صوبائی دارالحکومت میں3500زائد گیس اسٹیشن لاکھوں کیلئے مسلسل خطرہ

صوبائی دارالحکومت میں3500زائد گیس اسٹیشن لاکھوں کیلئے مسلسل خطرہ ...

                                                       لاہور(ملک خےام رفےق) صوبائی دارالحکومت میں 3500 سے زائد گیس فلنگ اسٹیشن لاکھوںشہریوں کی زندگیوں کے لئے مسلسل خطرہ بن گئے حکام بالا کا کارروائی سے مسلسل گریز ،80فیصد گیس فلنگ اسٹیشنز رہائشی علاقوں میں کام کر رہے ہیں چند دن قبل قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ میں ہونے والے گیس فلنگ اسٹیشن دھماکے نے3قیمتی جانیں لے لیں جبکہ تین افراد کو زندگی بھر کے لئے معذور کر دیا یہ واحد واقع نہیں اس سے قبل گزشتہ تین ماہ کے دوران ایک سال میں سلنڈر دھماکوں کی وجہ سے اب تک سرکاری اعدادو شمار کے مطابق صرف لاہور میں ہلاک شدہ افراد کی تعداد سات ہے مگر حکام بالا نے کبھی ان گیس فلنگ اسٹیشنز کا جائزہ نہیں لیا سرکاری محکموں میں کوالٹی کنڑول ،محکمہ انڈسٹریز،محکمہ ہیلتھ ،علاقہ پولیس کسی بھی گیس فلنگ اسٹیشن پر حفاظتی اقدامات نہ کئے جانے کے خلاف کوئی بھی ایکشن لے سکتی ہے مگر یہ تمام محکمے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں اور شہری یا کام کرنے والے مزدور حادثات کا شکار ہوکر یا تو مارے جاتے ہیں یا زندگی بھر کے لئے معذور ہو جاتے ہیں مگر حکومت کی جانب سے ان فیکٹریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں ہوتی لاہور میں سب سے زیادہ گیس فلنگ اسٹیشن بند روڈ پر کام کر رہے ہیں جن کو متعدد بار وارنگ لیٹر محکمہ ماحولیات کی جانب سے موصول ہوئے مگر ہر بار سیاسی اثرورسوخ آڑے آگیا 3500سے زائد گیس فلنگ اسٹیشنوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد 50ہزار ہے جبکہ اس کے گردونوح میں رہنے والے شہریوں کی تعداد 3لاکھ سے زائد ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1