معیشت میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا شعبہ زراعت تنزلی کا شکار

معیشت میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا شعبہ زراعت تنزلی کا شکار

لاہور(محمد نواز سنگرا//انوسٹی گیشن سیل)معیشت میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا شعبہ زراعت دن بدن تنزلی کا شکار ہو رہا ہے۔صدر ایوب اور ذوالفقار علی بھٹو کے گرین انقلاب کے بعدزراعت پر حکومتی توجہ کم سے کم ہوتی گئی ۔ملکی معیشت میں 25فیصد آمدنی دینے والی شعبہ 21فیصد پر آگیا ہے۔ہر دور میں حکومت پاکستان نے معیشت کی مضبوطی کا نعرہ تو لگایا لیکن عملی طور پر اقدامات نہ کئے گئے جس وجہ سے انڈسٹری کو را میٹریل فراہم کرنے والا شعبہ دن بد ن بد حالی کا شکار ہو رہا ہے۔پاکستان میں قحط کی بڑی وجہ فوڈ سیکیورٹی کا نہ ہونا ہے۔پاکستان میں زرعی اجناس کی سیکیورٹی فی کس 2سے 3ماہ ہے جس وجہ سے قوم کو قحط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پچھلے 30سالوں سے زراعت کا شعبہ مزید مسائل سے دو چار ہو رہا ہے جس وجہ سے پاکستان کی معاشی حالت دب بدن بگڑ رہی ہے۔پاکستان میں پانی کا 40فیصد حصہ نہروں میں ضائع ہو جاتا ہے جو کھیتوں تک پہنچ بھی نہیں سکتا۔صدر ایوب اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعد لینڈ ریفارم نہیں لایا گیا۔ملک کے 40فیصد قابل کاشت رقبے پر ایک ہزار6افراد قابض ہیںجو مزارعوں سے کاشت کراتے ہیں۔جبکہ 40فیصد حصہ ملک میں اوسط درجے کے لوگوں کے پاس ہے جن کی ملکیت بریک ایون پوائنٹ14ایکڑسے کم ہے جس پر میکنائزئشن نہیں کی جا سکتی۔40فیصد بڑ ا لینڈ لارڈ بھی مزارعہ کے ذریعے کاشت کرتا ہے جو تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ پیداوار نہیں لے سکتا اور قرضوں کے نیچے رہتا ہے،یو ں ملک کی 80فیصد زمین ملکی آمدنی میں اضافہ نہیں کر سکتی ۔باقی 20فیصد ماڈرن طریقے سے کاشت کی جاتی ہے جس پر پاکستان دنیا میں اپنے آپ کو بڑا زرعی ملک سمجھتا ہے۔زمین کا ایک فیصد حصہ ہر سال سیم اور تھور میں چلا جا تا ہے جس کےلئے حکومت کو چھوٹی چھوٹی نہرو ں کی ضرورت ہے۔مارکیٹ تک روڈز کے نہ ہونے کی وجہ سے زرعی اجناس کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔جبکہ زرعی اجناس سے مستفید ہونے کےلئے حکومت کو فوڈ سیکیورٹی یا ایکسپورٹ سسٹم بہتر بنانا ہو گا۔کاشتکاروں کا بڑاحصہ موسم پر انحصار کرتا ہے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ریتلے علاقے سالوں سال پیداوار نہیں دے پاتے جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دنیا میں سب سے بڑے زرعی ملک امریکہ،کینیڈا،فرانس اور ہالینڈہیںجو جدید طریقوں سے زیادہ دے دیادہ پیداوار حاصل کرتے ہیںلیکن دنیا میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کےلئے وہ اپنی اجناس کا بڑاحصہ سمندروں میں ضائع کر دیتے ہیں۔

زراعت

مزید : صفحہ آخر