیں۔آپ کو اس معاملہ میں اتنا غلو تھا کہ بنی عبس اور بنی ذبیان کے مقابلہ میں خود گئے اور انہیں زیر کیا۔آپ کی اس مستعدی اور استقامت سے چند دنوں میں تمام منکرین زکوٰة نے زکوٰة ادا کر دی۔ بعضوں نے خود مدینہ حاضرہو کر بیت المال میں داخل کی۔اس طرح صدیق اکبرؓ کی مذہبی بصیرت، اصابتِ رائے اور استقلال و استقامت سے وہ تمام فتنے جو رسول اللہﷺ کے بعد دفعتاً بپا ہوگئے تھے ، دب گئے اور اسلام نے گویا دوبارہ زندگی پائی۔

مزید : کالم