بلوچستان بحران، گہرا ہوگیا؟

بلوچستان بحران، گہرا ہوگیا؟

بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے صوبائی کابینہ کا اجلاس ملتوی کردیا، کیونکہ کابینہ میں شامل مسلم لیگ(ن) اور مسلم لیگ(ق) سے تعلق رکھنے والے وزراءنے اس اجلاس کا بائیکاٹ کردیا تھا۔یوں بلوچستان کے حکمران اتحاد میں اختلافات پھر سے کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر اور وزیرسردار ثناءاللہ زہری کے مطابق تو ڈاکٹر عبدالمالک کو ایوان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں ہے اور وہ جب چاہیں عدم اعتماد کے ذریعے ان کو ہٹا سکتے ہیں لیکن اپنے قائد وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی ہدایت کی روشنی میں ایسا نہیں کریں گے، تاہم ان کے تحفظات دور کرنا ہوں گے۔

یہ درست ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک کو ایوان میں اکثریت حاصل نہیں تھی اور میاں محمد نوازشریف نے مفاہمت کی سیاست کے تحت بلوچستان کے مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا اور اپنا وزن ڈاکٹر عبدالمالک کے پلڑے میں ڈالا اور وہ وزیراعلیٰ ہو گئے۔ابتداءہی میں بعض امور پر اختلاف سامنے آ گیا تھا اور وزارتوں کی تقسیم بھی وزیراعظم کی مداخلت پر ہوئی، لیکن یہ دیرپا ثابت نہ ہوئی۔مسلم لیگ(ن) والے اختیارات کی بات کرتے رہتے تھے۔اب بات آگے بڑھ گئی ہے۔جہاں تک ڈاکٹر عبدالمالک کی کارکردگی کا تعلق ہے تو وہ اگر شاندار نہیں تو بُری بھی نہیں رہی، ان کی ذات کے حوالے سے ابھی تک کوئی سکینڈل بھی سامنے نہیں آیا ان دنوں وہ ناراض بلوچوں سے رابطوں میں مصروف تھے کہ یہ بحران پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بحران سیاسی نہیں، ذاتی نوعیت کا ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک سردار نہیں ہیں، ان کا تعلق قوم پرست نظریئے سے ہے جبکہ دوسری طرف سردار حضرات ہیں جو ان کو مشکل ہی سے برداشت کررہے تھے، اب کھل کر مخالفت شروع کردی ہے، بلوچستان حساس صوبہ ہے۔اس لئے وہاں ہونے والی تبدیلیاں مجموعی طور پر ملک پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔اس لئے وزیراعظم کو فوری طور پر اس طرف توجہ مبذول کرنا چاہیے اور اس بحران کو حل کرکے کوئی پائیدار نظام وضع کردینا چاہیے کہ بلوچستان پر بہت کچھ منحصر ہے۔

جہاں تک بلوچستان کے صوبے کا تعلق ہے تو یہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔بدقسمتی سے وہاں سرداری نظام کی وجہ سے ان وسائل سے مکمل طور پر استفادہ نہیں ہو پا رہا، ورنہ ریکوڈک اور سیندک دو ایسے منصوبے ہیں کہ پوری طرح کانکنی شروع ہو جائے تو نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی قسمت بدل سکتی ہے۔حتیٰ کہ بین الاقوامی قرضے بھی ادا کئے جا سکتے ہیں کہ یہ خالص تانبے اور سونے کی کانیں ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں مکمل امن اور دوستانہ ،برادرانہ فضا ہو، تاکہ قدرتی وسائل ملک و قوم کی بہتری کے لئے استعمال ہو سکیں۔

مزید : اداریہ