ایک لاکھ سے زائد کسان 31 مارچ سے واہگہ بارڈر پردھرنا دیں گے

ایک لاکھ سے زائد کسان 31 مارچ سے واہگہ بارڈر پردھرنا دیں گے

اسلام آ باد(آن لائن)حکومت کی جانب سے بھارت کو بلا امتیاز مارکیٹ تک رسائی (این ڈی ایم اے)کے منصوبے کے خلاف پاکستان بھر سے ایک لاکھ سے زائد کسان 31 مارچ سے واہگہ بارڈر پر غیر معینہ مدت کیلئے دھرنا دیں گے۔اس بات کا اعلان پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے گزشتہ روزمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے روزانہ کسانوں، چھوٹے کاروباری اداروں اور مختلف ایسوسی ایشنوں کی طرف سے کالز آرہی ہیں اور وہ 31 مارچ کو واہگہ پر دھرنے میں شامل ہوکر کسانوںکی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دھرنے کا آغاز 31 مارچ کو ہوگا جو اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک حکومت بھارت کو این ڈی ایم اے کا درجہ دینے کے فیصلے کی واپسی کا اعلان نہیں کرتی۔خالد محمود نے تمام محب وطن شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسانوں کے اس دھرنے میں شامل ہوں کیونکہ این ڈی ایم اے کے تحت بھارت کو تجارت کی پیش کش سے پاکستان کی زراعت ختم ہوجائے گی۔ بھارت ہمارا دشمن ہے جو پہلے ہی پاکستان کے پانی پر قابض ہے اور اب وہ زراعت پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

 پاکستان کے کسان اس تجارت کو کبھی منظور نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اقتصادی سروے 2010-11 کے مطابق پانی کی قلت کے باعث چاول کی فی ایکٹر پیداوار 2,387 کلوگرام فی ایکٹر سے کم ہوکر 2,039 کلوگرام فی ہیکٹر ہوگئی ہے۔اسی طرح گنے کی بوائی کا رقبہ پانی کی عدم دستیابی سے 1,029,000 ایکٹر سے کم ہوکر 943,000 ایکٹر رہ گیا ہے۔اسی طرح گندم کی فصل بھی کمی کا شکار تھی جبکہ ایک اندازے کے مطابق اگر یہ صورت حال جاری رہی تو پاکستان کو 2025 میں قحط جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کو بھی بھارت کی طرح امپورٹ ٹیرف کا اطلاق کرنا چاہیے۔ امریکا جیسے ملک میں بھی ایگری کلچر کی امپورٹ کیلیے فری ٹریڈ پالیسی نہیں بنائی گئی۔فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان(ایف اے پی) کے صدر اور شریک چیئرپرسن، ایگری کلچر ٹاسک فورس، پی آئی جے بی ایف، طارق بچہ نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک خط وفاقی وزیر تجارت کو بھی بھیجا گیا تھا جس میں زرعی شعبے کی طرف توجہ دلائی گئی تھی جو ملک میں سب سے زیادہ روزگار مہیا کرتاہے اور واضح کیا گیا تھا کہ زرعی شعبہ بھارت کو این ڈی ایم اے ایم ایف این کا درجہ دینے کا ا±س وقت تک مخالف ہے جب تک بھارتی سبسڈی کے خلاف ہماری زراعت کے تحفظ کی تیاری مکمل نہیں کرلی جاتی اور پاکستانی اشیا کی بھارتی مارکیٹوں تک رسائی کو یقینی نہیں بنالیا جاتا تاکہ پاکستان کو بھی تجارت میں یکساں مواقع مل سکیں جیسا کہ 29 فروری 2012 کو کیبنٹ کے فیصلے کی شرائط میں کہا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کم از کم سپورٹ پرائس2012-13 کے جائزے سے یہ عیاں ہے کہ بھارت پاکستان کے مقابلے میں اپنے کسانوں کو زیادہ سپورٹ پرائس دیتا ہے۔ اسی طرح معیشت میں زراعت کے کردار کے موازنے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اس تجارت میں سراسر نقصان کس ملک کا ہوگا۔ انہوں نے کہاحکومت کی جانب سے واہگہ بارڈر کھولنے میں بلاوجہ کی جلد بازی، 137 سے زائد اشیا کی تجارت کی اجازت اور ہر قسم کے ٹیرف اور نان ٹیرف میں کمی سے ہم تجارتی بات چیت میں اپنا مقام کھورہے ہیں۔

مزید : کامرس