”آبادی اور ماحول“: ایک انمول کتاب

”آبادی اور ماحول“: ایک انمول کتاب
”آبادی اور ماحول“: ایک انمول کتاب

  

کسی بھی ملک میں ،وہ ترقی یافتہ ہو ، ترقی پذیر یا پسماندہ، ترقی و تعمیر اور فلاح و بہبود کا کوئی منصوبہ اس وقت تک نہ سوچا جا سکتا ہے اور نہ اُس کے خدوخال واضح کیے جاسکتے ہیں جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ ُاس ملک کی آبادی کتنی ہے ؟ آبادی کی جنس ، عمر، تعلیم اور روزگارکے اعتبار سے تقسیم کیا ہے ؟ آبادی کی شرح افزائش کیا ہے؟اور اس کی علاقائی تقسیم کیا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ غرض آبادی کے بارے میں ہر پہلو اور ہر اعتبار سے مکمل معلومات کے دستیاب ہوئے بغیر شہریوں کی تعلیم ، تربیت ، صحت، روزگار ، ماحول ، معاش و معاشرت کی اصلاح و ترقی اور فلاح وبہبود کا کوئی قابل عمل اور نتیجہ خیز منصوبہ نہیں بنایا جاسکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کا ہر ملک آبادی کے جامع اعداد و شمار مرتب کرنے کے لئے وقفے وقفے سے مردم شماری کرواتا رہتا ہے ، جس ملک کے یہ اعدادوشمار جتنے زیادہ جامع اور مصدقہ ہوں گے، اس کی منصوبہ بندی ، اس پر عمل درآمد اوراُس کے نتائج اُسی قدر بہتر اور حوصلہ افزا ہوں گے۔ آبادی کے ان تمام پہلوﺅں اور اُن کی اہمیت و افادیت پر محیط ایک انمول کتاب "آبادی اور ماحول "کے عنوان سے طبع ہو کر حال ہی میں مارکیٹ میں آئی ہے ۔اس کتاب کے مصنف و مو¿لف پروفیسر نصیر اے چوہدری ہیں جو پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ایک سوشل سائنٹسٹ ہیں ۔ اس کتاب کو ان کے اپنے ادارے پاکستان فیملی ویلفیئر کونسل، 54۔ مین روڈ، سمن آباد، لاہور، نے شائع کیا ہے ۔ سات سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب کیا ہے، معلومات کا ایک سمندر ہے ۔ دنیا اور پاکستان کی آبادی کے بارے میں کون سی ایسی بات ہے جو آپ معلوم کرنا چاہیں اور آپ کو وہ اس کتاب میں نہ ملے ۔ یقین نہیں آتا کہ ایک ہی کتاب میں کسی ایک موضوع پر اس قدر زیادہ، اس قدر ہمہ پہلو ،اس قدر مصدقہ اور اس قدر پُر مغز معلومات ایک ساتھ مہیاکی جاسکتی ہیں اور یہ کہ ایک فرد واحد اتنا بڑا کام ، اتنی خوبصورتی ، اتنی عرق ریزی اور اس قدر خوبصورت پیرائے میں تن تنہا بھی سر انجام دے سکتا ہے !

پروفیسر نصیر اے چوہدری اس کتاب کی تصنیف سے قبل بھی حکومت پاکستان، اقوام متحدہ کے آبادی کے فنڈ(UNFPA)، عالمی ادارہ صحت(WHO) یونیسف(UNICEF)اور کئی دیگر عالمی اداروں کے تعاون و اشتراک سے آبادی، ماحول ، صحت اور تعلیم کے موضوع پر درجنوں مقالے اور کتابچے تحریر کرچکے ہیں ،اور مختلف ملکی اور بین الملکی اداروں کے ساتھ کام کر تے ہوئے ملک کی بے شمار کچی آبادیوں میں درجنوں "زچہ بچہ اور غذائیت "کے مراکز قائم کرچکے ہیں۔ آج کل وہ ان اداروں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور کے وزیٹنگ پروفیسر بھی ہیں ۔

اس کتاب میں مصنف چھ سے سات ہزار سال قبل مسیح سے عہد بہ عہد انسانی آبادی کی تعداد، شرح افزائش ، مختلف خطوں میں تقسیم اور اس کے دیگر پہلوﺅں اور مسائل پر گفتگو کرتے ہیں ۔ ہزاروں سال قبل کی مصر ، مشرق وسطی ، سندھ اور چین کی تہذیبوں اور ان کی آبادیوں ،اور آبادی سے متعلقہ پہلوﺅں پر روشنی ڈالتے ہیں ۔پھر صدی بہ صدی چلتے ہوئے زمانہ حاضر تک پہنچتے ہیں اور دنیا کے ایک ایک خطے اور ایک ایک ملک ، یہاں تک کہ بڑے بڑے شہروں کی آبادیوں کاتفصیلی تجزیہ کرتے ہیں ۔ بیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے اس موضوع کا کوئی پہلواور کوئی گوشہ اُن سے چھپا نہیں رہ جا تا۔ پاکستان کے تو ایک ایک شہر اور ایک ایک قصبے کی آبادی کی اس قدر تفصیلات بیان کرتے ہیں کہ آدمی اتنی معلومات سامنے پاکر گُنگ ہو جاتا ہے ۔اور معلومات بھی مصدقہ ۔ شروع دن سے لے کر آج تک کی عالمی آبادی کی تفصیلات اور اُس پر نقد وجرح کے بعد ،کتاب کا اگلا اوربڑاحصہ پاکستان میں آبادی کے تاریخی جائزہ ، پاکستان میں آبادی بڑھنے کی وجوہات، بڑھتی ہوئی آبادی کے اثرات ، بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل، آبادی اور ماحولیاتی مسائل، آبادی اور حقوق نسواں ، پاکستان کا پروگرام آبادی، پاکستان کی پاپولیشن پالیسی، آبادی پر کنٹرول کے طریقے ، خاندانی منصوبہ بندی اور سفارشات کے تحت الگ الگ ابواب پرمشتمل ہے۔ یوں یہ کتاب آبادی اور اس سے متعلقہ مباحث کا ایک جامع انسائیکلو پیڈیا بن گئی ہے۔ اس کتاب میں آبادی کے بارے میں مختلف النوع معلومات کی اس قدر فراوانی ہے کہ قاری اسے پڑھتے ہوئے یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا دنیا بھر کے تمام قدیم و جدید انسان رنگ رنگ کا لباس پہنے ،طرح طرح کی زبانیں بولتے ،اپنے اپنے ماحول اور کلچر میں اپنے اپنے انداز میں اس کے سامنے موجود اور چل پھر رہے ہیں اور وہ ان میں سے ہر ایک کواُن کے آباﺅ اجداد سمیت ذاتی طورپر جانتا اور پہچانتا ہے۔

بے شک کتاب "آبادی اورماحول" اپنے موضوع پر بےش بہا معلومات کا خزانہ اور ایک نادر دستاویز ہے ۔ راقم الحروف سمجھتا ہے کہ اس کتا ب کو ملک کے ہرسرکاری و غیر سرکاری سکول، کالج، یونیورسٹی اور خصوصاً فنی تعلیم کے اداروں کی لائبریریوں میں موجود ہونا چاہئے کہ کسی بھی طالب علم یامحقق کو بنی نوع انسان پر کسی بھی موضوع پر کچھ لکھتے وقت اس کی ضرورت پیش آ سکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے ہر ادارے میں اس کتاب کا ہونا بے حد ضروری ہے ۔ حکومت کا کوئی ادارہ اس کتاب میں دی گئی معلومات کے بغیر انسانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق کوئی جامع پالیسی یا مفید منصوبہ نہیں بنا سکتا ۔میں سمجھتا ہوں کہ پروفیسر نصیر اے چوہدری نے یہ کتاب لکھ کر اس موضوع پر ،اور اس موضوع سے دلچسپی اور ضرورت رکھنے والوں پر بڑا احسان کیا ہے۔

مزید : کالم