ہسپتالوں سے سینئر ڈاکٹر ز غائب سیکرٹری صحت کا نوٹس

ہسپتالوں سے سینئر ڈاکٹر ز غائب سیکرٹری صحت کا نوٹس

                                                                لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت کے ٹیچنگ ہسپتالوں کے آﺅٹ ڈور ز اور ایمرجنسی وارڈ میں مریضوں کو جونیئر ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر چھوڑد یا گیا جو غریب مریضوں پر تجربات کر کے ان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں جبکہ پروفیسرز اور سینئر ڈاکٹروں نے آﺅٹ ڈورز اور ایمرجنسی وارڈوں میں مریضوں کا معائنہ کرنا مکمل طور پر بند کر دیا ہے جہاں تک کہ ہسپتالوں کی انتظامیہ پروفیسرز کو آﺅٹ ڈورز اور ایمرجنسی وارڈوں میں بھجوانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ پروفیسرز نے وارڈوں میں بیٹھنے کے اوقات کار میں بھی کمی کر دی ہے سب سے زیادہ برے حالات لاہور جنرل ہسپتال اور جناح ہسپتال کے بتائے جا رہے ہیں جہاں پروفیسرز صرف اپنے دفاتر میں چائے پانی پی کر گھروں کو چلے جاتے ہیں ایسی شکایات کا نوٹس یتے ہوئے سیکرٹر صحت نے کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس میں پروفیسرز کے ڈیوٹی اوقات کے لئے ضابطہ اخلاق طے کیا جائے گا ذرائع نے بتایا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں تعینات میڈیکل سرجیکل، آئی ، ای این ٹی، نیورو سرجری، پیڈز کے پروفیسر نے آﺅٹ ڈورز اور ایمرجنسی وارڈوں میں جانا مکمل طور پر بند کر دیا ہے ہسپتالوں کی انتظامیہ، بورڈ آف مینجمنٹ اور پرنسپلرز سینئر ڈاکٹروں اور پروفیسرز کو ہسپتالوں کے آﺅٹ ڈورز اور ایمرجنسی وارڈ میں مریضوں کے معائنہ کیلئے بھجوانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں طے شدہ ڈیوٹی شیڈول کے مطابق ہر روز اسسٹنٹ پروفیسرز سے پروفیسرز تک کے عہدوں کے لوگ اپنے یونٹ کی باری کے مطابق آﺅٹ ڈورز میں بیٹھ کر مریض دیکھنے کے پابند ہیں جبکہ ایمرجنسی میں ان کال یونٹ کے پروفیسرز کا وزٹ لازمی قرار دیا گیا ہے اس حوالے سے سیکرٹری صحت بابر حیات تارڑ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس پر نوٹس لے لیا گیا ہے پروفیسرز کے ڈیوٹی اوقات کے شیڈول مرتب کئے جائیں گے جس کے لئے ہم نے تمام سٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس میں معاملات طے کئے جائیں گے اور مشاورت سے شیڈول جاری کیا جائے گا جس پر عمل کرائیں گے پروفیسرز حکومت پنجاب کے تنخواہ دار ہیںان کا آﺅٹ ڈور مریض بھی یقینی بنا ئیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1