18 بچوں کے برطانوی باپ نے کبھی کام نہیں کیا

18 بچوں کے برطانوی باپ نے کبھی کام نہیں کیا
 18 بچوں کے برطانوی باپ نے کبھی کام نہیں کیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔


                      نیوپورٹ (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک آدمی جس کے 10 خواتین سے 18 بچے ہیں۔اس نے گزشتہ 20 سال کے دوران کبھی کام نہیں کیا،نہلے پر دہلااس نے مقامی شہری کونسل پر اس کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس الزام کی وجہ یہ ہے کہ شہری کونسل نے اسے چار بیڈروم کا مکان فراہم کیا ہے جبکہ اس کا مطالبہ ہے کہ اس کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کم از کم چھ بیڈ روم کا مکان چاہیے۔ یاد رہے کہ برطانوی قانون کے مطابق ریاست بے روزگار شہریوں کے اخراجات اٹھانے کی ذمہ دار ہے لیکن پیٹر رولف کے کیس میں شہری کونسل کا خیال ہے کہ یہ قانون کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اسے بڑا مکان دلانے پر کم از کم 3 لاکھ پاؤنڈ خرچ آئے گا اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ ایسے آدمی پر لگانا زیادتی ہوگی جو خود کوئی کام نہیں کرتا اور اس کے باوجود اس نے اس قدر تعداد میں بچے پیدا کرلئے ہیں۔ دوسری جانب رولف کا کہنا ہے کہ اس سے جوانی میں کچھ خطائیں سرزد ہوئی ہیں لیکن اب وہ سْدھر گیا ہے۔ اس کے 10 بجے اس کے ساتھ مقیم ہیں جبکہ باقی 8 سے اب اس کا رابطہ نہیں ہے۔ ایک مرتبہ بڑے مکان کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اب اس کا معاملہ اپیل میں ہے۔

مزید : صفحہ آخر