ملکی معیشت کو آئی ایم ایف کے قرض سے چلایا جا رہا ہے،وسیم اختر

ملکی معیشت کو آئی ایم ایف کے قرض سے چلایا جا رہا ہے،وسیم اختر

لاہور(سپیشل رپورٹر)پارلیمانی لیڈر اور امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو امداد اور آئی ایم ایف سے قرض لے کر چلایاجارہاہے رواں سال 2013-14میں ملکی جی ڈی پی کا30فیصد قرض کی ادائیگی میں چلاجائے گااندرون ملک6کھرب 72ارب روپے کے نوٹ چھاپے گئے ہیںوزیرخزانہ اسحاق ڈار کے مطابق ان میں سے4کھرب66ارب روپے نوٹ تبادلے اور2کھرب6ارب روپے کے خالص نئے نوٹ چھاپے گئے ہیں

حکومت نے قلیل مدت میں 750ارب روپے سٹیٹ بنک سے قرض لیاہے اس ساری صورتحال سے عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے ڈالر کی قیمت میں کمی سعودی عرب سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر کے باعث ہے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی بلاشبہ خوش آئند ہے مگر اس کے اچھے اور دوررس اثرات عام لوگوں پر بھی دیکھے جانے چاہئیںعارضی بنیادوں پر بنائی جانے والی پالیسیاں ملک وقوم دونوں کے لئے نقصان کاباعث ہیںضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور ایسی حکمت عملی ترتیب دیں جن سے حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف میسرہو ڈالر کی قیمت میں کمی کے باجود پٹرولیم مصنوعات،ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیاءخوردونوش کے نرخوں میں کسی قسم کاکوئی فرق نہیں آیامہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے اور کوئی پرسان حال نہیں 40فیصد لوگ سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیںاعدادوشمار کے گورکھ دھندے سے معیشت بہتر نہیںہوسکتی مسائل جوں کے توںہیںجماعت اسلامی کے رہنماڈاکٹر سید وسیم اختر نے مزیدکہاکہ ادارے فروخت کرنے کی بجائے اہل لوگوں کے حوالے کیے جائیںکرپٹ عناصر کاقلع قمع اور میرٹ پر بھرتیاں کرکے ہی خسارے کو ختم کیاجاسکتا ہے ملک وسائل سے مالامال ہے مگر ہم پھربھی دنیامیں رسوا ہورہے ہیں                           

مزید : میٹروپولیٹن 1