جرائم کے خلاف قوانین کتابوں تک محدود ہو گئے ہیں ،قانونی ماہرین

جرائم کے خلاف قوانین کتابوں تک محدود ہو گئے ہیں ،قانونی ماہرین

لاہور(انوسٹی گیشن سیل) عورت کی حفاظت کے قوانین موجود ہیں لیکن حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے ہوا کی بیٹیاں نشانہ بن رہی ہیں۔اسلامی جمہوریہ لفظوں تک محدود ہو گیا ہے معاشرے کی خرابی نوجو انوں کو گمراہ کر ہی ہے۔ان خیالات کا اظہار ملک کے قانونی ماہرین نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔آئینی اور قانونی امور کے ماہر اے کے ڈوگر نے کہاکہ پاکستان پینل کوڈ اور پروٹیکشن آف وویمن جیسے قوانین موجود ہیں جن پر حکومت عملدآمد کروانے میں ناکام رہی ہے۔انڈیا اور پاکستان میں عورت کے ساتھ بد اخلاقی میں اضافہ ماحول کی خرابی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔سابق وائس چئیرمین پنجاب بار کونسل اسلم سندھو نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان لفظوں تک محدود ہو گیا ہے،ملک میں مغربی روایات اپنانے اور اسلامی اصولوں کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے خواتین کے ساتھ بد اخلاقی ،ونی اور غیرت کے نام پر قتل جیسے گھناو¿نے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ماہر قانون دان عمران ادریس بٹ نے کہاکہ ملک میں اسلامی قوانین کے لاگونہ ہونے کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔جرائم کے خلاف قوانین کتابوں تک محدود ہو گئے ہیں ،ملک میں مجرموں کو سزا دی جاتی توجرائم کی شرح اتنی زیادہ نہ ہوتی۔

قانونی ماہرین

مزید : صفحہ آخر