سعودی عرب کی امداد کے بارے میں بے جا اعتراضات

سعودی عرب کی امداد کے بارے میں بے جا اعتراضات

خارجہ امور پر وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر تحفے میں دیئے گئے ہیں۔یہ امداد غیر مشروط ہے، بدلے میں کچھ نہیں دے رہے، ہمیں سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن رکھنا ہوگا، ملک کی خارجہ پالیسی میں بھی تبدیلی نہیں آئی، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو بریفنگ دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا شام کی لڑائی میں ملوث ہوں گے نہ اسلحہ دیں گے، سعودی عرب میں غیر قانونی مقیم پاکستانیوں کو لانے کے لئے 3438 ایمرجنسی پاسپورٹ جاری کر دیئے ہیں۔

جب سے پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ (پی ڈی ایف) میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم جمع ہوئی ہے یہ بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے پہلے تو اس بات پر اظہار حیرت کیا جا رہا تھا کہ اتنی بڑی رقم کس ملک نے دے دی۔ پھر جب پتہ چلا کہ یہ دریا دلی سعودی عرب نے دکھائی ہے تو پھر یہ سوال اٹھائے جانے لگے کہ سعودی عرب نے آخر کس مقصد کے لئے اتنی بڑی رقم دیدی، قائدِ حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہہ دیا کہ حکومتیں امداد دیتی ہیں یا قرض، تحفہ کوئی نہیں دیتا، کچھ اور لوگوں کی جبینیں بھی اس بات پر شکن آلود ہو گئیں کہ اس رقم کی نوعیت کیا ہے، یہ امداد ہے یا قرض جب حکومتی حلقوں کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ ”تحفہ“ ہے تو پھر کہا گیا تحفے تو سالگرہوں پر ملتے ہیں ملکوں کو تو کوئی اتنا بڑا تحفہ نہیں دیتا، بہت ہوا تو کسی نے اونٹ گھوڑے دے دیئے۔پھر یہ بھی کہا گیا کہ تحفہ دیا ہے تو بدلے میں بھی کچھ طلب کیا ہوگا،اب جناب سرتاج عزیز نے سینٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی میں بتا دیا ہے کہ یہ سعودی امداد غیر مشروط ہے نہ سعودی عرب نے اس کے بدلے میں کچھ مانگا ہے اور نہ پاکستان کچھ دینے جا رہا ہے۔ شام میں فوج بھیجی جا رہی ہے اور نہ ہتھیار۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ برادر ملک سعودی عرب مشکل کی گھڑی میں پاکستان کے کام آیا ہو۔ ماضی میں ایسے بہت سے مواقع آئے جب سعودی حکمرانوں نے دل کھول کر پاکستان کی امداد کی، ایٹمی دھماکے کے بعد جب ملک کو مغربی ممالک کی پابندیوں اور دھمکیوں کا سامنا تھازرِ مبادلہ کے ذخائر بہت تھوڑے رہ گئے تھے، سعودی عرب نے اس وقت بھی پاکستان کو بڑی مقدار میں تیل مہیا کیا تھا ظاہر ہے یہ بھی غیر ملکی زرمبادلہ کا ہی متبادل ہے پاکستان کو اگر ان دنوں اتنا تیل درآمد کرنے کے لئے زر مبادلہ خرچ کرنا پڑتا تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس پر کتنی رقم خرچ ہوتی یہ تیل مفت تھا، رعایتی قیمت پر تھا یا اُدھار دیا گیا تھا جو بھی شکل تھی، ان مشکل دنوں میں پاکستان کے لئے بہت کام آیا، اس کے بعد بھی سعودی عرب وقتاً فوقتاً پاکستان کی کُھلے دل سے امداد کرتا رہا ہے، یہ امداد ہم قبول کرتے اور استعمال کرتے رہے لیکن اب کی بار یار لوگوں نے اس امداد یا تحفے کے بارے میں بال کی کھال اُتارنا شروع کر رکھی ہے، پاکستان کو ترقیاتی امداد کی ضرورت ہے (اور ہمارے جیسے ملکوں کو ہمیشہ رہتی ہے) زرمبادلہ کے ذخائر خاصے دباﺅ میں رہے، اب اس رقم کے آنے سے یہ دباﺅ کم ہوا تو روپے نے سکھ کا سانس لیا اور کچھ استحکام کی جانب مائل ہوا، آج کی ایک خبر یہ بھی ہے کہ یہ نوے روپے پر بھی آ سکتا تھا لیکن اس صورت میں برآمد کنندگان کو اپنی برآمدی مصنوعات کے ڈالر کم ملتے اس لئے انہوں نے بھی کردار ادا کیا اور روپیہ اٹھانوے پر رک گیا، بہر حال اس بحث میں پڑے بغیر کہ ڈالر اور نیچے آ سکتا تھایا نہیں یہ سوال برادران وطن سے کیا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کے معاملے میں اب کی بار ان کا رویہ پیڑ گننے والا کیوں ہے؟ ماضی میں تو اس طرح کی ”شجر شماری“ ہم نے کبھی نہیں کی، سعودی عرب نے جب بھی تھوڑی یا بہت امداد جس شکل میں بھی دی ہم نے قبول کر لی، اور چوم چاٹ کر رکھ لی، اب کی بار ایسی کیا مجبوری تھی کہ اس معاملے میں ہمارا رویہ ماضی سے قطعی مختلف رہااور بنی اسرائیل کی طرح حیل وحجت شروع کردی؟

اس امداد کا ایک پہلو اور بھی توجہ طلب ہے سعودی عرب نے امداد کی پیشکش خود کی، یا پاکستان کی حکومت نے اپنی مشکلات بیان کر کے تعاون طلب کیا دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ظاہر ہے کوئی ملک خواہ کتنا بھی قریبی ہو، رقم ہاتھ میں لے کر اچھالتا تو نہیں پھرتا اور نہ یہ نعرہ لگاتا پھرتا ہے، ”امداد لے لو، تحفہ لے لو“ اس سلسلے میں کچھ باریکیاں اور کچھ نزاکتیں ہوتی ہیں، جن حضرات کو یہ امداد پسند نہیں وہ اِدھر اُدھر کی ہانکنے کی بجائے سیدھے سبھاﺅ اپنی حکومت سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کرتے کہ ہمیں یہ امداد قبول نہیں، لیکن ہمارا رویہ تو یہ ہے کہ امداد لینا بھی چاہتے ہیں اور نازو نخروں کا اظہار بھی کر رہے ہیں، امریکہ کے ساتھ بھی بسا اوقات ہمارا ایسا ہی رویہ ہوتا ہے امداد مانگتے بھی ہیں لیتے بھی ہیں، یا عامیانہ الفاظ میں کھاتے بھی ہیں اور گھورتے بھی ہیں، حالانکہ دوست ملکوں یا باالفاظِ دیگر امداد دینے والے ملکوں کے ساتھ ہمارا رویہ با وقار ہونا چاہئے، غیرت مندی بہت اچھی بات ہے اور اس کا اعلیٰ ترین اظہار وہ ہے کہ آپ کہیں سے بھی کسی بھی قسم کی امداد سرے سے قبول نہ کریں،گردن اٹھا کر چلیں اور اپنے وسائل پر زندہ رہنا سیکھیں،چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلائیں، اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوں اور اپنے وسائل کو اتناترقی یافتہ بنا لیں کہ امداد دینے والے ملکوں میں شمار ہونا شروع ہو جائیں جب تک ایسا نہیں ہوتا ہمیں قوموں کی برادری میں باوقار انداز کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے کسی ملک کی امداد پر اس طرح کی انگلیاں نہیں اٹھانی چاہئیں کہ لینے والا تو لینے والا دینے والا بھی شرمندگی محسوس کرے۔

آج کے دورمیں امیر اور غریب قومیں شانہ بشانہ چلتی ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے دولت مند اقوام خوش ہو کر ترقی پذیر اقوام کی مدد کرتی ہیں دوسری جنگِ عظیم کے بعد تباہ شدہ جرمنی اور جاپان امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کی امداد کے ساتھ ہی کم سے کم وقت میں دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو گئے، اِن دونوں ملکوں نے جو جنگ میں شکست کھا نے کے بعد بدحال ہوگئے تھے عالمی امداد خوش دلی سے قبول کی اور اب یہ وقت ہے کہ دونوں ملکوں کا شمار دوبارہ امداد دینے والے ملکوں میں ہونے لگا ہے اور وہ عالمی برادری کے ضمن میں اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے پوری کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی ایک مختلف قسم کی جنگ سے متاثر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے ہماری معیشت کو 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے جانی نقصان کا بھی کوئی متبادل نہیں، اِن حالات میں اگر ہماری زخم زخم معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے کوئی دوست ملک کسی بھی شکل میں ہماری امداد کے لئے آتا ہے تو ہمیں اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے، اس طرح کی عالمی امداد ہمیں دوسرے ممالک سے بھی ملے تو ہم بہت جلد اپنی معیشت کو از سر نو اپنے پاﺅں پر کھڑا کر کے عالمی امداد اور قرضوں سے بے نیاز ہو سکتے ہیں، پاکستان پر عالمی قرضوں کا بھی بوجھ ہے اس صورتِ حال سے نکلنے کے لئے ہمیں دوستوں کی امداد خوش دلی سے قبول کرنی چاہئے۔

مزید : اداریہ