زرعی شعبے کی ترقی کے لئے پالیسی سازی کر رہے ہیں،بلال یاسین

زرعی شعبے کی ترقی کے لئے پالیسی سازی کر رہے ہیں،بلال یاسین

لاہور(کامرس رپورٹر)صوبائی حکومت زرعی شعبے کو بحال کرنے اور اسے غذائی ضروریات کے قابل بنانے کے لئے پالیسی سازی کررہی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری ہونے کے علاوہ کسان خو شحال ہوں اور انہیں جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی ملے یہ بات صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین کابینہ پرائس کنٹرول کمیٹی پنجاب بلال یاسین نے گزشتہ روز سول سیکرٹریٹ کمیٹی روم میں کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی رفیع راجواڑہ ، عبدالر¶ف مغل،سابق ایم پی اے حاجی نواز کے علاوہ سیکرٹری لائیوسٹاک، انڈسٹری، خوراک ، زراعت اور ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے شرکت کی اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے ٹماٹر کی سپلائی میں کمی کے باعث اس کی قیمت میں 13روپے کا اضافہ ہوا جبکہ آلو اور پیاز کی قیمتوں میں دو روپے کا اضافہ ہوااجلاس کو بتایا گیا کہ اس ضمن میں ٹماٹر انڈیا سے منگوایا جارہا ہے جس سے ٹماٹر کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ قیمتوں پر بھی کنٹرول ہوگاسیکرٹری انڈسٹریز نے بتایا کہ مرغی کے گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس پر اگلے چند دنوں میں قابو پالیا جائے گاسیکرٹری خوراک نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت نے اس سال چالیس لاکھ ٹن گندم خریداری کا ٹارگٹ رکھا ہے اور اس ضمن میں فوڈ سیکورٹی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی    سہولت بازاروں میں صارفین کی سیکورٹی کے حوالے سے صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صارفین کی سیکورٹی بارے سنجیدگی سے عملدرآمد کرایا جائے تاکہ اتوار بازاروں اور سہولت بازاروں میں صارفین کو سیکورٹی کے حوالے سے تحفظات کا خاتمہ ہو بازاروں کے قریب پارکنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائے اس طرح صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات ملنے سے بازاروں کی رونق بڑھے گی اور صارفین کا اعتماد بحال ہوگا۔صوبائی وزیر کو گزشتہ ہفتے مجسٹریل ایکشن کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اوورچارجنگ کرنے والے 7333 دکانداروں کو 67لاکھ 7ہزار250روپے جرمانہ جات جبکہ 34دکانداروںکے خلاف ایف آئی آر درج ہوئیں اور22دکانداروں کو گرفتار کیا گیا-

مزید : میٹروپولیٹن 1