آل کراچی تاجر اتحاد کا جرائم کی بڑھتی وارداتوں پر اظہار تشویش

آل کراچی تاجر اتحاد کا جرائم کی بڑھتی وارداتوں پر اظہار تشویش

کراچی(اکنامک رپورٹر) آل کراچی تاجر اتحاد کی لاءاینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین احمد شمسی نے شہر کے بعض تجارتی علاقوں میں جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر بھر میں مجرم مچھر مکھیوں کی طرح پھیل گئے ہیں، بھتہ خوری اور اغواءبرائے تاوان کے مجرموں نے مارکیٹوں میں اپنے ایجنٹ پھیلادیئے ہیں، تاجر کے مکمل کوائف حاصل کرنے کے بعد اسے اغواءیا بھتہ کیلئے رابطہ کیا جاتا ہے، تاجر دکان، دفتر، فیکٹری اور راستے سے اغواءہورہے ہیں، تاجروں کا شارٹ ٹرم اغواءاور بھتہ پرچی کا سلسلہ معمول بن گیا ہے،صرف ایک ماہ میں 300سے زائد تاجروں کو اغواءکرکے 5ہزار سے 20لاکھ روپے تک تاوان وصول کیا گیا، بیشتر تاجروں کی رہائی تاوان کی ادائیگی کے بعد دو سے تین گھنٹوں میں عمل میں آئی، انھوں نے کہا کہ تاجروں کو بھتے کیلئے دھمکی آمیز فون کالز اور گولی پرچی کا سلسلہ بھی تیز تر ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں تاجروں سے ایک ماہ کے دوران تین کروڑ روپے سے زائد بھتہ وصول کیا گیا، آج اپنے دفتر میں متاثرہ مارکیٹوں کے تاجروں کے مختلف وفود سے ملاقات کے بعد احمد شمسی نے پریس و میڈیا کو جاری کیئے گئے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ جرائم پیشہ عناصر نے مارکیٹوں کے علاوہ تاجروں سے ان کے گھروں پر بھی رابطے کرنا شروع کردیئے ہیں اور بھتے کی عدمِ ادائیگی کی صورتمیں اہلِ خانہ کو بدترین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جس سے تاجروں میں سخت بدحواسی اور خوف و ہراس پایا جاتا ہے، اکثر تاجر اپنا گھر بار چھوڑنے اور نقلِ مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں، جرائم سے متاثرہ مارکیٹوں میں سناّٹے طاری اور تاجر وحشت زدہ ہوگئے ہیں۔

، ملاقات میں تاجر نمائیندگان انصار بیگ قادری، شاکر فینسی، شیخ محمد عالم، جاوید ملک، سمیع اللہ خان، یوسف پٹنی، عبدالغنی اخوند،عرفان للہ ، عمران پاروانی، دلشاد بخاری،محمد عارف، شمیم احمد، زاہد پپرانی، زاہد ملک اور بدر اقبال نے احمد شمسی کو بتایا کہ میرا پیر کی درگاہ، موسیٰ لین اور اسکے اطراف قبرستان کا علاقہ مجرموں کی آماجگاہ بن گیا ہے، بھتہ، اغواءبرائے تاوان کے اڈے اور ٹارچر سیل قائم ہوگئے ہیں جہاں بھتہ وصولی اور مغوی کو نظربند رکھنے کا سلسلہ دیدہ دلیری سے جاری ہے، جرائم سے شدید متاثرہ علاقوں میں عثمان آباد، شیرشاہ، اولڈ سٹی ایریا، پرانا حاجی کیمپ، گارڈن، پاک کالونی، آئرن اینڈ اسٹیل مارکیٹ، ٹمبر مارکیٹ اور صرافہ بازار شامل ہیں، تاجروں نے بتایا کہ ڈر اور خوف کا یہ عالم ہے کہ تاجر خریدار کو بھی بھتہ خور سمجھ کر چھُپ جاتے ہیں، شہر میں جاری آپریشن کے باوجود جرائم پیشہ عناصر کا حوصلہ قائم ہے، جرائم کی ان وارداتوں میں ہر رنگ و نسل کے مجرم شامل ہیں، احمد شمسی نے واضح کیا کہ لیاری کو منظم سازش کے تحت خوف و دہشت کی وادی بنادیا گیا ہے، لیاری میں 80فیصد مجرم بیرونِ لیاری سے آکر وارداتیں کرتے ہیں،مجرم بھتے کی ڈیل کسی بھی علاقے میں کرے رقم کی وصولی لیاری میں کی جاتی ہے،انھوں نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرموں کے خلاف موت کی علامت بنادیا جائے، پولیس کے ادارے کو مزید اور جدید وسائل و نفری فراہم کی جائے، غیر رجسٹرڈ فون سمز کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے، بھتہ و اغواءبرائے تاوان کے جرائم کے خلاف مﺅثر قانون سازی کی جائے،انھوں نے کہا گواہ کی حفاظت کا قانون بھی کھٹائی میں پڑگیا ہے جس سے مدعی خوفزدہ اور مجرموں کو بھرپور فائدہ پہنچ رہا ہے۔

مزید : کامرس